امریکا کی جانب سے ایران پر کی جانے والی اب تک کی سب سے سخت ترین اقتصادی پابندیوں کے باضابطہ اعلان سے قبل عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو پھر ’نیا امریکی علاقہ‘ قرار دے دیا، ایران کا سخت ردعمل
امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 1.62 فیصد کمی کے بعد 85.65 ڈالر فی بیرل پر آ گئی جبکہ برینٹ کروڈ (بین الاقوامی معیار) 1.38 فیصد کمی کے بعد 93.09 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا۔
امریکی اعلان اور سخت کارروائی کی دھمکی
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کی جانب سے ایران کے خلاف پابندیوں کا ایک نیا اور سخت پیکج پیش کیا جا رہا ہے۔ اسکاٹ بیسنٹ نے سوشل میڈیا پر بیان دیتے ہوئے اسے کسی بھی حریف کے خلاف تاریخ کا سب سے بڑا مالیاتی اقدام قرار دیا ہے۔
امریکا کا مقصد ان سخت ترین پابندیوں کے ذریعے ایرانی معیشت کو شدید نقصان پہنچانا اور عالمی برادری کو تہران سے تجارتی تعلقات ختم کرنے پر مجبور کرنا ہے۔
مزید پڑھیے: ٹرمپ کی ایران کیخلاف معاشی جنگ تیز کرنے کی تیاری، تہران نے جوابی کارروائی کی دھمکی دے دی
یہ پیشرفت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے ایران کو غیر معمولی معاشی تنہائی اور کرشنگ اقتصادی کارروائی کی دھمکی دی تھی۔
ایران کا مؤقف
دوسری جانب ایران نے امریکی دھمکیوں کو مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق، پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ تہران کے پاس دشمن کی معاشی جنگ سے نمٹنے کے تمام طریقے موجود ہیں اور وہ دیگر ممالک کے ساتھ آسانی سے اپنے تجارتی تعلقات قائم رکھ سکتا ہے۔
ماہرین کا تجزیہ
کامن ویلتھ بینک آف آسٹریلیا کے تجزیہ کاروں کے مطابق سنہ 2026 کے دوسرے نصف میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ برقرار رہے گا۔
بینک کا اندازہ ہے کہ اس عرصے میں برینٹ کروڈ کی قیمت 70 سے 100 ڈالر فی بیرل کے درمیان رہ سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: کینیڈا کے ساتھ ریاست جیسا سلوک ختم، اب 50 فیصد ٹیرف لگے گا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز سے تیل کی فراہمی معمول کے مطابق بحال رہتی ہے تو عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں مزید کم ہو سکتی ہیں۔













