5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

منگل 27 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اکیسویں صدی میں خواتین مردوں کے شانہ بشانہ زندگی کے ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں۔ کوئٹہ میں 5 بہنوں نے گھر کے روایتی ذائقوں کو ریسٹورنٹ تک پہنچا کر کاروباری دنیا میں قدم رکھا ہے۔ رامین ریسٹورنٹ کی یہ کہانی عزم، محنت اور خاندانی تعاون کی ایک منفرد مثال پیش کرتی ہے۔

وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے رامین ریسٹورنٹ کی مالک نے بتایا کہ انہیں یہ کاروبار شروع کیے تقریباً ڈیڑھ سال ہو چکا ہے۔ ابتدا میں وہ کوئٹہ کے کینٹ کے علاقے میں کاروبار کر رہی تھیں، تاہم بعد ازاں ریسٹورنٹ کو موجودہ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔

مزید پڑھیں:کوئٹہ میں نوجوانوں کی فنی تربیت کا پروگرام شروع، 720 سے زائد افراد کو ہنر سکھانے کا ہدف

ان کا کہنا تھا کہ وہ 5 بہنیں اور 2 بھائی ہیں اور سب مل کر اپنے خاندان کے لیے روزگار کا ذریعہ پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ریسٹورنٹ کے مینیو میں چینی، کانٹی نینٹل اور دیگر اقسام کے کھانے شامل ہیں، تاہم ان کا بنیادی مقصد صارفین کو ریسٹورنٹ کے ماحول میں گھر جیسا ذائقہ فراہم کرنا ہے۔

رامین کے مطابق اس سفر میں خاندان کی حمایت نے اہم کردار ادا کیا، بالخصوص ان کے بھائیوں نے بھرپور ساتھ دیا اور مشکلات کے باوجود کاروبار جاری رکھنے کے لیے ان کی حوصلہ افزائی کی۔

انہوں نے بتایا کہ ریسٹورنٹ کو صارفین کی جانب سے اچھا ردعمل مل رہا ہے۔ کوئٹہ کے مختلف علاقوں کے علاوہ ایئرپورٹ سائیڈ، بائی پاس اور قلات سمیت دور دراز مقامات سے بھی لوگ یہاں کھانا کھانے آتے ہیں۔ بعض صارفین سوشل میڈیا پر ویڈیوز دیکھنے کے بعد خصوصی طور پر ان کا پلیٹر چکھنے کے لیے ریسٹورنٹ کا رخ کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ریسٹورنٹ کے کاروبار میں سخت مقابلے کا سامنا ہے اور بعض لوگوں نے ان کی حوصلہ شکنی بھی کی، تاہم انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ ان کے مطابق جب کسی کام کا آغاز کر لیا جائے تو مشکلات سے گھبرا کر پیچھے ہٹنے کے بجائے اسے کامیابی کے ساتھ آگے بڑھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

خواتین کے نام اپنے پیغام میں رامین ریسٹورنٹ کی مالک نے کہا کہ اگر کسی خاتون میں صلاحیت اور کچھ کر دکھانے کا عزم ہے تو اسے لوگوں کی باتوں یا مخالفت کے خوف سے گھر بیٹھنے کے بجائے عملی میدان میں قدم رکھ کر اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرنا چاہیے۔

مزید پڑھیں:کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں 5.9 شدت کا زلزلہ

ان کا کہنا تھا کہ خواتین کو اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کرتے ہوئے آگے بڑھنا چاہیے اور اپنی محنت سے ثابت کرنا چاہیے کہ وہ بھی کاروبار سمیت زندگی کے ہر شعبے میں کامیابی حاصل کر سکتی ہیں۔

کاروباری سرگرمیوں میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شمولیت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اگر انہیں مناسب مواقع، محنت کرنے کا جذبہ اور خاندان کی حمایت میسر ہو تو وہ نہ صرف اپنے لیے روزگار کے مواقع پیدا کر سکتی ہیں بلکہ اپنے خاندان کی معاشی خودمختاری میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجاب میں جنگلی حیات کے تحفظ کے مثبت نتائج، اڑیال کی آبادی مستحکم ہونے لگی

مائیکروسافٹ کا 60 ہزار ملازمین کو رضاکارانہ علیحدگی پیکیج دینے کا اعلان

خیبرپختونخوا پولیس کے لیے خصوصی انشورنس پلان، شہدا کے خاندانوں اور زخمی اہلکاروں کو کیا فائدہ ہوگا؟

موسم سرما کی آمد، بلوچستان کے کون سے علاقے سیاحوں کے لیے پُرکشش بن سکتے ہیں؟

نہ چار دیواری، نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

ویڈیو

نہ چار دیواری، نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

پشاور میں زیر زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک کم، 2050 تک شدید بحران کا خدشہ

نوشہرو فیروز: نامکمل قومی شاہراہ 3 برسوں سے سندھ حکومت کی توجہ کی طالب، مایوس شہری نئے انتظامی یونٹس کے منتظر

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں