پیٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف جماعت اسلامی نے کراچی، لاہور اور پشاور میں دھرنے دے دیے، جبکہ مختلف شہروں میں جماعت اسلامی کے کارکنان نے احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے حکومت سے پیٹرولیم لیوی میں کمی کا مطالبہ کیا۔
کراچی میں جماعت اسلامی کی ریلی امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر کی قیادت میں فوارہ چوک پہنچ گئی، جہاں سے کارکنان گورنر ہاؤس کی جانب روانہ ہوئے۔ جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی کے خلاف گورنر ہاؤس سندھ کے باہر دھرنے کا اعلان کیا تھا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق احتجاج کے پیش نظر گورنر ہاؤس جانے والے راستوں پر انتظامیہ نے کنٹینرز کھڑے کردیے تھے، تاہم جماعت اسلامی کے کارکنان رکاوٹیں عبور کرتے ہوئے احتجاج کے لیے پہنچ گئے۔ گورنر ہاؤس کے قریب پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات رہی۔ دھرنے کے بعد فوارہ چوک سے پریس کلب اور آرٹس کونسل جانے والا راستہ ٹریفک کے لیے کھلا رہا۔
چاروں صوبوں میں پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے کے خلاف دھرنوں کا آغاز ہو گیا ہے ۔۔#JIDharnaAgainstBhattaLevy pic.twitter.com/iBCIdpKCfT
— Jamaat e Islami Pakistan (@JIPOfficial) August 16, 2026
لاہور میں جماعت اسلامی کے کارکنان نے مال روڈ پر فیصل چوک اور ایوان وزیراعلیٰ کے قریب دھرنا دیا، جہاں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان بھی پہنچ گئے۔ احتجاج کی قیادت امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی جاوید قصوری اور دیگر رہنماؤں نے کی۔
پشاور میں بھی جماعت اسلامی کے کارکنان نے گورنر ہاؤس کے سامنے دھرنا دیا، جس کے باعث صدر خیبرپختونخوا اسمبلی چوک تک سڑک ٹریفک کے لیے بند رہی۔ دھرنے سے جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے خطاب کیا۔
جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر بھاری لیوی عائد کرکے عوام پر اضافی مالی بوجھ ڈال رہی ہے۔ جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر نے کہا تھا کہ حکومت پیٹرولیم لیوی کی مد میں مقررہ ہدف سے تقریباً 100 ارب روپے زیادہ وصول کرچکی ہے اور ٹیکس اہداف حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد پیٹرولیم لیوی کو آمدن کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے۔
جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی کم کی جائے اور عوام کو مہنگائی کے اضافی بوجھ سے نجات دلائی جائے۔ پارٹی رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔













