ہم جیسے ہی خوبصورت ثقافتی ورثے والے ایک مقبرے کے احاطے میں داخل ہونے لگے تو دروازے کے دونوں جانب اوٹ میں کھڑی ہوئی عورتوں نے ‘بسم اللہ … بسم اللہ’ کر کے سرخ گلابوں کے ہار ہمارے گلے میں ڈالنے کی کوشش کی۔
ہمارے قافلے کا سالار فیاض سپرا چونکہ سب سے آگے تھا اور اس بپتا کے لیے تیار نہ تھا، اس لیے اس کے گلے میں تو ہار پڑ ہی گیا۔ لیکن میں اس کی درگت بنتے دیکھ کر ہوشیار ہو گیا اور ایک دم ہاتھ اٹھا کر عورتوں کو منع کر دیا کہ میں اس لائق نہیں۔ لیکن وہ تکرار کرنے لگیں:
‘سائیں! بی بی دی زیارت کر آئے ہو، سائیں صدر دے پڑ وِچ آ گئے او، تاں سائیں دی فقیریانڑیں کوں مایوس نہ کرو’۔
لیکن میں اس کی پوری بات سنے بغیر آگے بڑھ گیا۔ پیچھے فیاض اب تک عورت کے ساتھ الجھا دکھائی دے رہا تھا جو اسے 5 گلابوں پر مشتمل دھاگے کا ہار ڈالنے میں کامیاب ہو چکی تھی اور اب تقاضا کر رہی تھی کہ اسے 5 سو روپے دیے جائیں۔
آخر فیاض پچاس روپے دے کر جان چھڑاتا ہے اور ہار گلے سے اتار کر قریب کھڑے کالے کلوٹے بچے کے حوالے کر دیتا ہے، جو حسبِ توفیق اس سے کچھ بٹورنے کے چکر میں اپنی باری کا انتظار کر رہا تھا۔ اس طرح ہم اس ‘استقبالیہ کمیٹی’ سے جان چھڑا کر سائیں صدر کے مزار کی طرف بڑھے جو اُچ شریف قصبے کے بازار میں واقع ہے۔
چولستان یا تھل دیکھنے کا مجھے ازحد شوق تھا، اس لیے اپنے ایک دوست عابد حسین سپرا کی ہر سال منتیں کرتا تھا کہ چولستان میں ‘چنن پیر’ کا میلہ دکھائے جو ہر سال لگتا ہے۔ آخر کار جب اس میلے کو دیکھنے کے لیے جانے کی حتمی تیاری ہوئی تو عابد حسین آخری وقت کہیں کترا کر نکل گئے لیکن اپنے چھوٹے بھائی فیاض کو میرے ساتھ کر دیا۔
ہم رات کو کراچی سے ٹرین میں بیٹھے اور صبح سویرے ڈیرہ نواب صاحب اتر گئے جو احمد پور شرقیہ کا ریلوے اسٹیشن ہے، لیکن شہر اور اسٹیشن کے نام مختلف ہیں۔
ریلوے اسٹیشن سے باہر نکلے تو کئی تانگے کھڑے تھے اور کوچوان ‘شیہر۔۔۔ شیہر’، ‘صادَق بزار’، ‘گنڈولہ چوک’ اور دوسرے مقامات کی آوازیں لگا رہے تھے۔
ہمیں چونکہ آخر الذکر مقام تک جانا تھا، اس لیے گنڈولہ چوک کی آوازیں لگانے والے کوچوان کے تانگے میں سوار ہو گئے۔ گنڈولہ چوک پر فیاض کے عزیز سلطان صاحب کی آٹو ورکشاپ ہے، جہاں صبح صبح ہمارا پہلا استقبال ورکشاپ کے دو عدد ‘چھوٹوں’ نے کیا جو ہینڈ پمپ پر نہا کر دن بھر ٹریکٹروں سے مغز ماری کرنے کی تیاری کر رہے تھے۔
سلطان صاحب نے انتہائی محبت سے ناشتہ کروایا اور حال احوال پوچھا۔ میں نے پہلا سوال یہ کیا کہ یہاں سے اُچ شریف کتنا دور ہے؟
‘سئیں! سامھوں بیٹھی ہے’ (سائیں، سامنے ہی ہے)
تو ہم نے طے کیا کہ جو چیز ‘سامھوں بیٹھی ہے’، پہلے وہاں کی دید سے آنکھیں ٹھنڈی کی جائیں۔ ہم نے سامان ورکشاپ میں چھوڑا اور کیمرے گلے میں لٹکا کر نکل کھڑے ہوئے۔ اسٹاپ پر پتا چلا کہ اُچ کے لیے وین ملے گی جو اسی گنڈولہ چوک سے گزرتی ہے۔
پہلی وین بالکل بھری ہونے کے باوجود ہمارے قریب آ کر کھڑی ہوئی اور کنڈیکٹر نے جو خود دروازے سے باہر پاؤں ٹکا کر کھڑا ہوا تھا، وہیں سے ہمیں ہانک لگائی:
‘سئیں! چڑھ پئو’ (جناب! چڑھ جائیں)
ہم نے اس کی فراخ دلی کا شکریہ ادا کر کے انکار کر دیا تو اس نے ہاتھ میں پکڑے نوٹ دانتوں میں دبائے اور خالی ہاتھ وین کی باڈی پر مار کر ‘ڈبل’ دے دیا۔ تھوڑی دیر میں دوسری وین آئی، جس میں تین چار سیٹیں خالی تھیں اور ہم موقع کا فائدہ اٹھا کر فوراً سوار ہو گئے۔
اُچ شریف اور احمد پور کے درمیان سڑک اچھی حالت میں تھی اور اس کے دونوں طرف کے زمینی منظر بھی ہریالی کے باعث آنکھوں کو بھلے لگ رہے تھے۔ یہ قصبہ قدیم درگاہوں، مزاروں اور مقبروں کے علاوہ لالی ووڈ کی ہیروئن انجمن کی جائے پیدائش ہونے کے باعث بھی مشہور ہے۔
وین اب ایک گاؤں سے گزر رہی تھی، جس کا نام تو کچھ اور تھا لیکن یہاں ہونے والی خونریزی کے باعث اسے ‘قتل پور’ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ یہ خونریزی یہاں بسنے والی مختلف برادریوں کے مابین ماضی میں ہوئی تھی، جس میں دونوں طرف سے مارے جانے والوں کی تعداد بلا مبالغہ سینکڑوں تک پہنچتی ہے۔
تھوڑی ہی دیر بعد ایک قصبے کے آثار واقع ہوئے تو میرے ساتھی نے کہا کہ اُچّ شریف آ گیا۔ وین ایک موڑ مڑ کر پختہ اور بڑے سے دالان میں جا کر کھڑی ہو گئی جو کہ وین اسٹینڈ تھا۔
میں نے فیاض سے چائے پینے کی بات کی تو وہ اِدھر اُدھر ہوٹل تلاش کرنے لگا۔ پتا چلا کہ ہوٹل وین اسٹینڈ کے پیچھے نہر کنارے ہے۔ وہاں پہنچے تو لکڑی کے دو تین بینچ پڑے تھے اور ایک جانب کاؤنٹر پر رکھے ڈیک پر روہی کے مشہور فنکار جمیل پروانہ اور نصیر مستانہ نغمہ سرا تھے:
‘چٹڑے پدھر تے بہہ کے دل لٹوائی ہم میں، ایں سانگے اِتھ آئی ہم میں۔۔۔’
(سفید مٹی والے کے آنگن پر بیٹھ کر میں دل لٹوا بیٹھا… یہاں میں آیا بھی تو اسی کام سے تھا!)
یہ دونوں فنکار بھائی مجھے بچپن ہی سے بے حد پسند ہیں، جب میں ملتان ریڈیو سے ‘جمہور دی آواز’ پروگرام میں ان کے گیت سنتا تھا۔ آج تو میں خوش قسمتی سے ان کے علاقے میں انھی کو سن رہا تھا، اس لیے لطف دوبالا ہو گیا۔
ہم نے ایک بینچ پر بیٹھ کر، کاؤنٹر پر بیٹھے ایک نوعمر لڑکے کو چائے کا کہا تو اس نے ہم ‘شہری بابوؤں’ کے لحاظ میں پروانہ اور مستانہ کا کیسٹ نکال کر بھارتی فلم کے گانے کا کیسٹ لگا دیا۔ لیکن میں نے کاؤنٹر پر جا کر اس سے گزارش کی کہ بھائی! ہمیں وہی کیسٹ سناؤ۔
جب چائے آنے میں دیر ہوئی تو ہم نے پھر اس سے رجوع کیا۔ اس نے ایک دم کاؤنٹر سے نکل کر دوڑ لگائی تو ہم تشویش میں مبتلا ہو گئے کہ اسے کیا ہو گیا؟ وہ لڑکا روڈ پار کر کے سگریٹ کے کیبن تک گیا اور وہاں بیٹھے ایک ادھیڑ عمر شخص سے کچھ کہنے اور ہماری طرف اشارے کرنے لگا، جس نے ہمیں دیکھ کر وہیں سے خیر سگالی کے طور پر ہاتھ اٹھا دیا۔ پھر ایک مرتبان سے اس نے کچھ بسکٹ نکالے اور اسی مرتبان کے ڈھکنے میں وہ بسکٹ لا کر ہمارے آگے رکھ دیے۔
وہ ہم سے دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کر کے پوچھنے لگا:
‘سائیں! چانہہ پیسو؟ ہنڑیں ای بنڑا ڈینڈاں’۔
اس نے چائے بنانے کا برتن اٹھایا، چولہے میں سے کوئلے اور راکھ نکالی۔ سامنے رکھی پرات میں سے گندا پانی لیا اور اس سے برتن کو دھویا اور اس میں دودھ ڈال کر چولہے پر چڑھا دیا۔ پھر وقفہ دیے بغیر اس نے فوراً چینی اور پتی بھی ڈال دی۔ میں نے اس کے قریب جا کر ڈرتے ڈرتے کہا:
‘سائیں! ہم تو پھیکی چائے پیتے ہیں اور آپ نے اتنی ساری چینی ڈال دی؟’
اس نے میری طرف حیرت سے دیکھا اور کہا:
‘کیوں سئیں؟ شُگر اے تساں کوں؟’
اتنے میں فیاض اٹھ کر آیا اور اس نے سرائیکی میں اس سے گزارش کی کہ وہ مہربانی کر کے دوسری پھیکی چائے بنائے کیونکہ ہم چینی اپنی پسند سے ڈالیں گے۔ اس نے یہ بات مان لی اور دوسرے برتن میں دودھ اور پتی ڈال کر چڑھا دی اور خود ہمارا انٹرویو کرنے کے لیے بینچ کھینچ کر سامنے بیٹھ گیا:
‘سائیں! کتھوں آئے او؟’
ہم نے کراچی کا بتایا تو کہنے لگا:
‘ہنڑیں تہ کراچی چ امن اے نا؟’ (اب تو کراچی میں امن ہے نا؟)
پھر خود ہی کہنے لگا:
‘اساں کوں سندھ دی وڈی فکر رہندی ہے، کیوں جو سندھ دے ماڑہوں چنگے اِن’۔ (ہمیں سندھ کی بڑی فکر ہے کیوں کہ سندھ کے لوگ بہت اچھے ہیں)
چائے آنے پر میں نے کینڈرل کی ڈبیا نکال کر دونوں کپوں میں ایک ایک گولی ڈالی تو اس نے اس گولی کی ‘وجہ تسمیہ’ پوچھ لی۔ میں نے مناسب حد تک اسے بتانے کی کوشش کی کہ یہ چینی سے بہتر کیوں ہے، مگر اس کا چہرہ دیکھ کر اندازہ ہوا کہ وہ قائل نہیں ہوا تھا۔
بعد میں اس نے ہمارے اصرار کے باوجود چائے کے پیسے لینے سے انکار کر دیا۔ ہم اس کی غیر متوقع مہمان نوازی دیکھ کر اور اپنا نخریلا رویہ یاد کر کے بہت شرمندہ ہوئے۔ ہمیں چائے پلا کر وہ پھر روڈ پار کر کے سگریٹ کے کیبن پر جا کر بیٹھ گیا تھا۔
اُچّ شریف کے بازار میں رکشے کھڑے دیکھے تو میں نے آگے بڑھ کر ایک رکشہ ڈرائیور سے پوچھا کہ یہاں کے مشہور تاریخی مزارات کس طرف ہیں؟ اس پر اس نے مسکراتے ہوئے کہا:
‘رشکے میں بیٹھ جاؤ، پچاس روپے لوں گا اور پانچ منٹ میں پہنچا دوں گا’۔
ہمارے بیٹھتے ہی اس نے رکشے کو بھگانا شروع کر دیا۔ وہ بازار کے درمیان تانگوں اور چھکڑوں کے بیچ میں سے جگہ بناتا، زگ زیگ اسٹائل میں نکلتا چلا گیا۔ آخر کار قصبے کے ایک سرے پر آ کر گلی میں سائیڈ کر کے کھڑا ہو گیا۔
‘سئیں! او سامھوں بی بی جِیوندی دا قُبہ اے’۔
ہم نے شکریہ ادا کر کے کرایہ دیا تو ڈھیٹ بن کر 10 روپے اور مانگنے لگا۔ ہم نے کہا کہ پچاس روپے طے ہوا تھا تو کہنے لگا کہ واپسی میں خالی جانا ہوگا۔
اتنے میں قریبی گھر سے ایک بزرگ نکلے۔ پہلے تو وہ لاتعلقی سے گزرنے لگے، لیکن جب ہماری تکرار سنی تو قریب آئے اور حقیقت معلوم ہونے پر رکشہ والے کو سرائیکی میں ڈانٹنے لگے کہ چھوہر! پردیسیاں دا خیال کر۔ اس پر وہ کان دبا کر بھاگ لیا۔ بزرگ نے ہم سے سوال جواب کر کے چائے، لسی کا پوچھا اور ہمارے انکار پر اپنی راہ لی۔
ہم سامنے والی چھوٹی دیوار پھاند کر قبرستان میں پہنچے تو سامنے ہی 3 مقبروں کے منہدم ہو چکے اور مرمت ہوتے آثار تھے۔ ان مقبروں کی تعمیر میں نیلی اور سفید ٹائلوں کا کام بہت ہی نفیس اور شاندار تھا، جب کہ ان ٹائلوں کے نیچے والی دیواریں بہت چھوٹی چھوٹی مستطیل اینٹوں کی بنی ہوئی تھیں۔
مرکزی مقبرے کے سامنے ایک جنازہ رکھا تھا اور دو گورکن قبر کھود رہے تھے، جس کے سائز سے ہم نے اندازہ لگایا کہ کوئی بچہ انتقال کر گیا ہے۔
جنازے میں شامل لوگ اِدھر اُدھر ٹکڑیوں کی صورت میں کھڑے کچہریاں کر رہے تھے۔ ایک طرف ایک شخص سر پر دونوں ہاتھ رکھ کر اُکڑوں بیٹھا تھا۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ مرنے والا اس کا بچہ تھا۔ ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے نو سو سال قدیم مقبرے کے سامنے ایک اور چھوٹی سی قبر وجود میں آ گئی۔ لواحقین اس پر پانی چھڑک کر اور دعائیں پڑھ کر واپس چلے گئے۔
قبرستان کے اندر صوفی نامی شخص ایک خود ساختہ گائیڈ بنا ہوا تھا جو مناسب معاوضے کے عوض مقبروں کی تاریخ فر فر سنا دیتا تھا اور پھر دوسرے سیاح کی تلاش میں نکل کھڑا ہوتا تھا۔ اس کی ایک نوعمر بچی بھی یہی کام کر رہی تھی۔ ہم نے جب اس سے معلومات لینی چاہی تو اس کے سانولے چہرے پر شرارت پھیل گئی اور کہنے لگی:
‘تساں ابے کوں پنج سو روپے ڈتے ہن، میں سو گھنساں تاں بدھے ساں’۔
(آپ نے ابا کو پانچ سو روپے دیے ہیں، میں سو روپے لوں گی پھر معلومات دوں گی)۔
ہم نے اسے بچی سمجھ کر ٹالنا چاہا، لیکن وہ پیچھے لگی رہی اور ہمارے ایک ساتھی کو کہنے لگی کہ اس بھائی کو بولو کہ میری تصویر بنائے۔ ہم اس کو نظر انداز کر کے خود ہی ان تین مقبروں کی جانب متوجہ ہو گئے۔
تینوں میں سے بی بی جِیوندی کا مقبرہ نسبتاً کم خراب حال میں ہے۔ یہ خاتون تیرھویں صدی کے مشہور بزرگ جلال الدین شاہ بخاری جہانیاں جہاں گشت کی پوتی تھیں۔
ان کا مقبرہ 994 میں تعمیر ہوا تھا جو کہ نیلے اور سفید موزائیک سے انتہائی کاریگری اور نفاست سے تیار کیا گیا ہے۔ جہاں جہاں سے موزائیک اکھڑ گیا ہے، وہاں سے سرخ رنگ کی چھوٹی چھوٹی خوبصورت اینٹیں دکھائی دیتی ہیں۔ بی بی جیوندی کا مقبرہ ہشت پہلو ہے اور ایک خوبصورت پلیٹ فارم پر بنا ہوا ہے۔
اس کے آس پاس بہاء الحلیم اور بزرگ نوریہ کے مقبرے ہیں، جن پر موجود ڈیزائن اور سفید و نیلے موزائیک پر چھپے ہوئے نقش و نگار دیکھنے والے کو سانس روکنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ ان مقبروں کی دیواروں پر بنی ہوئی خوبصورت کھڑکیاں اور برجیاں بھی نفاست اور توازن کی عمدہ مثال ہیں۔ مقبروں کے ارد گرد پھیلا ہوا قبرستان اب تک زیرِ استعمال ہے۔ اسی آمد و رفت اور قبرستان کے قریب بنائے گئے پلے گراؤنڈ کے باعث ان تاریخی آثار کی ٹوٹ پھوٹ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
یہ مقبرے 1817 میں آنے والے سیلاب سے تباہ ہو گئے تھے، جن کی تعمیر و مرمت پر کوئی توجہ نہیں دی گئی، حالانکہ یہ تینوں عمارتیں دنیا بھر کی ان 100 یادگاروں کی یونیسکو لسٹ میں شامل ہیں اور ان کی حفاظت کا ان کے ملکوں نے وعدہ کر رکھا ہے۔ یہ فہرست ‘ورلڈ مانومنٹ واچ’ نے تیار کی ہے۔ ترکی سے تعلق رکھنے والی مشہور کنزرویشنسٹ ‘ایصل یاووز’ نے کچھ عرصہ پہلے اپنے اُچّ شریف کے دورے میں یہ مقبرے دیکھ کر کہا تھا:
‘اگر یہ مقبرے نہ بچائے گئے تو دنیا کی ثقافتی اور تعمیراتی تاریخ کا عظیم ترین نقصان ہوگا’۔
بی بی جیوندی کے مقبرے کے قریب نہایت خستہ حال میں موجود مقبرہ بہاء الحلیم کا ہے، جو سید جلال الدین بخاری کے استاد اور نہایت اعلیٰ علمی مرتبے کی حامل ہستی تھے۔ وہ اُچ کے مدرسہ بہایہ میں پڑھاتے رہے تھے۔
بزرگ نوریہ کا مقبرہ اپنے قریب کے دونوں مقبروں کی بہ نسبت تازہ تعمیر شدہ ہے جو پندرہویں صدی میں بنایا گیا، لیکن تینوں عمارتوں میں سے اسی کی حالت سب سے زیادہ خراب ہے۔ ان تینوں مقبروں کی دیواروں پر جہاں جہاں نقاشی کا کام نہیں ہے، وہاں علاقے کے نوجوان اور شوقین سیاحوں نے اپنے نام، پتے اور مختلف نوعیت کے پیغامات تحریر کر دیے ہیں، جن کو پڑھ کر ہم جیسے علم کے پیاسوں کی معلومات میں بے حد اضافہ ہوا۔
ان مقبروں کے ساتھ ہی قبرستان کی حدود کے باہر ایک عمارت ہے جو چھوٹے سائز والی پکی اینٹوں سے تعمیر شدہ ہے۔ اس کی دیوار کی بنیادوں سے 6 فٹ اوپر تک چوڑائی زیادہ ہے جو اس کے بعد اُبھری ہوئی اینٹوں کی قطار پر ختم ہوتی ہے، اس سے اوپر دیوار پتلی ہے۔
ہم نے دیکھا کہ کچھ لوگ باہر نکلی ہوئی اینٹوں کے چھجے پر پاؤں رکھ کر اور ہاتھوں کی انگلیاں دیوار پر جما کر عمارت کے گرد چکر لگانے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن وہ اپنی اس کوشش میں کامیاب نہیں ہو پا رہے تھے اور تھوڑا فاصلہ طے کر کے پاؤں پھسل جانے پر وہ دھڑام سے نیچے اتر آتے تھے۔
ہمارے ‘گائیڈ’ نے بتایا کہ یہاں کچھ لوگوں کا عقیدہ ہے کہ جو اس چار انچ کے چھجے پر پاؤں ٹکا کر پوری عمارت کے گرد کامیابی سے چکر لگا لے گا، اس کے من کی تمام مرادیں پوری ہوں گی۔
ہم آگے بڑھ کر تماشہ دیکھنے لگے، جیسے ہی ایک ادھیڑ عمر کا شخص من کی مراد پانے میں ناکام ہوا، یعنی چھجے سے نیچے گرا، میں نے اسے سانس لینے کا موقع دیے بغیر پوچھا:
‘سائیں! آپ کے من کی مراد کیا تھی جو پوری نہ ہو سکی؟’
اس نے مجھے غصے سے دیکھا اور صرف اتنا کہا:
‘میرا تو یہ روز کا کام ہے۔ آپ کیوں پوچھتے ہو؟’
میں نے اسے نرم کرنے کے لیے کہا کہ ‘سائیں! میں ‘پردیسی’ ہاں، کراچی چوں من دی مراد گھِنڑں آیاں ہاں، نراض نہ تھیوو، ایویں پچھا کیتم’
میرے ‘اعترافِ جرم’ پر وہ سمجھ گیا کہ میں بھی اسی کے ‘قبیلے’ سے متعلق ہوں، اس پر وہ کھل اٹھا اور کہنے لگا:
‘میں احمد پور میں رہتا ہوں، میری زمین پر میرے بھائیوں نے قبضہ کر لیا ہے۔ اپنی زمین چھڑانے کے لیے ہر جمعہ کو یہاں آ کر یہ کوشش کرتا ہوں’۔
میں نے اس کے غصے کے پیشِ نظر اس سے مزید استفسار کرنا یا اس کی ضعیف الاعتقادی پر اسے ٹوکنا مصلحت کے خلاف سمجھا اور آگے بڑھنے لگا تو اس نے مجھے روک کر پوچھا کہ میرے من کی کیا مراد ہے کہ کراچی سے یہاں آ پہنچا ہوں؟
اس پر میں نے اسے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ پسند کی شادی کرنا چاہتا ہوں، اس پر اس نے میری جانب دیکھا اور کہنے لگا:
‘اس عمر چہ؟’
اور پھر سر کو نفی میں ہلاتا، بڑبڑاتا آگے بڑھ گیا۔ فیاض نے قہقہہ لگایا اور کہنے لگا:
‘بھائی! آپ کو اور کوئی من کی مراد یاد نہیں آئی؟’
‘یار! ہبڑ دھبڑ میں یہ بات نکل گئی۔۔۔’
ہم نے واپسی کا قصد کیا تو اس نے تانگہ روکنے کی کوشش کی، لیکن میں نے اسے کہا کہ پیدل ہی چلیں گے۔
ہم پیدل چلتے چلتے اُچ کے بازار میں پہنچے، جہاں المونیم کے برتنوں کی دکانیں بکثرت موجود تھیں۔ ان کے علاوہ اکثر دکانیں دیہات کے ‘ڈیپارٹمنٹل اسٹور’ کی صورت میں تھیں کیونکہ ان میں برتن، سستے قسم کے کپڑے، پرچون یا سودے سلف سے لے کر سگریٹ تک سجے ہوئے تھے۔
ان ‘ملٹی پرپز’ دکانوں سے کوئی خریدار مایوس نہیں جا سکتا۔ ایسی ایک دکان پر بجلی کے بلبوں کے ساتھ ریزگاری جمع کرنے والی گلکیں بھی براجمان تھیں!
اُچ شریف کی ہر گلی میں سیہون شریف کی طرح کسی نہ کسی بزرگ کا مقبرہ، مزار یا تکیہ موجود ہے۔ ایسی ہی ایک درگاہ کے قریب سے صوفیانہ کلام کی تانیں اٹھتی سن کر ہم اندر چلے گئے۔
روایتی مقبرے کے برآمدے نما حصے میں دو بوڑھے نابینا (حافظ!) کوئی کلام گا رہے تھے۔ ہم قریب کھڑے ہو کر سننے لگے۔ میں نے ان کی ایک تصویر بنائی تو شور مچ گیا، ایک ہٹا کٹا بابا آ گیا اور مجھے ڈانٹنے لگا کہ درگاہ کی حدود میں ‘غیر شرعی’ کام کیوں کیا؟ میں نے معذرت کی کہ مجھے علم نہیں تھا۔ اس پر اس نے فرمائش کی کہ میری بھی ایک تصویر بنا دو، مجھے بھائی کو سعودی عرب بھجوانا ہے۔
میں نے جان چھڑانے کی غرض سے ایک فوٹو بنا لی تو اگلی فرمائش کی کہ شام تک یہ تصویر پرنٹ کروا کے مجھے یہاں پہنچا دینا۔ وعدہ کر کے ہم جلد ہی باہر نکل آئے۔ میرے ساتھی نے مجھے کہا کہ آئندہ کسی درگاہ میں تصویر بنانے سے پہلے ہمیں ‘مجاز اتھارٹی’ سے اجازت ضرور حاصل کر لینی چاہیے۔
اُچّ شریف مجھے ایسا قصبہ لگا جو سخت مذہبی ہوتے ہوئے بھی اپنے اس پس منظر سے لاتعلق نظر آنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کے کسی بھی باشندے سے جب یہاں کے تاریخی آثار کی تباہی و بربادی پر بات کی جائے تو ان کا رویہ سنگدلی کی حد تک لاتعلقی والا ہوتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ جب زندہ انسانوں کو روزی، روٹی کے لالے پڑے ہوں تو وہ ماضی کے مزاروں کی کب تک اور کیوں حفاظت کریں؟ ایک دکاندار کا تبصرہ تھا کہ ان ٹوٹے پھوٹے مزاروں کی بحالی پر کروڑوں روپے ‘ضائع’ کرنے سے بہتر ہے کہ اتنی رقم قصبے کی سماجی ترقی پر خرچ کی جائے، جس سے ہزاروں زندہ انسانوں کی زندگی میں کچھ آسانیاں پیدا ہوں گی۔
اس طرح جب ہم نے ایک لڑکے کو ایک خوبصورت مزار اور اس کی منقش دیوار پر بھاگنے دوڑنے سے منع کیا تو وہ لڑنے پر تیار ہو گیا اور کہنے لگا کہ یہ علاقہ ہمارا ہے، تم لوگوں کا اس سے کیا واسطہ؟ البتہ مجھے آثار کے قریب کرکٹ کھیلنے والی ٹیم کے نوعمر کپتان پر بہت پیار آیا۔ جب اس نے ہماری تکرار سنی تو اس نے اپنی ٹیم کو اکٹھا کیا، انھیں لے کر ہمارے پاس آیا اور کہنے لگا:
‘انکل! آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ اگر ہم اپنی یادگاروں کی حفاظت کرنے کے بجائے انھیں برباد کرتے رہیں گے تو پھر فرشتے تو انھیں بچانے نہیں آئیں گے’۔
اس کے بعد اس نے وعدہ کیا کہ وہ آئندہ اس جگہ کھیلنے نہیں آئیں گے اور دوسرے لوگوں کو بھی ایسا کرنے سے منع کریں گے۔ اتنا کہہ کر وہ اپنی ٹیم کے ساتھ وہاں سے رخصت ہو گیا اور ہم بھی اُچّ شریف سے ملے جلے خیالات لے کر مغرب کے بعد رخصت ہوئے اور عابد بھائی اور فیاض سپرا کے گاؤں ‘جھوک سپرا’ میں آ کر رات گزاری۔
کہتے ہیں کہ اُچّ شریف کا اصل زوال ناصر الدین قباچہ کے زوال کے بعد آیا۔ اس کے بعد یہ تاریخی دارالحکومت ایک معمولی سا، پسماندہ اور کافی حد تک غیر آباد قصبہ بن کر رہ گیا۔ اس کے باوجود ایک مذہبی مرکز کے طور پر اس کی اہمیت بعد کی صدیوں میں بھی برقرار رہی۔۔۔ اور آج بھی اسے یہی اہمیت حاصل ہے۔
تاریخی اور قدیم ورثے کے طور پر آج اُچّ شریف کی عالمی حیثیت بھی مانی جاتی ہے کیونکہ یہاں کے کاشی گری والے یہ شاہکار آثار یونیسکو کی 100 عظیم عالمی سائٹس میں شامل ہیں۔
اولیا اور صوفیا کی توجہ جب اس شہر پر ہوئی تو یہاں درگاہیں اور خانقاہیں قائم ہو گئیں، جن کے خوبصورت آثار آج بھی دیکھنے والوں کی آنکھوں کو طراوت بخشتے ہیں۔
ان کے ساتھ ساتھ مساجد، مدارس اور دیگر عمارتیں بھی اُچّ شریف کے ماتھے کا جھومر ہیں، جن میں حکمرانوں کے محلات بھی موجود رہے مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ مذہبی اہمیت اور تقدس کی عمارتیں تو آج بھی کسی نہ کسی حال میں نظر آ رہی ہیں لیکن حکومتی یا سیاسی اہمیت والی کوئی بھی عمارت یا محل باقی نہیں رہا۔
اللہ بس، باقی ہوس!
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













