برطانیہ میں جاری کردہ تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایسے نوجوان جو ملازمت یا تعلیم سے وابستہ نہیں ہیں ان کی تعداد بالآخر 10 لاکھ سے نیچے آ گئی ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مثبت تبدیلی کے باوجود برطانیہ میں نوجوانوں کی بے روزگاری کا مسئلہ اب بھی تشویشناک ہے۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ کے اہم ہوائی اڈے بڑے سائبر حملے کی زد میں: لاکھوں مسافروں کا ڈیٹا ہیکرز کے ہاتھ لگ گیا
رواں سال کے پہلے 3 ماہ میں نوجوانوں (16 سے 24 سال) کی بے روزگاری سنہ 2012 کے بعد سے اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی۔
آفس فار نیشنل اسٹیٹسٹکس کے مطابق سالانہ بنیادوں پر مجموعی طور پر 30 ہزار نوجوانوں کا اضافہ ہوا، جس میں 25 ہزار مرد اور 4 ہزار خواتین شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق سالانہ معاشی ترقی اور کمپنیوں کے منافع بخش ہونے کے باوجود ادارے نئی بھرتیوں سے گریزاں ہیں۔ بعض انٹری لیول اور انتظامی عہدوں پر آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال کو بھی نوجوانوں کی ملازمتوں میں رکاوٹ قرار دیا جا رہا ہے۔
کورونا وائرس اور ذہنی صحت
کوویڈ 19 کی وبائی بیماری کے بعد 16 سے 24 سال کے نوجوانوں میں ملازمت سے دوری کی شرح یورپ میں سب سے زیادہ رہی ہے۔
وبائی دور میں تعلیم میں تعطل کے باعث نوجوانوں میں ذہنی صحت کے مسائل میں اضافہ بھی ایک بڑی وجہ بتایا گیا ہے۔
حکومتی اور تدارکی اقدامات: صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے برطانوی حکومت نے سابق وزیرِ صحت ایلن ملبرن کو ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ نوجوانوں کی تعلیم، تربیت اور روزگار کے شعبوں میں بہتری کے لیے سفارشات مرتب کریں۔
مزید پڑھیے: برطانیہ: شام 6 بجے کے بعد 15 سال سے کم عمر بچوں کے بس سفر پر پابندی، کس کو کس سے خطرہ؟
ٹریڈز یونین کانگریس کے جنرل سیکریٹری پال نوواک کا کہنا تھا کہ تقریباً 10 لاکھ نوجوانوں کا روزگار سے محروم ہونا ایک بڑا بحران ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ معیارِ روزگار، تربیتی نشستوں میں اضافہ اور معاشی بہتری ہی اس مسئلے کا پائیدار حل ہے۔













