جنوبی خیبر پختونخوا میں ریاستی رِٹ کی بحالی، متوازی طاقت کے مراکز کے خلاف فیصلہ کن کارروائی

ہفتہ 29 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جنوبی خیبر پختونخوا میں بنوں اور لکی مروت میں خود ساختہ ’پولیس امن کمیٹیوں‘ کے نام پر قائم کیے گئے متوازی طاقت کے مراکز کے خلاف ریاستی اداروں نے مربوط اور فیصلہ کن کارروائی کرتے ہوئے قانون کی بالادستی اور ریاستی رِٹ بحال کردی۔

ابتدائی طور پر ان کمیٹیوں کا مقصد قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت اور علاقے میں امن و استحکام کی بحالی میں مدد فراہم کرنا تھا، تاہم بعد ازاں برطرف کیے گئے پولیس اہلکاروں اور جرائم پیشہ عناصر کے ایک گروہ نے ان ڈھانچوں کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتے ہوئے متوازی اتھارٹی قائم کرنے کی کوشش کی۔ خیبر پختونخوا حکومت اور ریاستی اداروں نے صورتحال کا بروقت نوٹس لیتے ہوئے جرگوں، انتظامی و قانونی اقدامات اور عوامی سطح پر آگاہی کے ذریعے ان غیر قانونی نیٹ ورکس کو ختم کرنے کی حکمت عملی اختیار کی۔

ریجنل کشیدگی کم کرنے کے لیے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کی قیادت میں حکومت نے مقامی عمائدین، قبائلی مشران اور بااثر شخصیات سے رابطے کیے اور منظم جرگے منعقد کیے۔ منتخب نمائندوں، جن میں ارکان قومی اسمبلی اور ارکان صوبائی اسمبلی شامل ہیں، نے بھی صورتحال کو قابو میں رکھنے اور عوام کو قانون شکن عناصر سے دور رہنے کی ترغیب دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس رابطہ کاری کے نتیجے میں مقامی آبادی کو ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑا رکھنے اور کشیدگی میں کمی لانے میں مدد ملی۔

یہ بھی پڑھیں:بنوں میں قاری راشد کے قتل کا الزام پولیس امن کمیٹی پر، لواحقین کا تحقیقات اور کارروائی کا مطالبہ

ریاستی اداروں نے انتظامی اور قانون نافذ کرنے کے محاذ پر بھی واضح عزم کا مظاہرہ کیا۔ آئی جی خیبر پختونخوا اور ریجنل پولیس افسر بنوں کی جانب سے ضروری محکمانہ کارروائیاں کی گئیں، جن میں تبادلے، اہم عناصر کی گرفتاری اور مرکزی کردار ادا کرنے والے افراد کے خلاف ایف آئی آرز کا اندراج شامل ہے۔ مزید شہری بدامنی روکنے اور اہم سرکاری تنصیبات کے تحفظ کے لیے فیڈرل کانسٹیبلری کے اہلکاروں کو بھی خطے میں اہم سرکاری عمارتوں اور تنصیبات کی حفاظت پر مامور کیا گیا۔

ریاستی مؤقف کے مطابق خود ساختہ امن کمیٹیوں کا ایک نمایاں حصہ ایسے افراد پر مشتمل تھا جنہیں سابق آئی جی خیبر پختونخوا اختر حیات خان کے دور میں بدعنوانی، بدسلوکی اور دہشتگرد نیٹ ورکس سے مبینہ روابط کے باعث محکمہ پولیس سے برطرف کیا گیا تھا۔ ان عناصر نے امن و امان میں مدد دینے کے بجائے مختلف مقامات پر غیر قانونی چیک پوسٹیں قائم کرکے مبینہ طور پر شہریوں سے بھتہ وصول کیا، ممنوعہ اور جدید اسلحہ اپنے پاس رکھا اور مخالف عناصر کے لیے مخبری کا کردار ادا کیا۔ یوں یہ گروہ عوامی خدمت کے نام پر مسلح جرائم پیشہ نیٹ ورک کی شکل اختیار کرگئے۔

ان گروہوں کے طرز عمل سے پیدا ہونے والے خطرے کی سنگینی بعض افسوسناک واقعات سے بھی واضح ہوئی۔ ان میں سابق کانسٹیبل وحید اللہ کے ہاتھوں چھٹی جماعت کے ایک بچے کا مبینہ طور پر بہیمانہ قتل اور آن لائن اختلافِ رائے کا اظہار کرنے والے کانسٹیبل داور خان کو تشدد کا نشانہ بنانا شامل ہے۔ ان واقعات نے ظاہر کیا کہ غیر مجاز گروہ خوف و ہراس پیدا کرنے، پولیس کے باقاعدہ کمانڈ سسٹم کو چیلنج کرنے اور ریاستی اختیار کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

ریاستی اداروں نے ان عناصر کی جانب سے سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائے جانے والے مبینہ گمراہ کن پروپیگنڈے کا بھی مقابلہ کیا۔ ان کے زیر استعمال ڈیجیٹل ذرائع اور سوشل میڈیا سرگرمیوں کو محدود کرنے کے ساتھ ساتھ عوام کو ان گروہوں کی مبینہ مجرمانہ سرگرمیوں سے آگاہ کرنے کے لیے متبادل بیانیہ پیش کیا گیا۔ اس حکمت عملی کا مقصد غلط معلومات کا تدارک اور عوام کو ریاستی کارروائی کے پس منظر سے آگاہ رکھنا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:صوبائی حکومت کی کمزور گرفت، بنوں اور لکی مروت میں پولیس امن کمیٹیاں بے امنی اور جرائم کی سرپرست بن گئیں

بنوں اور لکی مروت کے شہری طویل عرصے سے سیکیورٹی کے مسائل کا سامنا کرتے رہے ہیں اور ان کے لیے ضروری ہے کہ علاقے میں ایک ہی قانونی اور بااختیار نظام حکومت موجود ہو، نہ کہ مسلح گروہوں یا متوازی مراکز اقتدار کا مقابلہ۔ ریاستی کارروائی کے حامی حلقوں کے مطابق غیر منظم اور غیر قانونی عناصر کے خلاف فوری اقدامات سے یہ واضح ہوا ہے کہ کسی نجی ملیشیا، مسلح گروہ یا خود ساختہ چوکی کو سرکاری کمانڈ سے باہر کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

صورتحال سے نمٹنے کے لیے ریاستی اداروں، انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوامی نمائندوں کے درمیان مربوط تعاون نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ جرگوں کے ذریعے کشیدگی میں کمی، قانونی کارروائی کے ذریعے جواب دہی، اہم تنصیبات کا تحفظ اور عوامی سطح پر آگاہی کے اقدامات نے مل کر متوازی طاقت کے ڈھانچوں کو ختم کرنے میں مدد دی۔

ریاستی حکمت عملی کا بنیادی مقصد جنوبی خیبر پختونخوا میں امن و امان، شہریوں کے تحفظ اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا ہے۔ اس کارروائی کے ذریعے یہ پیغام بھی دیا گیا ہے کہ ریاستی اختیار کے متوازی کوئی مسلح یا غیر قانونی طاقت کا مرکز قائم نہیں ہونے دیا جائے گا اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائی جاری رکھی جائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وزیر داخلہ محسن نقوی کا کراچی پاسپورٹ آفس اور ایئرپورٹ کا دورہ، سہولیات میں اضافے کا اعلان

افریقہ کی منڈیوں میں داخلے کا سنہری موقع، یوگنڈا کی پاکستان کو 25 سال تک ٹیکس چھوٹ سرمایہ کاری کی پیشکش

صومالی قزاقوں کو تاوان ادا نہیں کریں گے، پاکستان عالمی قوانین کا پابند ہے، اسحاق ڈار

ملک کے مختلف علاقوں میں 30 اگست سے 4 ستمبر تک بارشوں کی پیشگوئی، الرٹ جاری

وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی کا بند راستے کھولنے اور انٹرنیٹ سروس کی بحالی کا اعلان، گرین بس سروس کا افتتاح کردیا

ویڈیو

زینب اور فاطمہ کو بی ایل اے نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا، وزیر داخلہ بلوچستان ضیا لانگو کی متاثرہ خواتین کے ہمراہ پریس کانفرنس

میڈیا طلبہ کی عملی تربیت، وی نیوز میں انٹرن شپ مکمل ہونے پر تقریب

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں