وہ خط جو کبھی پوسٹ نہیں کیا گیا

بدھ 2 ستمبر 2026
author image

مشکور علی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایک وقت تھا کہ ’بوہے‘ پر دستک ہوتی تو دل دھڑک اٹھتا تھا۔ دروازہ کھلتا، باہر ڈاکیا کھڑا ہوتا اور اس کے ہاتھ میں خط، جس میں کسی کے لیے خوشی کی خبر ہوتی یا کسی دور دیس میں مقیم اپنے کی خیریت، کسی عزیز کی یاد اور کبھی کوئی ایسا خط جسے کھولنے سے پہلے ہی نگاہیں پرنم ہوجاتیں۔

اس زمانے میں خط چند سیکنڈز میں نہیں پہنچتے تھے۔ کبھی کئی دن لگتے، کبھی کبھار ہفتے بھی، مگر شاید اسی تاخیر نے لفظوں کو وہ تاثیر دے رکھی تھی جو آج مفقود ہے۔

یکم ستمبر کو دنیا بھر میں خطوط نویسی کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ یہ دن ہمیں اس روایت کی طرف پلٹ کر دیکھنے کا موقع دیتا ہے جس نے صدیوں تک انسانوں کے درمیان فاصلے کم کیے۔ اس دن کی بنیاد 2014 میں آسٹریلوی مصنف، فنکار اور فوٹوگرافر رچرڈ سمپکن نے رکھی۔

رچرڈ سمپکن 1990 کی دہائی کے اواخر میں ان شخصیات کو خطوط لکھا کرتے تھے جنہیں وہ آسٹریلیا کے ’لیجنڈز‘ سمجھتے تھے۔ کئی شخصیات نے انہیں جواب بھی دیے۔ یہی خط و کتابت آگے چل کر ان کے ’آسٹریلین لیجنڈز‘ منصوبے اور ایک کتاب کا حصہ بنی۔ سمپکن نے محسوس کیا کہ ہاتھ سے لکھے خط میں ایک ایسی تاثیر ہے جس کا متبادل ڈیجیٹل پیغام ہو ہی نہیں سکتا۔

خط کی کہانی 2014 سے بہت پہلے شروع ہوچکی تھی۔ انسان نے جب لکھنا سیکھا تو فاصلوں پر موجود پیاروں تک اپنی آواز پہنچانے کا رستہ بھی نکال لیا۔ قدیم تہذیبوں میں خطوط احکامات، تجارت، سفارتکاری، جنگی معاملات اور ذاتی تعلقات کے لیے استعمال ہوتے رہے۔ کبھی پاپائرس پر لکھے گئے، کبھی مٹی کی تختیوں پر، کبھی چمڑے پر اور کبھی ایسے کاغذوں پر جنہیں وقت نے صدیوں بعد تاریخی دستاویزات بنا دیا۔

خط صرف رابطے کا ذریعہ نہیں اپنے عہد کا آئینہ بھی تھا۔ بادشاہوں کے خطوط تاریخ بنے، فلسفیوں کی خط و کتابت فکر کی دستاویزات بنیں، ادیبوں کے خطوط نے ان کی شخصیت کے وہ پہلو محفوظ کیے جو ان کی کتابوں میں بھی نہیں ملتے، جبکہ محبت کے خطوط نے انسانی جذبات کی ایک پوری دنیا اپنے اندر نقش کرلی۔

وہ زمانہ جب ٹیلی فون نہیں تھا، موبائل فون کا وجود نہیں تھا، بیرونِ شہر یا دنیا سے رابطے کا معتبر ذریعہ ڈاک تھی۔ گاؤں سے شہر جانے والا بیٹا اپنی ماں کو خط لکھتا، پردیس جانے والا شوہر گھر والوں کو اپنی خیریت بھیجتا، طالبعلم والدین کو پڑھائی کے بارے میں بتاتے اور عید کے مواقع پر دور بیٹھے عزیزوں کو مبارکباد بھی خط ہی کے ذریعے وصول پاتی۔

اور پھر ڈاکیا جو محض ڈاکیا نہیں تھا۔ وہ خوشی، غم، امید اور خبر کا سفیر ہوتا تھا۔ اس کے ہاتھ میں کبھی اپنوں کی خیریت ہوتی، کبھی برسوں سے بچھڑے شخص کی یاد اور کبھی ایسا پیغام جس کا انتظار پورا گھر کررہا ہوتا تھا۔

گھر کے افراد لفافے پر لکھائی دیکھ کر پہچان لیتے تھے کہ خط کس کا ہے۔ کوئی طرز تحریر چہرے پر مسکراہٹ لے آتا تو کبھی خط کھولنے سے پہلے ہی اسے سینے سے لگا لیا جاتا۔ کبھی ایک خط کئی کئی مرتبہ پڑھا جاتا اور کبھی جواب لکھنے کے لیے کئی صفحات بھر جاتے کیونکہ خط میں صرف لفظ نہیں، کئی ان کہی کہانیاں بھی کسمساتی تھیں۔

آج ہم ’کیسے ہو؟‘ لکھتے ہیں اور چند سیکنڈ میں جواب چاہتے ہیں۔ جواب نہ آئے تو دوبارہ پیغام، پھر فون، پھر شاید ویڈیو کال۔ اس زمانے میں اسی جواب کے لیے کئی کئی دن گنے جاتے، کبھی ہفتوں انتظار کرنا پڑتا تھا۔ شاید اس انتظار میں اک عجب سی لذت بھی تھی اور محبت کی شدت بھی۔

خط لکھنے کے لیے وقت نکالنا پڑتا تھا۔ سوچنا پڑتا تھا کہ کیا لکھنا ہے، کیسے لکھنا ہے، کہاں سے شروع کرنا ہے اور کہاں ختم کرنا ہے؟ شاید اسی لیے خط میں الفاظ نسبتاً زیادہ ذمہ دار ہوتے تھے۔ آج ہم غصے میں ایک جملہ لکھتے ہیں اور فوراً بھیج دیتے ہیں۔ خط لکھنے والا غصے میں بھی پہلے کاغذ دیکھتا تھا، پھر قلم رکھ دیتا تھا، دوبارہ پڑھتا تھا، سوچتا تھا اور پھر خط پھاڑ دیتا تھا۔ خط ہمیں سکھاتا تھا کہ الفاظ ذمہ داری ہوتے ہیں۔

پھر دنیا بدلنے لگی۔ پہلے ٹیلی فون نے فاصلے کم کیے، پھر فیکس آیا، ای میل نے خط کے مقابلے میں رفتار کا نیا معیار قائم کیا، ایس ایم ایس نے پیغام کو مختصر کردیا اور بالآخر اسمارٹ فون نے دنیا کو ہماری ہتھیلی پر لا رکھا۔ اب واٹس ایپ ہے۔ ایک تصویر چند لمحوں میں دنیا کے دوسرے کونے پہنچ جاتی ہے۔ ویڈیو کال میں ہزاروں میل دور بیٹھا شخص اسکرین پر ہمارے سامنے ہوتا ہے۔ دعوت بھی وہیں ملتی ہے، عید کی مبارک باد بھی، خیریت بھی، محبت کا اظہار بھی اور ناراضی بھی۔ دنیا شاید کبھی اتنی قریب نہیں تھی۔

ہمارے پاس رابطے کے ذرائع پہلے سے کہیں زیادہ ہیں، لیکن کیا ہمارے پاس ایک دوسرے کے لیے وقت بھی اتنا ہی ہے؟ واٹس ایپ کا پیغام چند سیکنڈز میں پہنچ جاتا ہے، لیکن خط کسی شخص کے وقت کا اعتراف ہوتا تھا۔ اس میں صرف ’میں نے تمہیں یاد کیا‘ نہیں لکھا ہوتا تھا، بلکہ اس جملے کے پیچھے وہ وقت بھی موجود ہوتا تھا جو لکھنے والے نے کاغذ، قلم اور الفاظ کے ساتھ گزارا۔ شاید اسی لیے کسی پرانے صندوق سے برسوں بعد ملنے والا خط آج بھی دھڑکنیں بے ترتیب کردیتا ہے۔

کاغذ زرد ہوچکا ہوتا ہے۔ سیاہی مدھم پڑچکی ہوتی ہے۔ کنارے ٹوٹنے لگتے ہیں۔ مگر چند لفظ اچانک پورا زمانہ واپس لے آتے ہیں۔ ایک شخص جو دنیا میں نہیں رہا، دوبارہ ہمارے سامنے آجاتا ہے۔ ایک گھر جو کبھی آباد تھا، یاد بن کر لوٹ آتا ہے۔ ایک رشتہ جسے وقت نے دور کردیا تھا، چند سطروں میں پھر قریب ہوجاتا ہے۔ یہ خط کی طاقت ہے۔

جدید دنیا نے خط کو عجائب گھر کی زینت بنادیا ہے۔ اب ڈاکیا آتا بھی ہے تو بل یا سرکاری کاغذات یا آن لائن خریدی گئی اشیا و تحائف کے پارسل لاتا ہے جبکہ خوشی غمی کا پیغام، خیریت کی نوید، پیام عید اور شدتِ دید کی تاویلیں، سبھی کچھ وٹس ایپ کی مرہون منت ہیں۔

کیا خط کی دنیا ختم ہوگئی؟ شاید نہیں۔ یکم ستمبر ہمیں ماضی میں جانے کا مطالبہ نہیں کرتا۔ ٹیکنالوجی کو چھوڑ دینا ممکن ہے اور نہ ہی ضروری۔  سوال یہ ہے کہ جدید ذرائع استعمال کرتے ہوئے کیا ہم خط کی خوبصورت روایت کو بھی زندہ رکھ سکتے ہیں؟

کیوں نہ آج کسی ایسے شخص کو خط لکھا جائے جسے ہم برسوں سے جانتے ہیں؟ ماں یا باپ کو۔ کسی پرانے دوست کو۔ کسی ایسے عزیز کو جس سے اب بات تو نہیں ہوتی مگر دل میں اس کی جگہ اب بھی موجود ہے۔ یا اپنے بچوں کے نام ایک خط لکھ کر محفوظ کرلیا جائے، تاکہ وہ برسوں بعد اسے پڑھیں اور جان سکیں کہ وہ والدین کے لیے کتنی اہمیت رکھتے ہیں۔

ہم شاید خط کی دنیا میں واپس نہ جا پائیں کہ زمانہ آگے بڑھ چکا اور ٹیکنالوجی نے زندگی آسان بنادی ہے۔ مگر کچھ چیزیں ختم ہونے کے لیے نہیں ہوتیں، انہیں صرف کبھی کبھی پھر سے چھو لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ڈاکیے سے واٹس ایپ تک کا سفر صرف ٹیکنالوجی کا سفر نہیں۔ یہ انسانی روابط کی بدلتی ہوئی کہانی ہے۔

اس لیے ایک کاغذ اٹھائیں۔ قلم پکڑیں اور کسی پیارے کے نام چند سطریں لکھ دیں۔ ممکن ہے وہ خط کبھی ڈاکیے تک نہ پہنچے، یہ بھی ممکن ہے کہ اسے پڑھنے والا آپ کے سامنے بیٹھا ہو، ممکن ہے وہ خط برسوں کسی دراز میں خاموش پڑا رہے لیکن اگر وہ دل سے لکھا گیا تو اپنی منزل تک ضرور پہنچے گا۔

اور اگر یہ خط ’اُن‘ کے نام ہے تو اس میں اردو نظم کے سرخیل نصیر احمد ناصر کی یہ نظم ’ بارش اچانک تیز ہو گئی ہے‘ ضرور شامل کیجیے گا:

’تمھیں اُن خطوں کے ملنے کی امید ہے

جو کبھی پوسٹ نہیں کیے گئے

اور میں وہ نظمیں بھیجتا رہتا ہوں

جو کبھی لکھی نہیں جائیں گی

ہم دونوں

ایک طوالت پذیر خواب کی واماندگی میں

ایک دوسرے کی آنکھوں میں جاگ رہے ہیں

اور اس خواب سے باہر

طلوع و غروب کا کھیل جاری ہے

دن اور زمانہ کوئی بھی ہو

محبت کرنے والوں کے لیے رک کر نہیں دیکھتا

کچھ دن طلوع ہونے سے پہلے غروب ہو جاتے ہیں

اور کچھ محبتیں پروان چڑھے بغیر ختم ہو جاتی ہیں

جیسے کچھ خط لکھے بغیر پوسٹ کر دیے جاتے ہیں

اور کچھ لکھے پڑے رہ جاتے ہیں

اوسیپوف کی طرح

عمروں کی نارسائی میں

یہ سوچنا بے ما و من ہے

کہ کون، کب اور کیسے ملے یا بچھڑے گا

یا ملے بغیر جدا ہو جائے گا

تب تم کہاں تھے

جب میں زندگی کے اداس ترین دنوں سے گزر رہا تھا

میرے پاس اَن دیکھے خوابوں کا ذخیرہ ختم ہو چکا تھا

اور جینے کے لیے چٹکی بھر محبت بھی دستیاب نہیں تھی

اور سانس لینے کے لیے

چھت کے پنکھوں اور درختوں کے نیچے کھڑا ہونا پڑتا تھا

اور اب تم کہاں ہو؟

جب شاعری سرِ عام رسوا ہو رہی ہے

اور نظموں سے فلرٹ کیا جا رہا ہے

آرٹ صرف فلموں

یا نیم برہنہ جسموں میں رہ گیا ہے

میں پھر بھی کہوں گا

تمہارے کتھئی بالوں کا گھونسلا، اٹھی ہوئی لمبی گردن کے تل

اور ڈھکے ہوئے سینے کے ابھار

میری نظموں سے زیادہ خوبصورت ہیں

ہاں اگر تم خود نظم لکھو

تو شاید اس کی رعنائی کا مقابلہ نہ کر سکو

دیوار پہ بیٹھا پرندہ بھی جانتا ہے

ہلکی بارش اور درپردہ محبت میں کیا مشترک ہے

ایک باہر سے بھگو دیتی ہے

دوسری اندر سے

بارش اچانک تیز ہو گئی ہے

اور میں لان سے اٹھ کر لاؤنج میں آ گیا ہوں

پلاسٹک کی میز اور کرسیاں نم گیر نہیں ہوتیں

ان پہ گرنے والے قطرے گرتے ہی بلبلے بن جاتے ہیں

میں نادیدہ آنکھ سے دیکھ رہا ہوں

تم اِس وقت موبائل ہاتھ میں تھامے بستر پر نیم دراز ہو

اور اسکرین پر ایرانی اک تارا بج رہا ہے

کمرے سے نکل کر برآمدے میں آ جاؤ

چھینٹے اڑاتی ہوا اور بھیگے ہوئے خالی کاغذ کے پرزے

تمہاری نظم بننے کے لیے تیار ہیں !

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp