رہنما پیپلزپارٹی حسن مرتضیٰ نے کہا ہے کہ ن لیگ نے اپنے اتحادیوں کو بھی معاف نہیں کیا، حقیقی ترقی کی بنیاد رکھنے والی جماعت پر بات کرنا مناسب نہیں۔
مزید پڑھیں:وفاقی اور پنجاب حکومت میں شامل ہونے کا ابھی تک اشارہ نہیں ملا، رہنما پیپلزپارٹی حسن مرتضیٰ
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حسن مرتضیٰ نے کہا کہ تکلیف اس وقت ہوئی جب یہ کہا گیا کہ ہم نے آج تک کسی کو دکھ نہیں پہنچایا، مخالفین تو دور، آپ اتحادیوں کو بھی معاف نہیں کرتے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ میثاقِ جمہوریت کے بعد جمہوریت کی مضبوطی کے لیے ن لیگ نے کیا کردار ادا کیا؟ میمو گیٹ اسکینڈل میں آپ کالا کوٹ پہن کر سپریم کورٹ پہنچے، بتائیں اس معاملے میں جمہوریت کے لیے کیا کردار ادا کیا؟
حسن مرتضیٰ نے کہا کہ 6 ماہ کے اتحاد کے بعد ن لیگ نے پیپلزپارٹی کا ساتھ چھوڑ دیا، اگر ملک کو درپیش چیلنجز اتنے بڑے تھے تو آپ نے پیپلزپارٹی کا ساتھ کیوں چھوڑا؟
انہوں نے کہا کہ پنجاب کے وزیراعلیٰ ہوتے ہوئے آپ نے ریاست مخالف جلوسوں کی قیادت کی، واپڈا کے دفاتر پر حملے کیے گئے اور آپ کے کارکن اور ارکان اسمبلی ان حملوں کی قیادت کر رہے تھے۔
حسن مرتضیٰ نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے دوران مینار پاکستان پر پنکھا لے کر بیٹھے اور عوام کو پیپلزپارٹی کا ذمہ دار قرار دیا، سوال یہ ہے کہ کیا یہ جمہوریت کی خدمت تھی؟
انہوں نے کہا کہ آج آپ کہتے ہیں کہ انتقامی کارروائیاں نہیں کرتے، پنجاب میں ہمارا لا اینڈ آرڈر مثالی ہے، اپنے اعداد و شمار دیکھیں۔
رہنما پیپلزپارٹی نے کہا کہ 2024 میں گھریلو تشدد کے 561 مقدمات درج ہوئے، مگر ایک مقدمے میں بھی سزا نہیں ہوئی۔
حسن مرتضیٰ کے مطابق لاہور میں خواتین کے اغوا کے 4510 مقدمات درج ہوئے، لیکن صرف 5 ملزمان کو سزا ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ جہاں خواتین کی حکومت ہے، وہاں خواتین کے تحفظ کی صورتحال بھی دیکھیں، اپنی پراسیکیوشن اور نظامِ عدل کی کارکردگی کا جائزہ لیں۔
حسن مرتضیٰ نے کہا کہ جس نظامِ عدل کی خدمات کا دعویٰ کرتے ہیں، اس کی کارکردگی بھی دیکھیں۔














