کراچی کی فراموش شدہ تامل کمیونٹی: جناح اسپتال کے عقب میں آباد ایک انوکھا تمدنی گوشہ

جمعرات 3 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

روشنیوں کے شہر کراچی کو اکثر ’منی پاکستان‘ کہا جاتا ہے، جہاں ملک کے ہر کونے سے تعلق رکھنے والے زبان اور ثقافت کے رنگ یکجا ہوتے ہیں۔ لیکن اس شہر کے سینے میں کچھ ایسی خاموش اور گمنام برادریاں بھی سانس لے رہی ہیں جن کی تاریخ اور وجود سے خود کراچی کے بیشتر رہائشی ناواقف ہیں۔ انہی میں سے ایک تامل کمیونٹی ہے، جو جنا ح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کے عقب اور کینٹ اسٹیشن کے قریب واقع کیمپنگ گراؤنڈ / ڈینسو ہال کے قریبی محلے میں آباد ہے۔

قیام کی تاریخ: مدراس سے کراچی تک کا سفر

کراچی میں تامل برادری کی آمد کی داستان قیامِ پاکستان سے پہلے، برطانوی راج کے دور سے شروع ہوتی ہے۔ بیسویں صدی کے اوائل میں، جب کراچی کی بندرگاہ اور ریلوے نیٹ ورک کو وسعت دی جا رہی تھی، جنوبی ہند (خاص طور پر مدراس، جو اب چنائی ہے) سے تامل زبان بولنے والے افراد روزگار کی تلاش میں یہاں منتقل ہوئے۔

صحت و صفائی کا شعبہ

برطانیہ کے دورِ حکومت میں جب ملٹری اسپتال (جو بعد میں جناح اسپتال بنا) اور ریلوے کینٹ کے علاقے قائم کیے گئے، تو تامل برادری کے اکثر افراد کو پیرامیڈیکل اسٹاف، نرسنگ، اور صفائی ستھرائی کے شعبوں میں روزگار ملا۔

تقسیمِ ہند کا اثر

1947 میں تقسیم کے وقت جہاں کئی غیر مسلم خاندان بھارت منتقل ہوئے، وہیں ان تامل خاندانوں کی ایک بڑی تعداد نے اسی شہر کو اپنا مستقل مسکن بنا لیا اور جناح اسپتال کے قریبی کوارٹرز اور کچی آبادیوں میں مقیم رہی۔

مذہبی شناخت اور ثقافتی بقا

جناح اسپتال کے پیچھے آباد یہ تامل برادری بنیادی طور پر مسیحی (تامل کرسچن) عقیدے سے تعلق رکھتی ہے، جبکہ ان میں سے کچھ افراد ہندو تامل بھی رہے ہیں۔

کلیسیا اور عبادات

اس علاقے میں ان کا اپنا مقامی چرچ قائم ہے، جہاں خصوصی مذہبی مواقع اور اتوار کی عبادت میں بعض اوقات تامل زبان کی دعا اور گیت (Hymns) کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

زبان کا تحفظ

گھروں کے اندر اور بزرگوں کی حد تک تامل زبان آج بھی بولی جاتی ہے۔ تاہم نئی نسل اردو اور انگریزی روانی سے بولتی ہے، اور اب تامل صرف ایک مادری بولی کی حد تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔

ثقافتی و غذائی روایات

ان کے گھروں میں جنوبی ہند کی روایتی ڈشز جیسے ڈوسا، ادلی اور ناریل کی چٹنی کا استعمال عام ہے، جسے وہ اپنے خاص خاندانی تہواروں پر بڑے اہتمام سے بناتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

انسٹاگرام پر 90 منٹ تک کی طویل ویڈیوز پوسٹ کرنے کا نیا فیچر متعارف

سی پیک نے معیشتوں کو جوڑا، چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور ذہنوں کو جوڑے گا، عطا اللہ تارڑ

سیکیورٹی فورسز کے 67 بڑے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز: داعش کے 50 سے زائد دہشتگرد ہلاک، 100 سے زائد گرفتار

پاکستان کو بدنام کرنے کی نئی سازش پکڑی گئی، طالبان انٹیلی جنس  کا اعترافی بیانات پر مبنی منفی منصوبے پر کام جاری

شاندانہ گلزار کے بیان پر علی امین گنڈاپور کا سخت ردعمل، مبینہ لیکڈ آڈیو سامنے آگئی

ویڈیو

پاکستانی ہر حال میں کشمیریوں کے ساتھ ہیں، شاہراہ دستور پر ارکان پارلیمنٹ اور عوام کا کشمیریوں سے اظہار یکجہتی

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

چار دیواری نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں