امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو میں واقع اسلامک سینٹر پر ہونے والے جان لیوا حملے میں شہید ہونے والے سیکیورٹی گارڈ امین عبداللہ کو مقامی مسلم کمیونٹی نے ہیرو قرار دے دیا۔
پولیس کے مطابق امین عبداللہ نے حملہ آوروں کو مسجد کے مرکزی حصے تک محدود رکھنے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث بڑی تعداد میں نمازیوں اور بچوں کی جانیں محفوظ رہیں۔
سوشل میڈیا پر امین عبداللہ کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے، صارفین انہیں ایک سچا ہیرو اور انتہائی خوش اخلاق انسان قرار دے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی ریاست کیلیفورنیا میں مسجد پر حملہ، 3 افراد جاں بحق، 2 مشتبہ حملہ آور بھی ہلاک
ان کی 5 مئی کی ایک فیس بک پوسٹ بھی وائرل ہو رہی ہے جس میں انہوں نے کامیابی کی تعریف کچھ یوں بیان کی تھی۔
’میرے لیے کامیابی یہ ہے کہ میں اللہ کے حضور اسی پاک روح کے ساتھ واپس جاؤں جو اس نے مجھے پیدائش کے وقت عطا کی تھی اور اللہ کے فرشتے مجھ سے کہیں کہ خوف اور غم نہ کرو بلکہ جنت کی خوشخبری قبول کرو۔‘
کمیونٹی اراکین کے مطابق 8 بچوں کے والد امین عبداللہ نے برسوں قبل اسلام قبول کیا تھا اور کئی برسوں سے اسلامک سینٹر آف سان ڈیاگو میں سیکیورٹی گارڈ کے فرائض انجام دے رہے تھے۔
Amin Abdullah.
He stood his ground so others could make it home safely.
When gunmen opened fire outside the Islamic Center of San Diego, Amin protected the community until his final moments. Police say his actions prevented the attack from becoming far worse.
Support Amin’s… pic.twitter.com/2er0Xld0Rl
— LaunchGood (@LaunchGood) May 19, 2026
سان ڈیاگو پولیس چیف اسکاٹ واہل نے ان کے اقدام کو ’بہادرانہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی فوری مزاحمت نے حملہ آوروں کو مسجد کے اندر مزید تباہی پھیلانے سے روک دیا۔
پولیس کے مطابق واقعے میں 3 افراد ہلاک ہوئے جبکہ دونوں حملہ آوروں نے بعد میں مبینہ طور پر خودکشی کرلی۔
حکام اس واقعے کو نفرت انگیز جرم کے طور پر بھی تفتیش کر رہے ہیں کیونکہ حملہ آوروں سے اسلام مخالف تحریریں اور نفرت انگیز مواد برآمد ہوا ہے۔
مزید پڑھیں: امریکا: ڈلاس میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ پر فائرنگ، 2 افراد ہلاک
رپورٹس کے مطابق پولیس چند منٹ میں جائے وقوعہ پر پہنچ گئی تھی اور مسجد سے منسلک اسکول کے بچوں اور عملے کو فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ امین عبداللہ کی بروقت کارروائی نے ممکنہ طور پر ایک بڑے سانحے کو ٹال دیا۔












