افغانستان کے ایک کھرب ڈالر کے معدنی ذخائر پر اصل قبضہ کس کا؟ طالبان کے اندر قندھار اور حقانی نیٹ ورک کی کشمکش

بدھ 2 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

افغانستان کے تقریباً ایک کھرب ڈالر مالیت کے معدنی ذخائر ملک کے عوام کی خوش حالی کا ذریعہ بننے کے بجائے طالبان کے اندر طاقت اور وسائل پر قبضے کی کشمکش کا مرکز بن گئے ہیں۔ معدنی وسائل سے مالا مال صوبوں میں مقامی آبادی ماحولیاتی، سماجی اور معاشی نقصانات برداشت کر رہی ہے، جبکہ کان کنی سے حاصل ہونے والی آمدن پر طالبان کے قندھار مرکز اور حقانی نیٹ ورک سے وابستہ دھڑوں کے درمیان رسہ کشی جاری ہے۔

افغانستان میں اہم معدنی ذخائر ہزارہ جات، شمالی اور مشرقی علاقوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ بامیان اور دایکندی میں تانبے اور کوئلے کے ذخائر، بدخشاں میں قیمتی پتھروں اور لاجورد، بلخ اور سرِپل میں گیس و کوئلے جبکہ ننگرہار اور لوگر میں تانبے، قیمتی پتھروں اور جیڈ کے ذخائر موجود ہیں۔ ان میں سے بیشتر علاقے قندھار جیسے پشتون اکثریتی طالبان مرکز سے مختلف نسلی آبادیوں پر مشتمل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:افغانستان: سونے کی کان کنی پر طالبان اور مقامی آبادی میں جھڑپیں، متعدد زخمی

اس کے باوجود معدنی دولت پر فیصلہ کن اختیار قندھار میں مرکوز ہوتا جا رہا ہے۔ طالبان کے سپریم لیڈر ہبت اللہ اخوندزادہ قندھار سے اپنے قریبی حلقے کے ذریعے نظام چلا رہے ہیں اور سیکیورٹی کے ساتھ ساتھ ریاستی آمدن کے ذرائع پر بھی مرکزی کنٹرول بڑھا رہے ہیں۔

2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد حقانی نیٹ ورک نے کسٹمز، بندرگاہوں اور پاسپورٹ ڈائریکٹوریٹ جیسے آمدن پیدا کرنے والے اہم شعبوں پر اثر و رسوخ قائم کیا۔ بعد ازاں قندھار کی قیادت نے حقانی سے وابستہ عہدیداروں کو کسٹمز اور بندرگاہوں سے ہٹا کر اپنے وفادار افراد تعینات کرنا شروع کیے، جسے آمدن کے اہم ذرائع پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش قرار دیا گیا۔

کان کنی کا شعبہ بھی اسی کشمکش کی زد میں ہے۔ ماہرین کے مطابق کان کنی سے حاصل ہونے والی بڑی مقدار میں آمدن حقانی نیٹ ورک کے پاس جا رہی ہے اور اس خدشے کا اظہار بھی کیا گیا ہے کہ یہ رقم عوامی خدمات پر خرچ ہونے کے بجائے بیرون ملک منتقل ہوسکتی ہے۔

جون 2026 میں قندھار کی قیادت نے بدخشاں میں تقریباً ایک ہزار خصوصی فورسز بھیجیں تاکہ کانوں کا کنٹرول مقامی اور مختلف دھڑوں سے لے کر مرکزی انتظامیہ کے ہاتھ میں لایا جاسکے۔

یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں اندرونی تناؤ، ہمارے امکانات اور امریکا

دلچسپ امر یہ ہے کہ جن علاقوں میں یہ معدنی دولت موجود ہے، وہاں بڑی تعداد میں تاجک، ہزارہ اور ازبک آبادی آباد ہے۔ مقامی لوگ اپنی زمینوں میں ہونے والی کان کنی کے ماحولیاتی اور سماجی اثرات برداشت کرتے ہیں، مگر آمدن اور فیصلوں پر ان کا اختیار نہ ہونے کے برابر ہے۔ کان کنی کے نتیجے میں بچوں سے مشقت، ماحولیاتی تباہی اور مقامی آبادی کی جبری بے دخلی جیسے مسائل بھی سامنے آئے ہیں۔

یوں افغانستان کی معدنی دولت کی کہانی محض ’طالبان بمقابلہ دنیا‘ نہیں بلکہ طالبان کے اندر وسائل اور اقتدار پر قندھار اور حقانی نیٹ ورک کی کشمکش بھی ہے، جس میں معدنی دولت سے مالا مال علاقوں کے عام شہری سب سے زیادہ قیمت ادا کر رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp