امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران مزید فوجی کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران جنگ اس وقت راستے میں آنے والی ایک معمولی رکاوٹ ہے، جبکہ تہران نے امریکی دباؤ کے سامنے جھکنے سے انکار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ جو ممالک ایران کے خلاف امریکی معاشی جنگ میں شریک ہوں گے، ان کے مفادات کو بھی نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے تازہ بیان میں ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تہران ڈیل چاہتا ہے، تاہم وہ ’درست ڈیل‘ کے لیے تیار نہیں۔ انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ اگر ضرورت پڑی تو کیا ایران پر مزید بمباری کی جائے۔ ان کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن سفارتی دباؤ کے ساتھ فوجی آپشن بھی برقرار رکھے ہوئے ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران جنگ کی کوریج پر تنازع، پینٹاگون نے ’اسٹارز اینڈ اسٹرائپس‘ کے سربراہان کو نکال دیا
الجزیرہ کے مطابق ایران کے سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے انتہائی سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران امریکی معاشی دباؤ کا مقابلہ کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف معاشی جنگ میں شریک ہونے والے ممالک کو دشمن سمجھا جائے گا اور ان کے مفادات کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔
رضائی نے خبردار کیا کہ اگر خطے کے ممالک امریکا کی معاشی مہم میں تعاون کرتے ہیں تو ایران خلیج سے تیل کی ترسیل کے متبادل راستوں کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی نقل و حمل روکنے کی دھمکی بھی دہرائی۔
NEW: President Trump says Iran is "coming around" as his administration prepares to unleash a new wave of economic pressure on Tehran.
"They are now coming around because there's not much they can say when a country doesn't have any longer a Navy and Air Force," Trump says,… pic.twitter.com/PdmOzN96k0
— Fox News (@FoxNews) August 22, 2026
ایرانی عہدیدار نے کہا کہ تہران جنگ کو پھیلانا نہیں چاہتا، تاہم اپنے خلاف معاشی یا عسکری دباؤ کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق امریکا یہ سمجھتا تھا کہ ایران پر چند روز کے دباؤ کے بعد جنگ ختم ہوجائے گی، لیکن موجودہ صورت حال نے اس اندازے کو غلط ثابت کردیا۔
رائٹرز کے مطابق ایران کی جانب سے یہ دھمکیاں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب آبنائے ہرمز میں جہازرانی پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ تاہم حالیہ دنوں میں ایران نے عراق کے بعض آئل ٹینکروں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی خصوصی اجازت بھی دی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران مکمل بندش کے بجائے مخصوص حالات میں محدود آمدورفت کی اجازت دے رہا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے ایران پر اقتصادی دباؤ مزید بڑھانے کا عندیہ دیا ہے اور اسے غیر معمولی سطح کی معاشی کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف ایرانی قیادت میں جنگ کے خاتمے اور مذاکرات کی آوازیں بھی سامنے آئی ہیں، تاہم سخت گیر حلقے امریکا کے سامنے کسی بڑی رعایت کے مخالف دکھائی دیتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورت حال میں اصل خطرہ یہ ہے کہ امریکی معاشی دباؤ اور ایرانی ردعمل ایک دوسرے کو مزید سخت کرتے جائیں، جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز، عالمی تیل کی ترسیل اور خطے کی معیشت پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔













