کیلیفورنیا مسجد پر حملہ کرنے والوں کے بیانیے کی تشہیر کے جرم میں 17 سالہ لڑکی  کے خلاف فرد جرم عائد

منگل 1 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سان ڈیاگو کی ایک مسجد میں 18 مئی کو ہونے والی فائرنگ، جس کے نتیجے میں 3 افراد جان بحق ہوئے تھے، میں اعانت اور جرم کو لائیو ویڈیو کے ذریعے نشر کرنے کے الزام میں نارتھ کیرولائنا کی گرینڈ جیوری نے 17 سالہ سارہ لنڈسے سانتیاگو پر فردِ جرم عائد کر دی ہے۔

فارستھ کاؤنٹی کے ڈسٹرکٹ اٹارنی جِم او نیل نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ حکام نے ملزمہ کے خلاف فیڈرل کی بجائے ریاستی سطح پر مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا ہے، کیونکہ نارتھ کیرولائنا کے قانون کے تحت 17 سالہ ملزمہ پر بالغ افراد کی طرح مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فیڈرل قوانین کے تحت ملزمہ کو محض 3 سے 4 سال کی سزا ہو سکتی تھی، جبکہ نارتھ کیرولائنا میں جرم ثابت ہونے کی صورت میں اسے بغیر پیرول کے عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے امریکی ریاست کیلیفورنیا میں مسجد پر حملہ، 3 افراد جاں بحق، 2 مشتبہ حملہ آور بھی ہلاک

سان ڈیاگو کے اسلامی مرکز میں ہونے والے اس حملے کے وقت عمارت کے اندر قائم اسکول میں 140 بچے موجود تھے۔ جاں بحق ہونے والے تینوں افراد، 51 سالہ سیکیورٹی گارڈ امین عبداللہ، 78 سالہ دیکھ بھال کرنے والے منصور قضیحہ، اور اسکول کی ایک ٹیچر کے 57 سالہ شوہر نادر عواد کو زیادہ بڑے جانی نقصان کو روکنے پر تعزیتی اجتماع میں ہیرو قرار دیا گیا۔

حملہ آور، 18 سالہ کیلب وازکیز اور 17 سالہ کین کلارک، واقعہ کے بعد فرار ہوتے وقت اپنی ہی گاڑی میں خودکشی کر چکے ہیں۔ تفتیش کاروں کے مطابق دونوں حملہ آور ایک یہودی عبادت گاہ اور سیاہ فام اکثریت کے ہائی اسکول پر بھی حملہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔

گزشتہ ہفتے گرفتار کی جانے والی ملزمہ سارہ لنڈسے سانتیاگو پر قتل کی معاونت کے 3 اور مجرمانہ سازش کے 1 الزام کی فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔

ڈسٹرکٹ اٹارنی او نیل کے مطابق نارتھ کیرولائنا کے قانون میں اگر کوئی شخص مجرمانہ ارادے میں شریک ہو اور جرم کے وقت جسمانی طور پر موجود نہ ہونے کے باوجود امداد کی فراہمی میں ناکام رہے یا جرم کو فروغ دے، تو وہ اعانت کا مرتکب شمار ہوتا ہے۔ او نیل کے دفتر کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق سانتیاگو نے حملے سے قبل اس کی لائیو اسٹریمنگ کرنے، ویڈیو عام کرنے اور حملہ آوروں کے منشور کو شائع کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے سان ڈیاگو مسجد کے شہید سیکیورٹی گارڈ کی آخری پوسٹ کیوں وائرل ہوئی؟

او نیل نے ملزمان کو ایک ’زیرِ زمین نفرت انگیز سب کلچر‘ کا حصہ قرار دیا جو لوگوں کو خوفناک جرائم پر اکساتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ مختلف ثقافتوں اور ادیان کے خلاف شدید نفرت کا ایک ایسا گڑھ ہے جہاں یہ عناصر خفیہ پلیٹ فارمز پر ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔ حملہ آوروں کے منشور سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ رنگ، نسل، مذہب اور سیاست سے بالاتر ہو کر ہر ایک سے نفرت کرتے تھے۔‘

تفتیش کاروں کے مطابق حملے کے وقت محض 3 افراد لائیو اسٹریمنگ دیکھ رہے تھے، جن میں سے ابتدائی طور پر ایک خاتون کا تعلق ایسٹرن ٹائم زون سے بتایا گیا، جس کی شناخت بعد میں سارہ سانتیاگو کے طور پر ہوئی۔ تاہم، ڈسٹرکٹ اٹارنی نے اس بات کی تصدیق کرنے سے گریز کیا کہ آیا دیگر 2 ناظرین کی شناخت ہو سکی ہے یا ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

نیپال اور چین میں تباہ کن سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 1000 سے تجاوز کرگئی،  ہزاروں تاحال لاپتہ

ایس سی او سربراہ اجلاس، اسحاق ڈار کی روسی اور تاجک وزرائے خارجہ سے خوشگوار ملاقات

عالمی برادری فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کا احترام کرے، اعلانات سے بڑھ کر عملی اقدامات کرنا ہوں گے، وزیراعظم محمد شہباز شریف

’انتہائی کم فیول ایوریج‘ پاک سوزکی کی آلٹو اب پاکستان کے باہر بھی چلے گی

پاکستان اور چین کا تزویراتی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

ویڈیو

عالمی برادری فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کا احترام کرے، اعلانات سے بڑھ کر عملی اقدامات کرنا ہوں گے، وزیراعظم محمد شہباز شریف

گھر میں پودے لگائیں، کچرا بیچیں، پنجاب حکومت سے ہزاروں روپے حاصل کریں

لانگ مارچ کے لیے چندہ اصل میں عوام کے جیبوں پر ڈاکا ہے، پشاور کے شہری حکومت پر برس پڑے

کالم / تجزیہ

خیبرپختونخوا کے زیادہ تر مریض علاج کروانے پمز کیوں آتے ہیں؟

پاکستان ہاکی کا زوال کیسے ختم ہوگا؟

سلام سسٹر رضیہ نورین!