راولپنڈی، اسلام آباد اور ملک کے مختلف شہروں میں منگل کو ہونے والی شدید بارش کے بعد کئی علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی۔ نشیبی علاقے زیرِ آب آگئے، نالے بھر گئے جبکہ متعدد اہم شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ کئی گاڑیاں پانی میں بہنے اور ڈوبنے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
وفاقی دارالحکومت کے مختلف سیکٹرز میں پانی جمع ہونے سے شہری گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے جبکہ اہم سڑکوں پر بدترین ٹریفک جام دیکھنے میں آیا۔ شدید بارش کے باعث راولپنڈی انتظامیہ نے ایک روزہ عام تعطیل کا اعلان بھی کردیا۔
اسلام آباد اور گردونواح میں موسلا دھار بارش کی وجہ سے راول ڈیم میں پانی کی سطح مقررہ حد سے تجاوز کر گئی، ضلعی انتظامیہ کی جانب سے آج دوپہر 2 بجے سپل ویز کھولنے کا فیصلہ، شہریوں سے اپیل ہے کہ ندی نالوں کے قریب جانے سے گریز کریں، شکریہ
— DC Islamabad (@dcislamabad) September 1, 2026
راولپنڈی کے پیرودھائی اور ملحقہ علاقوں میں بارش کا پانی گھروں اور سڑکوں میں داخل ہوگیا، متعدد گاڑیاں زیرِ آب آگئیں جبکہ ماڈل راجہ بازار بھی پانی میں ڈوب گیا۔
بارش کے بعد شہریوں کی جانب سے نکاسیٔ آب کے ناقص انتظامات پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا صارف رباب حسین نے لکھا کہ وہ 1994 سے اس علاقے میں رہ رہی ہیں اور اس دوران یہ سڑکیں کبھی زیرِ آب نہیں آئیں، یہاں تک کہ جب یہ صرف سنگل لین تھیں۔ ان کے مطابق تعمیراتی کام نے اسلام آباد کا حلیہ بگاڑ دیا ہے اور رواں ماہ یہ علاقہ تیسری مرتبہ زیرِ آب آیا ہے۔
I have been living in this area since 94, and these roads have never been flooded, even when they were single-lane.
The construction has ruined Islamabad. It is the 3rd time in this month that this patch is flooded. pic.twitter.com/LMuCbF5eU5— Rubab Hussain (@rubabhussain86) September 1, 2026
ایک صارف کا کہنا تھا کہ پنڈی اسلام آباد میں سب سے بڑا سیلاب 2001 میں آیا تھا دس گھنٹے میں 600 ملی میٹر سے زیادہ بارش ہوئی آج تو شاید 200ملی میٹر ہے مگر اس بارش میں بھی بارش رکنے کے ایک آدھ گھنٹے بعد سارا پانی پنڈی اور اسلام آباد سے اتر گیا تھا چند دن پہلے جب سیلاب کے بعد کی تصاویر دے کر اچھل رہے تھے تو یہی بتایا کہ یہاں پانی رکتا نہی ہے نقصان کر کے اتر جاتا ہے۔
پنڈی اسلام آباد میں سب سے بڑا سیلاب 2001 میں آیا تھا دس گھنٹے میں 600 ملی میٹر سے زیادہ بارش ہوئی آج تو شاید 200ملی میٹر ہے مگر اس بارش میں بھی بارش رکنے کے ایک آدھ گھنٹے بعد سارا پانی پنڈی اور اسلام آباد سے اتر گیا تھا چند دن پہلے جب سیلاب کے بعد کی تصاویر دے کر اچھل رہے تھے تو… https://t.co/wUnXOKk4ye
— RAShahzaddk (@RShahzaddk) September 1, 2026
اشتیاق علی کا کہنا تھا کہ نالے کی گنجائش نالے جتنی ہو مگر اس میں دریا جتنا پانی چھوڑ دیا جائے تو پھر شہر ڈوبے گا نہیں تو اور کیا ہو گا؟ جب تک ندی نالوں، نکاسیٔ آب اور سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پراپر پروفیشنل لوگ اور مستقل نظام نہیں لایا جائے گا، ہر سال بارش کے بعد اسلام آباد اور راولپنڈی کے ڈوبنے کی خبریں آتی رہیں گی، اور انتظامیہ کی چند روزہ پھرتیوں کے بعد دوبارہ وہی 365 دن کی خاموشی شروع ہو جائے گی؟
انہوں نے مزید کہا کہ ندی نالوں اور سیلابی صورتحال کی نگرانی کے لیے ماہر اور پروفیشنل ٹیم ہونی چاہیے، مگر بدقسمتی سے ایسی اہم ذمہ داریاں اکثر انتظامیہ اپنے ویلے اور نکمے لوگوں کے سپرد کر دیتی ہیں، جو صرف 2 دن کا فوٹو سیشنز کر کے افسران کی آنکھوں میں دھول جھونک کر غائب ہو جاتے ہے۔
نالے کی گنجائش نالے جتنی ہو، مگر اس میں دریا جتنا پانی چھوڑ دیا جائے، تو پھر شہر ڈوبے گا نہیں تو اور کیا ہو گا؟
جب تک ندی نالوں، نکاسیٔ آب اور سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پراپر پروفیشنل لوگ اور مستقل نظام نہیں لایا جائے گا، ہر سال بارش کے بعد اسلام آباد اور راولپنڈی کے ڈوبنے… pic.twitter.com/PbzWFEgSay
— Ishtiaq Ali (@IAmIshtiaqAli) September 1, 2026
نعیم بخاری لکھتے ہیں کہ نڈی، اسلام آباد میں بارش کے بعد خوفناک صورت حال ،گاڑیاں بہہ گئیں یہ کوئی قدرتی آفت نہیں مکمل طور پر حکومتی اور انتظامی نااہلی ہے۔
پنڈی، اسلام آباد میں بارش کے بعد خوفناک صورت حال ،گاڑیاں بہہ گئیں
یہ کوئی قدرتی آفت نہیں مکمل طور پر حکومتی اور انتظامی نااہلی ہے
دونوں جڑواں شہر کی ڈائریکشن نچلی سطح پر ہونے باوجود ایسی صورتحال
ملک میں نئے انتظامی یونٹ نہیں طرز حکمرانی اور انتظامی ڈھانچے سے نااہلی کا احتساب ہونا… pic.twitter.com/SJypeWBEJb— Naeem Bukhari (@Naeem_shah86) September 1, 2026
انتظامیہ نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور نشیبی علاقوں، برساتی نالوں اور پانی جمع ہونے والے مقامات سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔














