پاکستان کی بجٹ شفافیت 2 سال میں 50 فیصد بہتر، اسکور 30 سے بڑھ کر 45 ہوگیا

پیر 17 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مشیر خزانہ خرم شہزاد نے کہا ہے کہ پاکستان کی بجٹ شفافیت میں صرف 2 سال کے دوران نمایاں بہتری آئی ہے اور آزادانہ طور پر کیے گئے جائزے کے مطابق ملک کا بجٹ شفافیت اسکور 2023 کے 30/100 سے بڑھ کر 2025 میں 45/100 ہوگیا ہے، جو 2 سال میں 50 فیصد بہتری ہے۔

ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ پیشرفت مالیاتی کھلے پن، عوامی رسائی اور احتساب میں نمایاں اور آزادانہ طور پر تصدیق شدہ بہتری کی عکاسی کرتی ہے۔ انٹرنیشنل بجٹ پارٹنرشپ کے اوپن بجٹ سروے 2025 میں پاکستان کا اسکور 45 ریکارڈ کیا گیا، جو عالمی اوسط 45 کے برابر ہے۔

اہم علاقائی ممالک سے پاکستان کی پوزیشن بہتر

خرم شہزاد کے مطابق پاکستان کا بجٹ شفافیت اسکور 45 ہے، جبکہ بھارت 44، سری لنکا 43، بنگلہ دیش 37، نائجیریا 24 اور چین 19 کے اسکور پر ہیں۔

ان کے مطابق پاکستان کی بہتری ان شعبوں میں بھی وسیع بنیادوں پر سامنے آئی ہے جن کی نشاندہی اوپن بجٹ سروے 2023 میں بہتری کے لیے کی گئی تھی۔

ایگزیکٹو بجٹ پروپوزل کا اسکور 43 سے 57 ہوگیا

خرم شہزاد کے مطابق ایگزیکٹو بجٹ پروپوزل کا اسکور 43 سے بڑھ کر 57 ہوگیا، یعنی اس میں 14 پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔

انیکٹڈ بجٹ کا اسکور 33 سے بڑھ کر 50 ہوگیا، جس میں 17 پوائنٹس کی بہتری ہوئی۔

انہوں نے کہاکہ اسی طرح سال کے اختتام کی رپورٹ، جو پہلے تاخیر سے شائع ہوتی تھی، اب 52 کے اسکور تک پہنچ گئی ہے، جو بڑی بہتری ہے۔

خرم شہزاد نے بتایا کہ عوامی شرکت کے اسکور میں بھی اضافہ ہوا اور یہ 15 سے بڑھ کر 22 ہوگیا، یعنی 7 پوائنٹس کی بہتری ریکارڈ کی گئی۔

ان کے مطابق یہ وہ ترجیحی شعبے تھے جن کی نشاندہی انٹرنیشنل بجٹ پارٹنرشپ نے 2023 میں کی تھی، جن پر سفارشات کے مطابق عمل کیا گیا اور اس کے نتیجے میں قابل پیمائش بہتری سامنے آئی۔

سالانہ رپورٹ کی بروقت آن لائن اشاعت کو تسلیم کیا گیا

خرم شہزاد کے مطابق انٹرنیشنل بجٹ پارٹنرشپ نے سال کے اختتام کی رپورٹ کی بروقت آن لائن اشاعت اور ایگزیکٹو بجٹ پروپوزل میں زیادہ جامع معلومات کی فراہمی کو خصوصی طور پر تسلیم کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوامی شرکت کا اسکور 15 سے بڑھ کر 22 ہوا، جس کے بعد پاکستان عالمی اوسط 17 اور ایشیا پیسیفک کی اوسط 18، دونوں سے آگے نکل گیا۔

ان کے مطابق ان اسکورز کے پیچھے بجٹ سازی کو زیادہ قابل رسائی اور شراکتی بنانے کی وسیع تر کوششیں کارفرما ہیں، جن میں واضح ابلاغ، زیادہ وسیع اسٹیک ہولڈر مشاورت، بجٹ سے پہلے اور بعد میں مشاورت اور پارلیمانی شمولیت شامل ہیں۔

’بجٹ شفافیت سے احتساب اور عوامی اعتماد مضبوط ہوتا ہے‘

خرم شہزاد نے کہاکہ سمت واضح ہے، بروقت رپورٹنگ سے زیادہ مکمل معلومات، وسیع تر مشاورت، بہتر عوامی رسائی، زیادہ شرکت اور مضبوط احتساب کی جانب پیش رفت ہوتی ہے۔

ان کے مطابق یہ سمت امریکی محکمہ خارجہ کے حالیہ مالیاتی شفافیت کے جائزے سے بھی مزید تقویت پاتی ہے، جس میں پاکستان کے مالیاتی فریم ورک کی اہم مضبوطیوں کو تسلیم کیا گیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے جائزے میں پاکستان کے مالیاتی فریم ورک کی مضبوطیاں

خرم شہزاد نے کہا کہ امریکی محکمہ خارجہ کے جائزے میں پاکستان کے مالیاتی نظام کے حوالے سے متعدد مثبت پہلوؤں کو تسلیم کیا گیا ہے، جن میں منظور شدہ بجٹ اور سال کے اختتام کی رپورٹ تک وسیع پیمانے پر عوامی رسائی، منصوبہ بند آمدنی اور اخراجات سے متعلق خاطر خواہ حد تک مکمل معلومات کی فراہمی، عمومی طور پر قابل اعتماد بجٹ معلومات، عوامی نتائج کے ساتھ آزادانہ آڈٹ کی مؤثر نگرانی، قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والی آمدنی اور عوامی خریداری کے لیے شفاف فریم ورک، جبکہ خودمختار دولت فنڈ کے لیے مضبوط قانونی فریم ورک شامل ہیں۔

بجٹ شفافیت کیوں اہم ہے؟

خرم شہزاد کے مطابق بجٹ شفافیت احتساب، ادارہ جاتی ساکھ اور عوامی اعتماد کو مضبوط کرتی ہے، کیونکہ اس کے ذریعے پارلیمنٹ، شہریوں، کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں کو یہ جاننے کے لیے زیادہ واضح معلومات ملتی ہیں کہ عوامی وسائل کیسے حاصل کیے جاتے ہیں، کہاں خرچ ہوتے ہیں اور ان کا حساب کیسے رکھا جاتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان زیادہ بروقت، جامع اور قابل رسائی مالیاتی معلومات کے ذریعے اس پیش رفت کو مزید آگے بڑھاتا رہے گا، جبکہ عوامی اور پارلیمانی شرکت کو بھی مزید مضبوط کیا جائے گا۔

30 سے 45 تک کا سفر، شفافیت سے اعتماد تک

خرم شہزاد نے کہاکہ سفر جاری ہے، تاہم پیش رفت قابل پیمائش، نمایاں اور آزادانہ طور پر تصدیق شدہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بجٹ شفافیت کا اسکور 2 سال میں 30 سے بڑھ کر 45 ہوگیا، جو 50 فیصد بہتری ہے۔

ان کے مطابق شفافیت سے احتساب، احتساب سے ساکھ اور ساکھ سے اعتماد پیدا ہوتا ہے۔

خرم شہزاد نے کہا کہ زیادہ شفافیت، مضبوط ادارے اور زیادہ ساکھ ہی آگے بڑھنے کی سمت ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp