وی نیوز کے پروگرام ’وی اینڈ یو‘ میں گفتگو کرتے ہوئے سینیئر وکلا نے سپریم کورٹ کے 18 اگست کے حکمنامے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہاکہ جیل رولز کے تحت کسی بھی قیدی کو پرائیویٹ علاج معالجے کی سہولت حاصل نہیں ہوتی اور وہ صرف سرکاری اسپتال سے علاج کرا سکتا ہے۔ ہاں اگر کوئی پیچیدہ مرض ہو جس کا علاج دستیاب نہ ہو تو پھر یہ استثنٰی دیا جا سکتا ہے۔
سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے 18 اگست کو وفاقی حکومت کو ایک حکمنامہ جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ بانی پاکستان تحریکِ اِنصاف عمران خان کو علاج کی غرض سے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے، جہاں ڈاکٹروں کا ایک بورڈ ان کی صحت کا جائزہ لے اور علاج تجویز کرے۔
قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے، ہارون الرشید
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ہارون الرّشید نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اس طرح کی اگر کوئی نظیر ہے تو قانون سب کے لیے برابر ہوتا ہے۔ قانون میں خاص آدمی تو کوئی بھی نہیں ہوتا، اگر ایک آدمی کو یہ ریلیف دیا گیا ہے تو سب کو دینا پڑے گا۔
انہوں نے کہاکہ اس طرح کا ریلیف یا تو سب کو دینا چاہیے یا سب کو نہیں دینا چاہیے۔
جیل اسپتال میں سہولیات نہ ہوں تو عدالتی حکم پر عملدرآمد ضروری ہے، سید واجد علی گیلانی
اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر واجد علی گیلانی نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ جیل اسپتال میں اگر علاج کی سہولیات مکمل نہیں ہیں، اور ایسی صورت میں سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ اگر کوئی حکمنامہ جاری کرتی ہے تو حکومت کو اس پر عملدرآمد کرنا پڑتا ہے ورنہ توہینِ عدالت ہو جاتی ہے۔ علاج ہر انسان کا حق ہے اور جیل مینوئل کے مطابق جیل سپرنٹنڈنٹ خود بھی نجی اسپتال منتقل کر سکتا ہے۔
جیل اسپتال میں سہولت نہ ہو تو نجی اسپتال منتقل کیا جا سکتا ہے، امجد اقبال قریشی
سپریم کورٹ کے سیینئر وکیل امجد اقبال قریشی ایڈووکیٹ نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ قیدی کا پہلے تو جیل میں علاج کیا جاتا ہے، لیکن اگر ڈاکٹر یہ لکھ دیتا ہے کہ بیماری اِس نوعیت کی ہے کہ اِس کا علاج جیل میں نہیں ہو سکتا تو اُس صورت میں قیدی کو پرائیویٹ میں نہیں سرکاری اسپتال میں علاج کے لیے بھیجا جاتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ جیل میں قید شخص کے لیے کوئی گنجائش نہیں کہ اس کا پرائیویٹ اسپتال میں علاج کرایا جائے۔
جو ٹرینڈ سیٹ کیا جارہا ہے یہ درست نہیں، طلعت عباس خان
سینیئر وکیل سپریم کورٹ طلعت عباس خان نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ جیل مینوئل میں ایسی گنجائش نہیں۔ ابھی تو تین لوگوں نے پرائیویٹ اسپتال سے علاج کے لیے درخواستیں دی ہیں، یہ درخواستیں 3 ہزار سے بڑھ سکتی ہیں۔ بے شمار قیدی ہیں لیکن یہ جو ٹرینڈ سیٹ کیا جا رہا ہے یہ درست نہیں۔
رولز کے تحت نجی اسپتال میں علاج کی اجازت نہیں ہے، ساجد بیگ ایڈووکیٹ
ہائیکورٹ کے وکیل ساجد بیگ ایڈووکیٹ نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ جیل رولز کے تحت نجی اسپتال میں علاج کی اجازت نہیں۔ وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے حکمنامے کے خلاف نظرِثانی درخواست دائر کی ہے اب دیکھیں اس پر کیا فیصلہ آتا ہے کیونکہ اس سے پہلے اس طرح کی کوئی نظیر موجود نہیں، اگر یہ نظیر قائم ہوگئی تو سب قیدیوں کا حق بن جائے گا۔
نجی اسپتال میں علاج کی نظیر بن گئی تو بہت سے لوگ ریلیف لینا شروع کردیں گے، آصف اکرام
آصف اکرام ایڈووکیٹ نے کہاکہ علاج معالجہ بنیاد حق ہے لیکن پرائیویٹ اسپتال کا قانون میں موجود نہیں۔ یہ نظیر بن جائے تو بہت سے لوگ یہ ریلیف لینا شروع کر دیں گے۔













