الحمراء۔۔۔ادبی وثقافتی ترقی کے نئے افق پر

جمعرات 3 ستمبر 2026
author image

صبح صادق

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حکومتِ پنجاب کے وژن کے تحت ادبی، ثقافتی اور فنونِ لطیفہ کی سرگرمیوں کا جائزہ

وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کے وژن اور وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب محترمہ عظمیٰ بخاری کی متحرک قیادت میں لاہور آرٹس کونسل (الحمرا) نے رواں برس میں بھی   ادب، ثقافت، فنونِ لطیفہ، قومی اقدار اور تہذیبی ورثے کے فروغ کے لیے غیرمعمولی سرگرمیوں کا انعقاد کیا۔ ان پروگراموں کا بنیادی مقصد پنجاب کی ثقافتی شناخت کو مضبوط بنانا، نوجوان نسل کو اپنی تہذیب و تمدن سے جوڑنا، قومی بیانیے کو فروغ دینا اور فن و ادب کے ذریعے مثبت سماجی اقدار کو عام کرنا تھا۔

لاہور آرٹس کونسل الحمرا کے زیرِ اہتمام یاسر حسین کا تھیٹر ڈرامہ ’’سو سوئٹ‘‘ فیملی تھیٹر کی بحالی اور پاکستانی معاشرتی اقدار سے ہم آہنگ معیاری تفریح کے ایک نئے دور کا نمایاں آغاز ثابت ہوا۔ پنجاب سمیت ملک بھر سے ملنے والی بھرپور پذیرائی نے اس پروڈکشن کو محض ایک تھیٹر شو کے بجائے فیملی تھیٹر ریوائیول کا ایک قابلِ حوالہ ماڈل بنا دیا۔ وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب محترمہ عظمی بخاری کی خصوصی توجہ اور سرپرستی میں ہونے والی اس کاوش نے ثابت کیا کہ جدید تخلیقی انداز، معیاری پروڈکشن اور ہماری تہذیبی اقدار کو یکجا کرکے تھیٹر کو ایک بار پھر خاندانوں کے لیے پُرکشش اور مؤثر ثقافتی پلیٹ فارم بنایا جا سکتا ہے۔

ایگزیکٹو ڈائریکٹر لاہور آرٹس کونسل (الحمرا) محمد نواز گوندل کی متحرک قیادت، مسلسل نگرانی اور انتھک کاوشوں کے باعث سال 2026 کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران الحمرا کی پروگرامنگ میں غیرمعمولی وسعت، تنوع اور معیار دیکھنے میں آیا۔ انہوں نے ادارے کی ثقافتی سرگرمیوں کو نہ صرف عوامی سطح پر زیادہ مؤثر انداز میں پیش کیا بلکہ الحمرا کو قومی سطح پر ایک فعال، متحرک اور معتبر ثقافتی ادارے کے طور پر مزید مستحکم کیا۔ ان کی قیادت میں ادب، موسیقی، تھیٹر، بصری فنون، قومی ورثے اور نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیتوں کے فروغ کے لیے متعدد کامیاب اقدامات کیے گئے۔

محمد نواز گوندل کی کاوشوں کا اعتراف بین الاقوامی سطح پر بھی کیا گیا۔ ان کی کوششوں کے نتیجے میں پاکستان میں جرمن سفارت خانے نے الحمرا میوزیم آف ماڈرن آرٹ میں موجود نادر اور تاریخی فن پاروں کی کنزرویشن گریڈ ری فریمنگ کے لیے مالی تعاون فراہم کرنے کا اعلان کیا۔ اس منصوبے کے تحت قومی شہرت یافتہ اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ مصوروں کے اصل فن پاروں کو بین الاقوامی میوزیم معیار کے مطابق محفوظ کیا جا رہا ہے۔ جدید کنزرویشن میٹریل، ایسڈ فری ماؤنٹنگ، یو وی پروٹیکٹو گلاس اور معیاری فریمنگ کے ذریعے ان فن پاروں کی اصل حالت، رنگوں، ساخت اور تاریخی اہمیت کو آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ بنایا جائے گا، جس سے الحمرا میوزیم آف ماڈرن آرٹ کی عالمی وقعت میں مزید اضافہ ہوگا۔

بین الاقوامی ثقافتی روابط کے فروغ کے لیے محمد نواز گوندل نے حال ہی میں کینیڈا کا  ثقافتی دورہ بھی کیا، جہاں انہوں نے مختلف معروف عجائب گھروں، آرٹ اداروں اور ثقافتی مراکز کا مطالعاتی دورہ کیا اور اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کے نتیجے میں الحمرا اور کینیڈا کے ثقافتی اداروں کے درمیان تعاون، فنکاروں کے تبادلے، مشترکہ نمائشوں، تربیتی پروگراموں اور ثقافتی روابط کو فروغ دینے کی نئی راہیں ہموار ہوئیں۔ یہ پیش رفت اس امر کی عکاس ہے کہ الحمرا نہ صرف قومی بلکہ علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کی ثقافتی نمائندگی مؤثر انداز میں انجام دے رہا ہے۔

سالِ رواں میں الحمرا آرٹس کونسل علمی، ادبی، ثقافتی، موسیقی، تھیٹر، بصری فنون اور تربیتی سرگرمیوں کا سب سے فعال اور مؤثر مرکز بن کر ابھری۔ حکومتِ پنجاب کے ثقافتی وژن کو عملی شکل دینے کے لیے ہر سطح پر تسلسل، جدت اور معیار کو یقینی بنایا گیا۔

ان دنوں الحمرا اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس کے زیرِ اہتمام سمر کیمپ کامیابی سے جاری ہے، جس میں بچوں کو ڈرائنگ، پینٹنگ، خطاطی اور تخلیقی صلاحیتوں کے فروغ کی عملی تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔ یہ کیمپ نئی نسل میں فنونِ لطیفہ سے محبت پیدا کرنے اور ان کی تخلیقی استعداد کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

الحمرا میلوڈیز اور الحمرا لائیوز کے تحت باقاعدگی سے معیاری موسیقی کی محافل منعقد کی جا رہی ہیں، جنہوں نے نوجوان نسل اور موسیقی سے وابستہ حلقوں میں بھرپور پذیرائی حاصل کی۔ ان پروگراموں کے ذریعے کلاسیکی، نیم کلاسیکی، صوفی اور جدید موسیقی کے فروغ کے ساتھ ساتھ نئے فنکاروں کو بھی اظہار کا مؤثر پلیٹ فارم فراہم کیا گیا۔

ماہِ محرم کے موقع پر “واقعۂ کربلا کا فنون میں اظہار” کے عنوان سے ایک اہم فکری نشست منعقد کی گئی، جس میں ڈاکٹر مرتضیٰ جعفری، وسیم عباس اور اصغر ندیم سید نے واقعۂ کربلا کے فکری، ادبی اور فنّی پہلوؤں پر سیر حاصل گفتگو کی۔ اس نشست نے مذہبی و تہذیبی شعور کو علمی انداز میں اجاگر کیا۔

الحمرا اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس چودہ مختلف شعبہ جات میں موسیقی، رقص، مصوری، مجسمہ سازی، خطاطی، تھیٹر، ساز اور دیگر فنون کی تعلیم و تربیت کا سلسلہ کامیابی سے جاری رکھے ہوئے ہے، جہاں سینکڑوں طلبہ باقاعدہ فنی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

گزشتہ ماہ مجسمہ سازی پر دو روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا، جس میں نوجوان فنکاروں نے ممتاز ماہرین سے عملی تربیت حاصل کی۔ اس ورکشاپ نے بصری فنون کے فروغ اور نوجوان ٹیلنٹ کی حوصلہ افزائی میں نمایاں کردار ادا کیا۔

محترمہ عظمیٰ بخاری کے جدید وژن کے مطابق الحمرا کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو مؤثر، فعال اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا گیا۔ ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے الحمرا کی سرگرمیوں، حکومتی ثقافتی اقدامات، فنکاروں کی خدمات اور عوامی شرکت کو لاکھوں افراد تک پہنچایا گیا، جس سے ادارے کی شناخت اور عوامی رسائی میں نمایاں اضافہ ہوا۔

سال بھر ملک کے نامور فنکاروں اور گلوکاروں، جن میں جواد بشیر، بلال سعید، سجاد علی اور ذیشان علی شامل ہیں، نے الحمرا کے مختلف پروگراموں میں اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ ان پروگراموں نے نوجوان نسل کو معیاری موسیقی سے روشناس کرایا اور الحمرا کو قومی سطح پر ایک مضبوط ثقافتی مرکز کے طور پر مزید مستحکم کیا۔

الحمرا میوزیم آف ماڈرن آرٹ نے بھی اپنی علمی و ثقافتی ذمہ داریاں بھرپور انداز میں ادا کرتے ہوئے بصری فنون کے فروغ، نمائشوں اور آرٹ کے تحفظ کے سلسلے میں اہم کردار ادا کیا۔

معرکۂ حق کی تقریبات قومی جذبے اور بھرپور جوش و خروش سے منائی گئیں۔ سیکرٹری اطلاعات و ثقافت پنجاب سید طاہر رضا ہمدانی اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد نواز گوندل نے خصوصی نمائش کا افتتاح کیا، جبکہ الحمرا اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس کے طلبہ نے ملی نغمے اور قومی ترانے پیش کرکے شرکاء کے قومی جذبے کو مہمیز دی۔

دو روزہ لاہور کتھک فیسٹیول کے انعقاد نے کلاسیکی رقص کی روایت کو نئی زندگی بخشی اور نوجوان فنکاروں کو بین الاقوامی معیار کے اس فن سے سیکھنے کا موقع فراہم کیا۔

تین روزہ فیض فیسٹیول، لاہور لٹریری فیسٹیول اور “فکرِ تازہ” فیسٹیول کے ذریعے ادب، فکر، مکالمے اور تخلیقی اظہار کی نئی جہتیں متعارف کرائی گئیں۔ ان تقریبات میں ملک بھر کے نامور ادیبوں، شاعروں، دانشوروں اور محققین نے شرکت کی۔

حکومتِ پنجاب کی کاوشوں سے بسنت کی ثقافتی روایت کو نئے اور منظم انداز میں بحال کرنے کے اقدامات کیے گئے، جس میں محترمہ عظمیٰ بخاری کی خصوصی دلچسپی اور قیادت نمایاں رہی۔ اس اقدام نے پنجاب کی ثقافتی شناخت کو اجاگر کرنے اور عوامی سطح پر مثبت سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

یومِ یکجہتی کشمیر سمیت قومی اہمیت کے تمام ایام الحمرا میں بھرپور قومی جذبے سے منائے گئے۔ ان پروگراموں کے ذریعے قومی بیانیے، یکجہتی، حب الوطنی اور پاکستان کے مؤقف کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا گیا۔

محفلِ قوالی، جشنِ لاہور، محفلِ عشق، مشاعرے، ادبی نشستیں، موسیقی کی شامیں، تھیٹر پرفارمنسز، آرٹ نمائشیں اور دیگر ثقافتی تقریبات نے زبان و ادب، تہذیب و تمدن، صوفیانہ روایت اور قومی ورثے کو فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کیا۔

سال 2026 کے دوران لاہور آرٹس کونسل (الحمرا) نے حکومتِ پنجاب، وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف اور وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب محترمہ عظمیٰ بخاری کے وژن کے مطابق مقامی، قومی اور بین الاقوامی سطح پر ادب، ثقافت، فنونِ لطیفہ، قومی شناخت اور تہذیبی ورثے کے فروغ میں نمایاں، فعال اور مؤثر کردار ادا کیا۔ ادارے کی مسلسل، متنوع اور معیاری سرگرمیوں نے نہ صرف پنجاب کے ثقافتی تشخص کو مضبوط کیا بلکہ نوجوان نسل کو اپنی زبان، تہذیب، تاریخ اور فنون سے جوڑنے، عالمی ثقافتی روابط کو وسعت دینے اور حکومتِ پنجاب کے ثقافتی وژن کو لاکھوں افراد تک مؤثر انداز میں پہنچانے میں بھی قابلِ قدر کامیابیاں حاصل کیں۔

حکومتِ پنجاب کی معزز وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے وژن کے تحت لاہور آرٹس کونسل الحمرا میں جاری چیف منسٹرز انیشی ایٹو محض تزئین و آرائش یا تعمیراتی سرگرمیوں تک محدود نہیں، بلکہ یہ پاکستان کے ممتاز ترین ثقافتی ادارے کو بین الاقوامی معیار کے مطابق جدید خطوط پر استوار کرنے کا ایک جامع اور دور رس منصوبہ ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد الحمرا کو ایک ایسے State-of-the-Art Cultural Institution کی صورت میں ترقی دینا ہے جہاں فنونِ لطیفہ، ادب، موسیقی، تھیٹر، مصوری، تعلیم اور تخلیقی سرگرمیوں کو عالمی معیار کی سہولیات میسر ہوں اور یہ ادارہ پاکستان کی ثقافتی شناخت کا مؤثر ترجمان بن کر ابھرے۔

صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت عظمیٰ بخاری وزیراعلیٰ پنجاب کے اس وژن کو عملی شکل دینے کے لیے بھرپور انداز میں متحرک ہیں۔ ان کی نگرانی اور رہنمائی میں الحمرا کی جدیدکاری کا عمل نہایت منظم انداز سے جاری ہے، تاکہ ادارے کا ہر شعبہ عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو۔ ان کی کوشش ہے کہ الحمرا نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کے نمایاں ثقافتی مراکز میں شمار ہو، جہاں فنکار، ادیب، طلبہ، محققین اور ثقافت سے وابستہ افراد کو عالمی معیار کی سہولیات اور سازگار ماحول میسر آئے۔

اس جامع منصوبے کے تحت حکومتِ پنجاب کے متعلقہ محکمے، بالخصوص کمیونیکیشن اینڈ ورکس (C&W)، مختلف ترقیاتی سرگرمیوں پر عمل پیرا ہیں۔ نامور ماہرِ تعمیرات نیر علی دادہ بطور پرنسپل کنسلٹنٹ اس منصوبے کی نگرانی کر رہے ہیں، جبکہ بین الاقوامی شہرت یافتہ مصور عمران قریشی اپنی فنی رہنمائی سے اس امر کو یقینی بنا رہے ہیں کہ الحمرا کی منفرد شناخت، جمالیاتی حسن اور ثقافتی ورثہ برقرار رکھتے ہوئے اسے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جائے۔

الحمرا آرٹس سینٹر، مال روڈ میں موجود تینوں مرکزی آڈیٹوریمز کو جدید ترین ساؤنڈ، لائٹنگ، اسٹیج میکانزم اور تکنیکی سہولیات سے آراستہ کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح پتلی تماشا گھر، ہال نمبر 4، اوپن ایئر تھیٹر، آرٹ گیلری، آرٹ میوزیم، الحمرا لائبریری، ادبی بیٹھک، الحمرا اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس اور الحمرا اسٹوڈیوز میں بھی ہمہ جہت بہتری، تزئین و آرائش، تکنیکی اپ گریڈیشن اور جدید سہولیات کی فراہمی کا کام تیزی سے جاری ہے، تاکہ ہر شعبہ اپنی استعداد کے مطابق بہترین خدمات انجام دے سکے۔

اس منصوبے کا مقصد صرف عمارتوں کو جدید بنانا نہیں بلکہ ایک ایسا تخلیقی، علمی اور ثقافتی ماحول تشکیل دینا ہے جہاں نئی نسل اپنی فنی صلاحیتوں کو عالمی معیار کے مطابق پروان چڑھا سکے۔ حکومتِ پنجاب کا عزم ہے کہ الحمرا کو ایسا ادارہ بنایا جائے جہاں ادب، فنونِ لطیفہ، موسیقی، تھیٹر، مصوری اور تخلیقی علوم کی ترویج جدید وسائل، معیاری انفراسٹرکچر اور پیشہ ورانہ ماحول کے ذریعے ہو اور جہاں سے پاکستان کی ثقافتی شناخت دنیا بھر میں مزید مؤثر انداز سے اجاگر ہو۔

ایگزیکٹو ڈائریکٹر لاہور آرٹس کونسل الحمرا محمد نواز گوندل باقاعدگی سے ترقیاتی کاموں کا جائزہ لے رہے ہیں اور متعلقہ محکموں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ منصوبہ مقررہ مدت میں اعلیٰ معیار کے ساتھ مکمل ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کا یہ تاریخی اقدام الحمرا کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ ہے، جو ادارے کو جدید سہولیات، عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور تخلیقی امکانات سے آراستہ کرتے ہوئے پاکستان کے سب سے مؤثر ثقافتی مرکز کے طور پر مزید مستحکم کرے گا۔

یہ جامع منصوبہ دراصل حکومتِ پنجاب کے اس وژن کا عملی اظہار ہے کہ ثقافتی ادارے صرف تقریبات کے انعقاد تک محدود نہ رہیں بلکہ وہ ادب، فن، تحقیق، تربیت، تخلیقی اظہار اور قومی ثقافتی شناخت کے مضبوط مراکز بنیں۔ منصوبے کی تکمیل کے بعد الحمرا نہ صرف قومی بلکہ بین الاقوامی سطح پر ادبی و ثقافتی سرگرمیوں، فنکارانہ تبادلوں، تعلیمی پروگراموں اور عالمی معیار کی تقریبات کی میزبانی کے لیے ایک مثالی ادارے کے طور پر اپنی نئی شناخت قائم کرے گا اور پاکستان کی تہذیبی و ثقافتی روایت کو دنیا کے سامنے ایک مضبوط اور باوقار انداز میں پیش کرے گا۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp