والدہ کے جنازے میں شرکت کیوں نہ کی؟ اداکارہ جیا علی نے وجہ بتادی

منگل 1 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستانی اداکارہ و ماڈل جیا علی نے اپنی والدہ کے انتقال اور اس کے بعد پیش آنے والی کیفیت کے حوالے سے اہم انکشافات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ والدہ کی وفات کا صدمہ وہ کئی برس تک قبول نہیں کر سکیں۔

ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے جیا علی جذباتی ہوگئیں اور اپنی والدہ کی زندگی اور بیماری کے آخری ایام کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی والدہ کی شادی محض 16 برس کی عمر میں ہوئی تھی اور وہ پانچ بچوں کی ماں تھیں۔ انہوں نے خاندان کی کفالت کے لیے طویل عرصے تک کام کیا اور اپنی صحت پر توجہ نہ دے سکیں۔

جیا علی نے بتایا کہ والدہ عمر کے آخری حصے میں شدید علیل رہیں اور ایک وقت میں کومے میں بھی چلی گئی تھیں۔ والدہ کی بیماری اور ان کی زندگی کے آخری برسوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھنا ان کے لیے انتہائی تکلیف دہ تجربہ تھا۔

اداکارہ نے آبدیدہ ہوتے ہوئے کہا کہ انہیں آج بھی اس بات کا افسوس ہے کہ وہ اپنی والدہ سے کبھی کھل کر محبت کا اظہار نہیں کر سکیں، حالانکہ ان کی والدہ نے بچوں کی پرورش اور خاندان کے لیے بے شمار قربانیاں دیں۔

یہ بھی پڑھیں: کاجول سے موازنے پر پاکستانی اداکارہ نمرہ شاہد کا دلچسپ ردعمل

جیا علی کے مطابق والدہ کے انتقال کی اطلاع انہیں اسلام آباد میں ملی، تاہم وہ اس خبر کو فوری طور پر قبول نہ کر سکیں اور ایک عجیب ذہنی کیفیت میں چلی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ والدہ کی تدفین کے لیے لاہور نہیں جا سکیں اور کام کے سلسلے میں کراچی چلی گئیں۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ اہلِ خانہ ان سے رابطہ نہ کر سکے، جس کے باعث والدہ کی تدفین دو روز بعد کر دی گئی۔ جیا علی کا کہنا تھا کہ وہ اس دوران نہ رو سکیں اور نہ ہی مناسب ردِعمل دے سکیں، جبکہ انہیں یہ حقیقت قبول کرنے میں تقریباً چار دن لگے کہ ان کی والدہ اب دنیا میں نہیں رہیں۔

اداکارہ نے بتایا کہ والدہ کے انتقال کے بعد کا یہ دور ان کی زندگی کے مشکل ترین ادوار میں سے ایک تھا، جس کے بعد انہیں بال جھڑنے کی بیماری ایلوپیشیا اور ڈپریشن کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp