مسلمانوں کے زوال کی وجوہات تلاش کریں تو ہمارے ہاں اس کام میں بھی خاصی سہولت پسندی پائی جاتی ہے۔ کسی کے نزدیک مسئلہ بادشاہ تھا، کسی کے نزدیک ملا، کسی کے نزدیک صوفی، کسی کے نزدیک استعمار اور کسی کے نزدیک ہماری اپنی سیاسی نااہلی۔
لیکن ہمارے ‘لوکل لبرلز’ نے معاملہ اور بھی آسان کر دیا ہے۔ ان کے پاس مسلمانوں کے کئی صدیوں پر پھیلے علمی و تہذیبی زوال کی ایک مختصر سی کہانی ہے۔ اس کہانی کے مطابق غزالی نے فلسفے کو کفر کہا، مسلمانوں نے عقل سے منہ موڑا، سائنس رک گئی اور پھر مسلمان زوال کا شکار ہو گئے۔
یہ کہانی سہل بہت ہے، مگر اس کے ساتھ ایک مسئلہ ہے اور مسئلہ یہی ہے کہ تاریخ اس قدر سہل نہیں ہوتی۔ سو یوں کرتے ہیں کہ ملزم غزالی کو کٹہرے میں لے آتے ہیں اور مقدمے کی کارروائی شروع کرتے ہیں۔
فرض کیجیے غزالی واقعی مسلمانوں کی سائنسی ترقی کے دشمن تھے۔ فرض کیجیے ‘تہافۃ الفلاسفہ’ نے واقعی مسلم دنیا میں سائنس کے خلاف ایسا فکری زلزلہ برپا کر دیا تھا کہ اس کے نتیجے میں مسلم سائنس ملبے تلے دب کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔ تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس زلزلے کے آثار اور ملبہ کہاں ہے؟
کتنے سائنس دانوں نے اپنی کتابیں نذرِ آتش کر دیں؟ کتنے طبیبوں نے نبض دیکھنا چھوڑ دی؟ کتنے ریاضی دانوں نے حساب کی تختیاں توڑ دیں؟ کتنے فلکیات دانوں نے اپنے آلات دریا برد کر دیے؟
اور کتنے لوگوں نے غزالی کی کتاب پڑھنے کے بعد اپنے رصدی آلات کے سامنے کھڑے ہو کر بارگاہِ الہیٰ میں کان پکڑ کر کہا کہ ’اے سارے جہانوں کے مالک! مجھ سے بڑا کفر سرزد ہو گیا، اب میں اس سے توبہ کرتا ہوں۔’
تاریخ میں ایسا کوئی اجتماعی منظر دکھائی نہیں دیتا۔ بلکہ اس کے برعکس ایک نہایت دلچسپ حقیقت سامنے آتی ہے۔ اور وہ یہ کہ غزالی کا انتقال 1111ء میں ہوا، لیکن مسلم دنیا میں سائنسی کام اس کے بعد بھی صدیوں تک جاری رہا۔
تاریخِ سائنس کے محقق جارج سلیبا نے اسی لیے ‘غزالی کے بعد زوال’ والے بیانیے کو چیلنج کیا کہ اسلامی فلکیات کی اہم پیش رفتیں غزالی کے بعد بھی جاری رہیں، بلکہ تیرہویں سے سولہویں صدی کے درمیان اسلامی فلکیات کے بعض بہترین کام سامنے آئے۔
آئیے ذرا ‘مراغہ’ چلتے ہیں۔ سن 1258ء میں منگول بغداد پر قبضہ کر چکے تھے۔ یہ وہ زمانہ ہے کہ اگر کوئی شخص مسلم تہذیب کے زوال کی تصویر بنانا چاہے تو المیاتی تصویر کے لیے خاصا خام مال بغداد کے ملبے کی صورت میں موجود ہے۔
لیکن صرف چند برس بعد، 1259ء میں ہلاکو خان کے عہد میں مراغہ کی رصدگاہ قائم ہوئی۔ اس کے سربراہ کون تھے؟ نصیر الدین طوسی اور وہاں کیا ہو رہا تھا؟ آسمان کو دیکھا جا رہا تھا۔ حساب کیا جا رہا تھا۔ مشاہدات کیے جا رہے تھے۔ آلات بن رہے تھے۔ فلکیاتی جدولیں مرتب ہو رہی تھیں۔
یعنی بغداد کے زخم ابھی تازہ تھے، منگول ابھی خطے میں موجود تھے، اور مسلم دنیا کے کچھ لوگ زمین پر بکھری ہوئی سلطنت کے ملبے کے درمیان آسمان کے ستاروں کا حساب لگا رہے تھے۔
مراغہ کی رصدگاہ کوئی معمولی ادارہ نہیں تھی۔ اس کے لیے ماہرینِ فلکیات اور انجینئرز جمع کیے گئے، آلات فراہم کیے گئے اور وہاں ایک باقاعدہ علمی جماعت نے کام کیا۔ یہ رصدگاہ تقریباً 1261ء سے 1262ء تک فعال ہو چکی تھی اور اس کی علمی روایت آگے چلتی رہی۔
سوال یہ ہے کہ یہ نصیرالدین طوسی کون تھے؟ کیا یہ چنگیز خان کے کسی خالو خلیل کے لونڈے تھے جو منگولیا سے آئے تھے؟ کون انکار کر سکتا ہے کہ یہ چیز ابتدا ہی سے منگول حکمتِ عملی کا حصہ تھی کہ وہ جہاں بھی تباہی مچاتے، اہلِ علم و ہنر کو چھوتے بھی نہ تھے، بلکہ ان کے علم و ہنر سے فائدہ اٹھاتے۔
اب ذرا اس منظر کو غزالی کے خلاف مقدمے کے ساتھ رکھ کر دیکھیے۔ غزالی 1111ء میں فوت ہوئے۔ مراغہ کی رصدگاہ 1259ء میں تعمیر ہونا شروع ہوئی۔ یعنی غزالی کے انتقال کے تقریباً ڈیڑھ صدی بعد مسلم دنیا میں ایک عظیم الشان فلکیاتی ادارہ قائم ہو رہا تھا۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر غزالی نے سائنس کا دروازہ بند کر دیا تھا، تو مراغہ کی رصدگاہ کس دروازے سے اندر آ گئی؟ اور یہ صرف مراغہ تک محدود نہیں۔ نصیر الدین طوسی کے بعد قطب الدین شیرازی جیسے اہلِ علم سامنے آتے ہیں۔ پھر سمرقند میں الغ بیگ کی رصدگاہ قائم ہوتی ہے۔
اسلامی فلکیات کی یہ روایت غزالی کے بعد ختم ہونے کے بجائے کئی صدیوں تک چلتی ہے۔ تو پھر غزالی پر سائنس کے قتل کی فردِ جرم عائد کرنے والوں سے یہ سوال تو بنتا ہی ہے کہ صاحب، سائنس ختم کب ہوئی تھی؟
تاریخ اگر ہمیں تیرہویں، چودہویں، اور پندرہویں صدی میں بھی فلکیات دان، ریاضی دان اور طبیب دکھا رہی ہے تو پھر گیارہویں صدی کے ایک عالم کی ایک کتاب کو پورے علمی زوال کا بٹن قرار دینا ذرا مشکل کام ہے۔
یہاں ایک اور نام آتا ہے جسے ہمارے اس مقدمے کے پہلے گواہ کے طور پر پیش ہونا تھا مگر ‘ٹریفک جام’ کے سبب عدالت میں تاخیر سے پہنچا۔ تاخیر سے پہنچنے والے اس گواہ کا نام بدیع الزمان الجزری ہے۔
اس نے 1206ء کے آس پاس اپنی مشہورِ زمانہ کتاب ‘دی بک آف نالج آف انجینیئس مکینیکل ڈیوائسز’ میں مکینیکل آلات کی تفصیلات بیان کیں۔ یعنی غزالی کی وفات کے تقریباً ایک صدی بعد مسلم دنیا میں ایک شخص پانی، حرکت، پہیے، ‘گیئر’ (گراریوں)، خودکار آلات اور مکینیکل نظاموں پر کام کر رہا تھا۔
اب اگر غزالی کی کتاب نے سائنس کا دروازہ بند کر دیا تھا تو الجزری صاحب کو اندر آنے کی اجازت کس نے دی؟ ممکن ہے الجزری نے کوئی کھڑکی یا ایسا روشندان استعمال کر لیا ہو جس کی چٹخنی چڑھانا غزالی بھول گئے ہوں، مگر اس کا وجود بھی تاریخ کا حوالہ مانگتا ہے۔
یہاں اصل بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔ غزالی نے فلسفے کے خلاف ‘تہافۃ الفلاسفہ’ ضرور لکھی۔ لیکن یہ کہنا کہ انہوں نے ‘سائنس’ کو اسی معنی میں رد کر دیا جس معنی میں آج ہم سائنس کو سمجھتے ہیں، تاریخی طور پر مسئلے کو بہت زیادہ سادہ کر دینا ہے۔
غزالی کا اصل ہدف فلسفیوں کے مخصوص نظریات تھے، بالخصوص وہ مابعد الطبیعیاتی دعوے جن کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ فلسفی انہیں قطعی عقلی برہان سے ثابت نہیں کر سکے۔
ان کی کتاب میں بیس مباحث ہیں۔ ان میں سے سولہ بنیادی طور پر مابعد الطبیعیات سے متعلق ہیں اور صرف 4 طبیعیات سے متعلق ہیں۔ جدید علمی تحقیق میں بھی ‘تہافۃ’ کو محض ‘مذہبی عالم کی سائنس دشمن کتاب’ سمجھنے کے بجائے ایک پیچیدہ فلسفیانہ نقد کے طور پر پڑھا جاتا ہے۔
اور یہیں ہمارے ‘لوکل لبرل’ مقدمے کی ایک بنیادی کمزوری سامنے آتی ہے۔ وہ ‘فلسفہ’ اور ‘سائنس’ کو ایک ہی چیز سمجھ لیتا ہے۔ حالانکہ غزالی جس چیز پر حملہ کر رہے تھے، اس میں فلسفہ صرف تجرباتی علم کا نام نہیں تھا۔ اس میں خدا، کائنات، علت، نفس، وجود اور عالم کی ازلیت جیسے بنیادی مابعد الطبیعیاتی سوالات بھی شامل تھے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ غزالی نے ان سوالات پر حملہ کیا، سخت حملہ کیا اور بعض مقامات پر انتہائی سخت حملہ کیا۔ لیکن کسی فلسفی کے مابعد الطبیعیاتی نظریے کو رد کر دینا اور پورے سائنسی عمل کو بند کر دینا ایک ہی چیز نہیں۔
یہ فرق سمجھنا ہوگا، ورنہ اگر کسی عالم نے نیوٹن کے کسی فلسفیانہ تصور سے اختلاف کیا ہو تو ہم کل اسے بھی ‘سائنس دشمن’ قرار دے دیں گے۔ سائنس کی تاریخ میں یہ طریقہ خاصا مہنگا پڑے گا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ غزالی کو مغربی دنیا میں بھی اب اس پرانے ‘اسلامی سائنس کے قاتل’ والے سانچے میں اتنی سادگی سے نہیں پڑھا جاتا۔ ‘اسٹینفورڈ انسائیکلوپیڈیا آف فلاسفی’ کی موجودہ تحقیق کے مطابق غزالی فلسفے کے بعض نظریات کو رد کرتے ہوئے بھی اس کے بہت سے طریقہ ہائے استدلال کو قبول اور استعمال کرتے تھے۔
ان کی ‘تہافۃ’ کو فلسفے کی تاریخ کا ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ ان کی کتاب نے بعد کی یورپی فکری روایت میں ارسطوی سائنس پر تنقید کے مباحث کو بھی متاثر کیا۔
گویا صورتحال کچھ یوں بن گئی ہے کہ ہمارے ہاں تو غزالی کو اس لیے برا بھلا کہا جاتا ہے کہ وہ ‘فلسفے کے دشمن’ تھے، جبکہ فلسفے کی تاریخ کا طالبِ علم غزالی کو اس لیے پڑھتا ہے کہ انہوں نے فلسفے کے ساتھ ایک نہایت اہم فلسفیانہ کشمکش کی تھی۔
غزالی نے فلسفے کو سرسری طور پر نہیں پڑھا تھا۔ انہوں نے اسے اندر تک جا کر پڑھا، اس کے دلائل سمجھے اور پھر ان میں سے بعض کو چیلنج کیا۔ اس لیے غزالی سے اختلاف کرنا بالکل جائز ہے۔ لیکن غزالی کو مسلم سائنس کے زوال کا واحد یا بنیادی سبب بنا دینا ایک الگ دعویٰ ہے۔
اور دعویٰ جتنا بڑا ہو، ثبوت بھی اتنا ہی بڑا درکار ہوتا ہے۔ یہاں ثبوت کہاں ہے؟ کیا غزالی کے بعد مسلم سائنس بند ہو گئی؟ نہیں۔ کیا مسلم فلکیات ختم ہو گئی؟ نہیں۔ کیا رصدگاہیں ختم ہو گئیں؟ نہیں۔ کیا ریاضی ختم ہو گئی؟ نہیں۔ کیا طب ختم ہو گئی؟ نہیں۔ کیا فلسفہ ہی ختم ہو گیا؟ یہ بھی نہیں۔
غزالی کے بعد بھی اسلامی دنیا میں فلسفیانہ روایت جاری رہی۔ جدید مطالعات میں غزالی کے بعد اسلامی فلسفے کی مختلف سنی اور شیعی روایتوں کی باقاعدہ نشاندہی کی گئی ہے اور ‘غزالی آئے اور فلسفہ ختم ہو گیا’ والے پرانے بیانیے کو بے بنیاد قرار دینے والی تحقیق بھی موجود ہے۔
تو پھر غزالی کو اتنا بڑا مجرم کیوں بنایا جاتا ہے؟ شاید اس لیے کہ ایک شخص کو مجرم بنانا آسان ہے، لیکن ایک تہذیب کی پوری پیچیدہ تاریخ کو سمجھنا مشکل۔ یہ ماننا آسان ہے کہ ایک عالم آیا، اس نے ایک کتاب لکھی اور ایک عظیم تہذیب کا علمی مستقبل بدل گیا۔
اس کے مقابلے میں یہ ماننا خاصا مشکل ہے کہ تہذیبیں بہت سے عوامل کے مجموعے سے بنتی اور بدلتی ہیں، ریاستی سرپرستی، سیاسی استحکام، معاشی حالات، ادارہ جاتی ڈھانچہ، علمی مراکز، جنگیں، تجارت، تعلیم اور علم کی منتقلی، یہ سب اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔
مگر ہمارا ‘لوکل لبرل’ یہ بھول جاتا ہے کہ تاریخ میں ایک آدمی تلاش کرنا آسان ہے، جبکہ تاریخ سمجھنا مشکل ہے اور شاید اسی لیے غزالی ان کے لیے اتنے کارآمد مجرم بن گئے ہیں۔
لیکن تاریخ کی ایک بری عادت یہ ہے کہ وہ آخرکار پوچھتی ہے، ‘اچھا، اس کے بعد ہوا کیا تھا؟’ اور یہی وہ مقام ہوتا ہے جب پروفیسر ہودبائی جیسے بلند پایہ سائنسدان کے ہاتھ میں بھی فقط غبارہ رہ جاتا ہے اور ہوا دستیاب نہیں رہتی!
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













