خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں سے تعلق رکھنے والے قاری راشد کے مبینہ اغوا اور قتل کے خلاف لواحقین نے مقتول کی میت ایمبولینس میں رکھ کر بنوں پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا اور پولیس امن کمیٹی پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔
لواحقین کے مطابق قاری راشد کو 27 جولائی 2026 کو اس وقت کچہری کے سامنے سے اٹھایا گیا جب وہ عدالتی سماعت کے لیے وہاں موجود تھا۔ اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ قاری راشد کو پولیس امن کمیٹی کے ارکان نے لکی مروت منتقل کیا، جہاں بعد ازاں مبینہ طور پر مخالف فریق کے کہنے پر اسے قتل کردیا گیا۔
مزید پڑھیں: پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا پولیس ترمیمی ایکٹ 2024 کالعدم قرار دیدیا
لواحقین نے الزام عائد کیا کہ قاری راشد کے اغوا کے لیے پولیس امن کمیٹی کو اس کے مخالف فریق کی جانب سے 90 لاکھ روپے دیے گئے تھے۔
ان کے مطابق پولیس امن کمیٹی نے مقتول کے بھائی کو یقین دہانی کرائی تھی کہ قاری راشد کو رہا کردیا جائے گا، تاہم بعد میں مبینہ طور پر رقم لے کر اسے مخالفین کے حوالے کردیا گیا۔
لکی مروت سے قاری راشد کی لاش برآمد
لواحقین کے مطابق قاری راشد کی لاش 23 اگست 2026 کو لکی مروت کے تھانہ تجوڑی کی حدود میں ملنگ اڈا، آبپاشی کالونی کے قریب سے برآمد ہوئی۔
مقتول کے اہل خانہ نے پولیس امن کمیٹی کی کور کمیٹی سے بھی واقعے پر جواب طلب کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قاری راشد کے اغوا اور قتل کے تمام پہلوؤں کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
پولیس امن کمیٹی پر شہریوں کی دشمنیوں میں فریق بننے کا الزام
اہل علاقہ نے الزام عائد کیا ہے کہ نام نہاد پولیس امن کمیٹی امن کے قیام کے بجائے شہریوں کی باہمی دشمنیوں میں فریق بن کر مبینہ طور پر غیر قانونی سرگرمیوں کو فروغ دے رہی ہے۔
لواحقین کے مطابق معطل پولیس اہلکاروں پر مشتمل یہ گروہ امن کے نام پر شہریوں کو مبینہ طور پر اٹھانے، ان پر دباؤ ڈالنے اور اپنے غیر قانونی مفادات پورے کرنے میں ملوث ہے۔
مقامی افراد نے کہاکہ بھتہ خوری، اسمگلنگ یا دیگر غیر قانونی مقاصد کے لیے شہریوں کو نقصان پہنچانے والے عناصر کو امن کمیٹی کا نام دے کر قانون سے بالاتر نہیں کیا جاسکتا۔
لواحقین کا کہنا ہے کہ قاری راشد کا قتل پولیس امن کمیٹی کے مبینہ غیر قانونی کردار اور اختیارات کے ناجائز استعمال سے متعلق ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔
اسد یار کے قتل کا حوالہ بھی دے دیا گیا
مقامی افراد نے بتایا کہ اس سے قبل مئی 2026 میں بھی بنوں کے علاقے گمبڑ سے تعلق رکھنے والے شہری اسد یار کو مبینہ طور پر پولیس امن کمیٹی نے قتل کردیا تھا۔
اسد یار کے لواحقین کی جانب سے بھی پولیس امن کمیٹی کے خلاف شدید احتجاج کیا گیا تھا۔
لواحقین نے ریاستی اداروں سے مطالبہ کیا کہ پولیس امن کمیٹی کے تمام مبینہ غیر قانونی اقدامات کی تحقیقات کی جائیں اور جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔
انہوں نے کہاکہ امن کے نام پر شہریوں کی جان و مال سے کھیلنے والوں کو کسی صورت امن کا محافظ قرار نہیں دیا جاسکتا۔
لکی مروت پولیس لائنز میں محفل اور لاکھوں روپے لٹانے کے الزامات
دوسری جانب پولیس امن کمیٹی سے متعلق ایک اور معاملہ بھی سامنے آیا ہے، جس میں 22 اور 23 اگست کی درمیانی شب لکی مروت پولیس لائنز میں نجی موسیقی کی محفل اور مبینہ طور پر لاکھوں روپے کی سرعام ویلیں کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق پولیس امن کمیٹی کے ارکان کی جانب سے پولیس لائنز میں محفل کا انعقاد کیا گیا، جس کی سربراہی پولیس امن کمیٹی کے سربراہ اور معطل کانسٹیبل خالد خان نے کی۔
محفل کے دوران مبینہ طور پر بڑی مقدار میں نقد رقم سرعام لٹائی گئی اور یہ سرگرمی رات بھر پولیس لائنز میں جاری رہی۔ اس معاملے نے پولیس کے نظم و ضبط اور سرکاری احاطے کے استعمال سے متعلق سوالات پیدا کردیے ہیں۔
معطل کانسٹیبل کے پاس لاکھوں روپے کہاں سے آئے؟
اس حوالے سے یہ سوال بھی اٹھایا جارہا ہے کہ چند ہزار روپے ماہانہ تنخواہ لینے والے ایک معطل کانسٹیبل کے پاس مبینہ طور پر لاکھوں روپے کہاں سے آئے۔
الزامات کے مطابق پولیس امن کمیٹی کے ارکان نے مذکورہ محفل میں بڑی رقم خرچ کی، جبکہ ان کی سرکاری آمدن اس نوعیت کے اخراجات کی وضاحت نہیں کرتی۔
الزامات عائد کرنے والوں کا کہنا ہے کہ پولیس امن کمیٹی کے ارکان مبینہ طور پر اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری، منشیات، اسمگلنگ اور شہریوں کے قتل سمیت مختلف غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور انہی سرگرمیوں سے حاصل ہونے والی رقم مبینہ طور پر عیاشی اور دیگر غیر اخلاقی سرگرمیوں پر خرچ کی جارہی ہے۔
قاری راشد کے مبینہ اغوا اور قتل کے معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے بھی الزام عائد کیا گیا کہ مخالف فریق کی جانب سے پولیس امن کمیٹی کو 90 لاکھ روپے دیے گئے اور اسی رقم کے عوض قاری راشد کو اٹھایا گیا، جس کے بعد اس کی لاش لکی مروت سے برآمد ہوئی۔
مزید الزام ہے کہ پولیس امن کمیٹی مبینہ طور پر شہریوں کو اغوا کرکے تاوان وصول کرتی، رقم نہ دینے والوں کو بلیک میل کرتی اور مخالف فریق سے رقم لے کر شہریوں کو قتل کرواتی ہے۔
اسی طرح گروہ پر بچوں کے جنسی استحصال اور دیگر غیر اخلاقی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور پولیس لائنز جیسے سرکاری احاطے کو مبینہ طور پر ایسی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔
مزید پڑھیں: قانون نافذ کرنے والے ادارے ملکر دہشت گردوں کا قلع قمع کررہے ہیں، آئی جی خیبرپختونخوا پولیس
متعلقہ حلقوں نے ریاستی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس امن کمیٹی کے مالی ذرائع، مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں اور شہریوں کے خلاف جرائم میں ملوث افراد کے کردار کی فوری تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
ان کا کہنا ہے کہ امن کے نام پر قانون ہاتھ میں لینے اور عوام کی جان و مال سے کھیلنے والے عناصر کو کسی صورت کھلی چھوٹ نہیں دی جاسکتی۔













