نیپال میں سیلاب: لاپتا افراد کے زندہ ہونے کی امیدیں معدوم، چین نے تبت کے متاثرہ علاقے تک رسائی بحال کردی

بدھ 2 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نیپال میں تباہ کن سیلاب کے ایک ہفتے بعد ہزاروں لاپتا افراد کی زندہ بچنے کی امیدیں دم توڑنے لگی ہیں، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ پن بجلی منصوبوں کی سرنگوں میں پھنسے درجنوں افراد کے اب بھی زندہ ہونے کا امکان ہے۔

ہمالیہ میں برفانی تودہ گرنے کے بعد آنے والے اچانک سیلاب نے نیپال کے پہاڑی علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی، جس کے نتیجے میں کم از کم ایک ہزار 114 افراد ہلاک جبکہ تقریباً 4 ہزار افراد لاپتا ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:نیپال میں سیلابی تباہ کاری: مذہبی رسومات ادا کیے بغیر ہی اجتماعی تدفین کا آغاز

حکام کے مطابق امدادی کارروائیوں کا مرکز پن بجلی گھروں کے ملبے اور سرنگیں ہیں، جہاں پھنسے افراد کے زندہ بچ جانے کا امکان موجود ہے۔

نیپال بجلی اتھارٹی کے بورڈ رکن امشو کرن شاہی نے کہا کہ پن بجلی گھروں میں لوگوں کے قیام کے لیے جگہیں اور کمرے موجود ہوتے ہیں، اس لیے سرنگوں میں موجود افراد کے پاس خوراک اور پانی ہونے کے باعث ایک ہفتے بعد بھی ان کے زندہ ہونے کا قوی امکان ہے۔

حکام کے مطابق 4 منصوبوں کی سرنگوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں یا ان کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ ان میں 2 منصوبوں میں تقریباً 100 افراد لاپتا ہیں اور وہاں زندہ افراد کی موجودگی کی امید زیادہ ہے کیونکہ سرنگوں میں ہوا موجود ہے۔

تریشولی تھری اے منصوبے کے حکام کا خیال ہے کہ سرنگ کے اندر خشک جگہ موجود ہے اور وہاں آکسیجن پہنچ رہی ہوگی۔ امدادی کارکن سرنگ میں آکسیجن پہنچانے کے لیے پائپ بھی استعمال کررہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: چین اور نیپال کی سرحد پر تباہ کن سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئیں

سرنگوں میں پھنسے افراد کی تلاش کے لیے بھارت، چین اور امریکا کی خصوصی امدادی ٹیمیں بھی کارروائیوں میں حصہ لے رہی ہیں۔

نیپال میں دیگر مقامات پر زندہ افراد کی تلاش کی امیدیں کم ہوتی جارہی ہیں، تاہم چین کی سرحد سے متصل پہاڑی علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

نیپال کے قومی ہنگامی مرکز کے ایک سینئر عہدیدار فنیندرا پاؤڈیل نے کہا کہ زندہ افراد کی تلاش کی امید کم ہورہی ہے، تاہم امدادی کارکن امید برقرار رکھتے ہوئے تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔

تبت میں امدادی کارروائیوں کے لیے راستہ بحال

چین کے زیر انتظام تبت میں سیلاب اور تباہی سے ہلاکتوں کی سرکاری تعداد 16 جبکہ لاپتا افراد کی تعداد 546 ہے۔ چین نے نیپال سے ملحقہ گیریونگ سرحدی گزرگاہ تک جانے والی واحد سڑک مکمل طور پر بحال کردی ہے، جس کے بعد بھاری مشینری پہلی مرتبہ مرکزی متاثرہ علاقے تک پہنچ سکی ہے۔

چینی سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق بڑی تعداد میں بھاری مشینری اور امدادی سامان متاثرہ علاقے میں پہنچ گیا ہے۔ امدادی ٹیموں نے زندگی کی موجودگی کا پتا لگانے والے آلات اور تربیت یافتہ کتوں کی مدد سے تلاش شروع کردی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چین میں سیلابی موسم عروج پر، ہیلونگ جیانگ میں ہنگامی اقدامات

مسلسل بارش اور دشوار گزار پہاڑی علاقے کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔ امدادی کارکنوں کو تنگ پہاڑی گھاٹی میں ایک جانب غیر مستحکم چٹانوں اور دوسری جانب تیز بہتے دریا کے درمیان کام کرنا پڑرہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp