امریکا نے وینزویلا کے ساتھ ہونے والے توانائی معاہدے کے تحت 17 مخصوص تیل کے ذخائر پر 100 سالہ مراعات حاصل کرلی ہیں، جبکہ واشنگٹن کو وینزویلا کے ثابت شدہ 65 ارب بیرل تیل کے ذخائر پر اکثریتی کنٹرول حاصل ہوگا۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق وائٹ ہاؤس نے معاہدے کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ شمالی امریکی بلیو انرجی پارٹنرز نے امریکی محکمہ دفاع کے دفتر برائے اسٹریٹجک سرمایہ کاری کو اپنی مرکزی کمپنی میں 35 فیصد حصص مفت فراہم کیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا وینزویلا کو نشانہ کیوں بنا رہا ہے؟
معاہدے کے تحت امریکی محکمہ خارجہ کو پیداوار کا 20 فیصد حصہ پیداواری لاگت پر خریدنے کا حق بھی حاصل ہوگا۔
معاہدے کی مدت کے حوالے سے وینزویلا اور امریکا کے مؤقف میں فرق سامنے آیا ہے۔ وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز نے پہلے معاہدے کی مدت 25 سال بتائی تھی، تاہم وائٹ ہاؤس کے مطابق نجی کمپنی نے 17 تیل کے میدانوں کے لیے 100 سالہ مراعات حاصل کی ہیں۔
معاہدے کے تحت کمپنی پہلے 25 سال کے دوران وینزویلا کو شاہی محصولات اور ٹیکسوں کی مد میں 200 ارب ڈالر ادا کرے گی، جس سے ملک میں تعمیر نو اور سماجی ترقی کے منصوبوں کے لیے مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔
بنیادی ڈھانچے میں 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری
وائٹ ہاؤس کے مطابق معاہدے کے تحت وینزویلا میں تیل کی پیداوار بڑھانے کے لیے بنیادی ڈھانچے میں 100 ارب ڈالر تک کی نئی سرمایہ کاری کی جائے گی۔
معاہدہ امریکی قوانین کے تحت ہوگا اور اس سے متعلق معاملات امریکی عدالتوں کے دائرہ اختیار میں ہوں گے۔ کمپنی کے انتظامی بورڈ کے ارکان کی اکثریت امریکی شہریوں پر مشتمل ہوگی، جبکہ واشنگٹن کو بورڈ میں تقرریوں پر فیصلہ کن اختیار حاصل ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا وینزویلا تعلقات میں مزید تناؤ، امریکی شہری زیرِ حراست
وینزویلا سے حاصل ہونے والے تیل کو امریکی ریفائنریوں میں صاف کیا جائے گا، جس سے امریکا میں ہزاروں ملازمتیں پیدا ہونے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔ اس تیل کا ایک حصہ امریکا کے ہنگامی تیل کے ذخیرے کو دوبارہ بھرنے کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا۔
وائٹ ہاؤس نے معاہدے کو مغربی نصف کرہ میں غیر ملکی مداخلت کی مخالفت کرنے والی 19ویں صدی کی امریکی پالیسی ’منرو نظریے‘ کی بحالی قرار دیا ہے۔
معاہدے میں ان تیل کے میدانوں کو بھی ہدف بنایا گیا ہے جو ماضی میں روسی اور چینی کمپنیوں کے زیرِ انتظام تھے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق اس اقدام کا مقصد خطے میں روس اور چین کے اثر و رسوخ کو ختم کرنا ہے۔














