دی ہیگ میں قائم ثالثی عدالت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے سے متعلق جاری کردہ فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف پہلے دن سے واضح تھا جس کی اب ثالثی عدالت نے بھی توثیق کردی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ردعمل میں عطااللہ تارڑ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ پر عالمی ثالثی عدالت کا فیصلہ بھارت کے لیے شرمندگی کے سوا کچھ نہیں۔
اللہ کا شکر ہے پاکستان سرخرو ہوا۔۔۔ بھارت کے لیے ایک کے بعد ایک شرمندگی سامنے آرہی ہے۔‘
یہ بھی پڑھیں: ’سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ معطل نہیں کیا جا سکتا‘، پاکستان کے مؤقف کو عالمی پذیرائی
انہوں نے کہا کہ عدالت نے متفقہ طور پر بھارت کی جانب سے معاہدے کو التوا میں رکھنے کے اقدام کو ناقابلِ قبول قرار دے دیا ہے۔
وزارت اطلاعات و نشریات کے مطابق دی ہیگ کی عدالت برائے ثالثی نے سندھ طاس تنازع پر فریقین کو سندھ طاس معاہدے کی حیثیت سے متعلق اپنا فیصلہ اور عبوری اقدامات سے متعلق حکم جاری کردیا ہے۔
Alhamdulillah
Pakistan stands vindicated, our stance on Indus Waters Treaty has been clear from day one and it has now been validated by the Court of Arbitration as well. Embarrassment after embarrassment for India https://t.co/ttwUEXWFWT
— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) September 1, 2026
تاہم تفصیلی فیصلہ اور حکم ابھی عدالت کی جانب سے شائع نہیں کیے گئے، جن کی آئندہ ایک ہفتے کے دوران اشاعت متوقع ہے۔
عدالت کے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق عدالت نے متفقہ طور پر قرار دیا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو التوا میں رکھنے کا فیصلہ معاہدے یا قابلِ اطلاق بین الاقوامی قانون کے تحت قابلِ قبول نہیں۔
مزید پڑھیں: ’بھارتی رویہ جنوبی ایشیا کو تباہی کی طرف دھکیل سکتا ہے‘، انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز
عدالت نے واضح کیا کہ معاہدہ نہ تو ختم ہوا ہے اور نہ ہی اس کا نفاذ معطل ہوا ہے بلکہ یہ بدستور مکمل طور پر نافذالعمل ہے۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کا پابند ہے اور اسے ان پر عملدرآمد کرنا ہوگا، جن میں مغربی دریاؤں پر پن بجلی کے منصوبوں کے ڈیزائن اور آپریشن سے متعلق ذمہ داریاں اور تنازعات کے حل کا طریقہ کار بھی شامل ہے۔
*Ministry of Information and Broadcasting, Government of Pakistan*
*Press Release*
The Government of Pakistan takes note of the Press Release issued a short time ago by the Court of Arbitration in The Hague in the Indus Waters dispute noting that it has today issued to the…
— Ministry of Information & Broadcasting (@MoIB_Official) August 31, 2026
پاکستان نے عدالت کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے، وزارت اطلاعات کے مطابق عدالت نے متفقہ طور پر بھارت کو ریٹل ہائیڈرو الیکٹرک پاور منصوبے کے ڈیم کی دیوار اور پاور انٹیک اسٹرکچر کو مقررہ سطح سے اوپر کنکریٹ کرنے سے روکنے کے لیے عبوری اقدامات بھی عائد کیے ہیں۔
یہ پابندیاں نیوٹرل ایکسپرٹ کے حتمی فیصلے کے 90 روز بعد تک برقرار رہیں گی، جبکہ نیوٹرل ایکسپرٹ کا حتمی فیصلہ جولائی 2027 میں متوقع ہے۔














