اسلام آباد، راولپنڈی میں موسلادھار بارش، اربن فلڈنگ سے نظام زندگی متاثر، آئندہ 3 روز کے لیے الرٹ جاری

منگل 1 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد اور راولپنڈی میں منگل کے روز ہونے والی موسلادھار بارش نے شہری نظام زندگی کو نہ صرف متاثر کیا بلکہ متعدد نشیبی علاقے زیر آب آگئے، سڑکوں اور گلیوں میں پانی جمع ہونے سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی جبکہ نالہ لئی میں پانی کی سطح میں نمایاں اضافے کے بعد ضلعی انتظامیہ، واسا اور ریسکیو اداروں کو ہائی الرٹ کردیا گیا۔ صورتحال کے پیش نظر راولپنڈی شہر کی حدود میں تعلیمی ادارے بھی بند کردیے گئے۔

واضح رہے کہ شدید بارش کے باعث راولپنڈی کے کیچمنٹ ایریا میں 200 ملی میٹر سے زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے نتیجے میں نالہ لئی میں پانی کی سطح تیزی سے بلند ہوئی۔ ضلعی انتظامیہ نے نالہ لئی کے اطراف اور نشیبی علاقوں میں رہائش پذیر شہریوں کو محتاط رہنے اور ممکنہ ہنگامی صورتحال کے پیش نظر تیار رہنے کی ہدایت بھی کی۔

مزید پڑھیں: شدید بارش، چیئرمین سی ڈی اے کے فیلڈ دورے، نکاسی آب اور ٹریفک انتظامات کا جائزہ

محکمہ موسمیات کے مطابق راولپنڈی میں شمس آباد کے مقام پر قریباً 201 ملی میٹر، نیو کٹاریاں میں 186 ملی میٹر، پیرودھائی میں 86 ملی میٹر جبکہ کچہری کے علاقے میں قریباً 74 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

اسلام آباد میں گولڑہ کے مقام پر 157 ملی میٹر، پی ایم ڈی اسٹیشن ایچ ایٹ ٹو پر قریباً 155 ملی میٹر، سیدپور میں 104 ملی میٹر جبکہ بوکرہ میں 72 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ ای الیون میں بھی مختصر وقت کے دوران قریباً 150 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔

بارش کے دوران اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز، مرکزی شاہراہوں اور نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا، جس کے باعث گاڑیوں کی روانی متاثر ہوئی۔ ای الیون میں شدید بارش کے باعث ایک ڈرین اوور فلو ہوگئی۔ جس سے پانی سڑکوں اور بعض بیسمنٹس میں داخل ہوگیا۔

انتظامیہ کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں ڈی واٹرنگ آپریشن شروع کیا گیا جبکہ اضافی پمپس بھی استعمال کیے گئے۔

راولپنڈی میں شمس آباد، صادق آباد، آوان کالونی، جامع مسجد روڈ، جاوید کالونی، حبیب کالونی، ڈھوک فرمان علی، آریہ محلہ، وارث خان اور دیگر علاقوں میں بارشی پانی جمع ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

بعض علاقوں میں پانی رہائشی گلیوں اور گھروں تک پہنچ گیا جبکہ متعدد اہم شاہراہوں پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک کی روانی سست رہی۔

شدید بارش کے باعث نالہ لئی میں پانی کی سطح میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا۔ کٹاریاں کے مقام پر پانی کی سطح قریباً 29 فٹ جبکہ گوالمنڈی کے مقام پر 23 سے 24 فٹ تک پہنچ گئی۔ پانی کی سطح میں اضافے کے بعد نالہ لئی کے اطراف اور نشیبی علاقوں میں رہائش پذیر شہریوں کو سائرن بجا کر محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی۔

ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کیپٹن (ر) ندیم ناصر کے مطابق نالہ لئی کے کیچمنٹ ایریا میں 200 ملی میٹر سے زیادہ بارش ریکارڈ کی جاچکی ہے جس کے بعد واسا سمیت تمام متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ واسا کی ٹیمیں نشیبی علاقوں میں نکاسی آب کے لیے مسلسل مصروف عمل ہیں جبکہ شہریوں کی حفاظت کے پیش نظر نالہ لئی کے اردگرد آباد آبادیوں کو بھی الرٹ کیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور تمام متعلقہ اداروں کو ضروری اقدامات یقینی بنانے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔

واسا کے ترجمان عمر فاروق کے مطابق شہر میں بارش کے بعد کی صورتحال کافی حد تک معمول پر آچکی ہے۔ ان کے مطابق گوالمنڈی کے مقام پر نالہ لئی کی سطح بارش کے دوران 23 سے 24 فٹ تک پہنچ گئی تھی جو اب کم ہوکر 12 سے 13 فٹ کے قریب آگئی ہے۔

عمر فاروق کے مطابق تمام نشیبی علاقوں سے پانی کا انخلا کافی حد تک مکمل کرلیا گیا ہے جبکہ جن چند مقامات پر پانی کا مسئلہ موجود ہے وہاں واسا کی ٹیمیں ضروری مشینری کے ہمراہ فیلڈ میں موجود ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آئندہ 2 سے 3 روز تک بارش کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے، تاہم واسا کی ٹیمیں صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ریسکیو 1122 اور دیگر متعلقہ اداروں کی ٹیمیں بھی حساس مقامات پر تعینات رہیں۔ اس ساری صورتحال کے دوران نالہ لئی کے اطراف علاقے سے 2 کالز موصول ہوئیں، جس پر فوری طور پر نگرانی کی گئی اور بارش کے دوران پانی میں پھنسے متعدد شہریوں کو ریسکیو کرکے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا جبکہ نالہ لئی، برساتی نالوں اور نشیبی علاقوں کی مسلسل نگرانی کی جاتی رہی۔

واضح رہے کہ راولپنڈی میں ہونے والی حالیہ موسلادھار بارش نے گزشتہ 16 برس کا ریکارڈ توڑ دیا۔ عمر فاروق کے مطابق راولپنڈی میں اس شدت کی بارش اس سے قبل 2010 میں ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم حالیہ بارش نے اس ریکارڈ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

یاد رہے کہ شدید بارش اور شہری سیلاب کے خدشے کے پیش نظر راولپنڈی شہر کی حدود میں تعلیمی اداروں کو بند کردیا گیا۔ انتظامیہ نے شہریوں سے غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور نالہ لئی، برساتی نالوں اور دیگر حساس مقامات سے دور رہنے کی اپیل کی ہے۔

پاکستان محکمہ موسمیات کے مطابق مون سون ہوائیں ملک کے بالائی علاقوں میں داخل ہورہی ہیں جبکہ ایک مغربی ہوائی لہر بھی بالائی علاقوں کو متاثر کررہی ہے۔

اس موسمی نظام کے زیر اثر اسلام آباد، راولپنڈی، مری، گلیات، بالائی پنجاب، کشمیر اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں 5 ستمبر تک وقفے وقفے سے بارش، تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان میمن کے مطابق وفاقی دارالحکومت اور گردونواح میں ہونے والی موسلادھار بارش کے باعث راول ڈیم میں پانی کی سطح 1751.90 فٹ تک پہنچ گئی، جس کے پیش نظر راول ڈیم کے سپل ویز یکم ستمبر کو دوپہر 2 بجے کھولنے کا فیصلہ کیا گیا۔

ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ سپل ویز کھولنے کے عمل کے دوران ریسکیو 1122، پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی تھی جبکہ سپل ویز کھولنے سے قبل تمام ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے احکامات بھی جاری کیے گئے۔

عرفان میمن کے مطابق ڈپٹی کمشنر کی زیر نگرانی بارش سے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور نکاسی آب کی کارروائیاں جاری ہیں جبکہ بارش کے دوران نشیبی علاقوں کی مسلسل نگرانی کی جارہی ہے۔ نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کی شکایات پر فوری کارروائی کی گئی اور متعلقہ اداروں کو نکاسی آب کا عمل تیز کرنے کی ہدایات دی گئیں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ای الیون میں ریکارڈ بارش کے باعث نالے میں گنجائش سے زیادہ پانی جمع ہوگیا، جس کے نتیجے میں نالے کا پانی سڑک اور چند عمارتوں کے بیسمنٹس میں داخل ہوا۔ ان کے مطابق پانی سے متاثر ہونے والے بیسمنٹس کو پہلے ہی سیل کیا جاچکا تھا۔

ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ غوری ٹاؤن میں نالہ بند ہونے کے باعث پانی باہر آیا۔ غوری ٹاؤن فیز ٹو کے دورے کے دوران معلوم ہوا کہ نالے پر سلیب رکھ کر اسے بند کیا گیا تھا، جس کے باعث پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ پیدا ہوئی اور پانی آبادی کی جانب آگیا۔

ان کا کہنا تھا کہ شاہراہوں پر پانی جمع ہونے کے باعث بعض مقامات پر ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی، تاہم ٹریفک پولیس کی معاونت سے ٹریفک کی روانی کو بحال کردیا گیا۔

عرفان میمن کے مطابق آئی ایٹ، غوری ٹاؤن اور دیگر متاثرہ علاقوں میں نکاسی آب کا عمل تیزی سے جاری ہے جبکہ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام متعلقہ ادارے ضروری مشینری کے ہمراہ فیلڈ میں موجود ہیں۔

ڈپٹی کمشنر نے کہاکہ موجودہ صورتحال میں اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ندی نالوں، نشیبی علاقوں اور دیگر حساس مقامات کے قریب جانے سے گریز کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال کی صورت میں ضلعی انتظامیہ یا متعلقہ اداروں کو فوری اطلاع دیں۔

ضلعی انتظامیہ نے راول ڈیم کے سپل ویز کھولے جانے کے پیش نظر شہریوں کو خصوصی احتیاط برتنے کی ہدایت کرتے ہوئے ندی نالوں اور پانی کے بہاؤ والے علاقوں سے دور رہنے کی اپیل کی ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق 5 ستمبر تک اسلام آباد اور راولپنڈی سمیت مردان، صوابی، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ اور لاہور کے نشیبی علاقوں میں شدید بارش کے باعث اربن فلڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔ کشمیر، مری، گلیات، اسلام آباد اور راولپنڈی کے مقامی ندی نالوں اور برساتی نالوں میں شدید بارش کے باعث فلیش فلڈنگ کا خطرہ بھی موجود ہے۔

اگلے 2 سے 3 روز کے دوران اسلام آباد اور راولپنڈی میں وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔ 2 ستمبر کو بالائی پنجاب، اسلام آباد، راولپنڈی، کشمیر اور بالائی خیبرپختونخوا میں بارش کی سرگرمی برقرار رہ سکتی ہے جبکہ شدید بارش کی صورت میں نشیبی علاقوں میں دوبارہ پانی جمع ہونے اور نالہ لئی سمیت مقامی برساتی نالوں میں پانی کی سطح بڑھنے کا خدشہ ہے۔

3 اور 4 ستمبر کو بھی اسلام آباد، راولپنڈی اور بالائی علاقوں میں کہیں کہیں بارش اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔ اس دوران پہلے سے متاثرہ شہری علاقوں میں مزید شدید بارش کی صورت میں اربن فلڈنگ کا خطرہ برقرار رہ سکتا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق موجودہ بارش کا اسپیل مجموعی طور پر 5 ستمبر تک مختلف وقفوں کے ساتھ جاری رہ سکتا ہے، اس لیے اسلام آباد اور راولپنڈی کے نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ جبکہ مقامی ندی نالوں میں فلیش فلڈنگ کا خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔

حالیہ بارش نے ایک مرتبہ پھر جڑواں شہروں کے نکاسی آب کے نظام پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ ہر مون سون کے دوران متعدد علاقوں میں پانی جمع ہوجاتا ہے، اس لیے صرف ہنگامی بنیادوں پر پانی نکالنے کے بجائے شہری سیلاب کے مستقل حل کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی ضروری ہے۔

ماہرین شہری منصوبہ بندی کے مطابق تیزی سے بڑھتی آبادی، بے ہنگم تعمیرات، کنکریٹ کے بڑھتے ہوئے استعمال، گرین ایریاز میں کمی اور قدرتی آبی گزرگاہوں میں رکاوٹیں شہری سیلاب کے خطرے میں اضافے کی اہم وجوہات ہیں۔

ماہرین کے مطابق برساتی نالوں کی باقاعدہ صفائی، قدرتی آبی گزرگاہوں کا تحفظ، نکاسی آب کے نظام کی توسیع، بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کے منصوبے اور جدید ارلی وارننگ سسٹم پر توجہ دینا ضروری ہے۔

مزید پڑھیں: ’یہ سڑکیں کبھی زیرِ آب نہیں آئیں، تعمیراتی کام نے اسلام آباد کا حلیہ بگاڑ دیا‘، شدید بارش سے تباہی پر صارفین برہم

متعلقہ اداروں کو آئندہ چند روز کے دوران مسلسل الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ شہریوں، خصوصاً نالہ لئی اور دیگر برساتی نالوں کے قریب رہائش پذیر افراد، سیاحوں اور مسافروں کو احتیاط برتنے اور شدید بارش کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کا مشورہ دیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp