امریکی دباؤ کے مقابلے میں ایران کا روس اور چین سے تعلقات مضبوط بنانے پر زور

جمعرات 20 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف معاشی دباؤ بڑھانے کے اعلان کے بعد تہران نے روس اور چین کے ساتھ مالی، سیاسی اور دفاعی روابط مزید مضبوط بنانے کی کوششیں تیز کردی ہیں۔ امریکی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران امریکی پابندیوں سے بچنے کے لیے غیر مغربی ممالک اور متبادل مالیاتی نظاموں میں اپنا انحصار بڑھا رہا ہے۔

فاکس نیوز کی رپورٹ کے مطابق فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز کے ایران پروگرام کے سینئر ڈائریکٹر بہنام بن طالب لو کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت اپنی بقا کے لیے بدلتے حالات کے مطابق خود کو ڈھال رہی ہے اور روس و چین کے ساتھ تعلقات کا فروغ اسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

ان کے مطابق تہران کو امریکی اور اسرائیلی فوجی دباؤ کے ساتھ ساتھ واشنگٹن کی جانب سے بڑھتے ہوئے سیاسی و اقتصادی دباؤ کا بھی سامنا ہے، جس کے جواب میں ایران روس اور چین کے ساتھ زیادہ مضبوطی سے جڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برکس اور شنگھائی تعاون تنظیم ایران کے لیے اہم پلیٹ فارم بن چکے ہیں۔ ایرانی مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی نے رواں ماہ کہا تھا کہ ایران جلد برکس کے نیو ڈیولپمنٹ بینک کا رکن بن جائے گا، تاہم بینک نے ایران کی رکنیت کی تصدیق نہیں کی۔

دوسری جانب روس کے ساتھ ایران کا فوجی تعاون بھی بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ فاکس نیوز نے این بی سی نیوز کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ روس بحیرہ کیسپین کے راستے ایران کو گولہ بارود، ڈرونز کے پرزے اور ٹی این ٹی فراہم کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ معلومات ایک یورپی حکومت کی دستاویز کی بنیاد پر سامنے آئی ہیں۔

ادھر صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف اپنی نئی پالیسی کو سخت ترین معاشی دباؤ قرار دیتے ہوئے ایران کو معاشی سہارا دینے والے ممالک اور کاروباری اداروں کے خلاف بھی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بڑھتی امریکی پابندیوں کے باعث ایران روس اور چین کے ساتھ اقتصادی و دفاعی تعاون مزید بڑھا سکتا ہے، جس سے خطے میں امریکا اور اس کے مخالف ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp