انگلش چینل کے ذریعے غیر قانونی طور پر برطانیہ پہنچنے کی کوشش کرنے والے تارکین وطن کو لے جانے کے لیے انسانی اسمگلنگ میں ملوث گروہوں نے حکام کی کارروائیوں کے باعث نئی حکمت عملی اختیار کرلی ہے۔ بی بی سی کی تحقیقات کے مطابق چھوٹی کشتیوں کی دستیابی محدود ہونے کے بعد اسمگلر اب بڑی کشتیوں میں زیادہ سے زیادہ افراد کو سوار کرکے برطانیہ بھیجنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ مزید ’میگا ڈنگیز‘ تیار کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
برطانوی میڈیا کے مطابق حالیہ ہفتوں میں ایک 15 میٹر طویل کشتی پر 230 تارکین وطن کے برطانیہ جانے کی تصویر نے برطانیہ میں سیاسی اور عوامی سطح پر شدید ردعمل پیدا کیا۔ تاہم یہ واقعہ اسمگلنگ گروہوں کی بدلتی حکمت عملی کی بھی عکاسی کرتا ہے، جو چھوٹی کشتیوں کی قلت کے باعث زیادہ افراد کو نسبتاً کم بڑی کشتیوں میں سوار کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
Channel smuggling gangs resort to 'mega-dinghies' as crackdown limits small boat supply https://t.co/CWJcGjrAEv
— BBC News (World) (@BBCWorld) September 3, 2026
فرانس کے شمالی ساحلی علاقوں میں بی بی سی کی ٹیم نے مشاہدہ کیا کہ بعض جرائم پیشہ گروہ اب ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ دستیاب کشتیوں میں زیادہ سے زیادہ تارکین وطن کو سوار کیا جاسکے۔ اس دوران برطانوی میڈیا کی ٹیم کو اسمگلروں کی جانب سے پتھراؤ کا بھی سامنا کرنا پڑا، جس میں کیمرہ مین زخمی ہوگیا۔
برطانوی اور فرانسیسی حکام نے چینل کراسنگ روکنے کے لیے فرانسیسی ساحل پر پولیس اہلکاروں کی تعداد بڑھانے کے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ فرانسیسی پولیس کا کہنا ہے کہ وہ چھوٹی کشتیوں میں سے تقریباً دو تہائی کو ساحل سے روانہ ہونے سے پہلے روکنے میں کامیاب ہو رہی ہے۔ تاہم اس کارروائی کے نتیجے میں کامیاب کراسنگ کے مواقع کم ہونے کے ساتھ اسمگلروں کی جانب سے وصول کی جانے والی رقم بھی بڑھ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایک سال قبل فی شخص تقریباً 1300 یورو وصول کیے جاتے تھے، تاہم اب بعض اسمگلنگ گروہ ایک تارک وطن سے 2 ہزار یورو تک طلب کر رہے ہیں۔ بعض مقامات پر رقم نقد وصول کی جا رہی ہے تاکہ مسافر اپنی روانگی کے لیے رقم پہلے ہی ادا کرے۔
یہ بھی پڑھیں:کراچی: ایف آئی اے کی بڑی کارروائیاں، انسانی اسمگلنگ سے متاثرہ خاتون ریسکیو، متعدد مسافر آف لوڈ
فرانس کے ساحلی علاقے گریولینز میں بی بی سی نے ایک ایسی کارروائی دیکھی جہاں ایک چھوٹی کشتی نے مختلف مقامات سے تارکین وطن کے پانچ گروپ اٹھائے۔ تقریباً 3 گھنٹے بعد 82 افراد پر مشتمل یہ کشتی بالآخر انگلش چینل میں داخل ہوئی اور برطانیہ کی جانب روانہ ہوگئی۔ رپورٹ کے مطابق تمام افراد برطانیہ پہنچنے میں کامیاب رہے۔
اسمگلنگ کے طریقہ کار میں ایک اور تبدیلی یہ سامنے آئی ہے کہ پولیس کی بڑھتی نگرانی کے باعث بعض گروہ اب رات کے بجائے دن کے اوقات میں تارکین وطن کو ساحل تک لاتے ہیں۔ اس طرح مختلف گروہوں کے درمیان کشتیوں کی آمد اور مسافروں کی سواریاں منظم کرنے کے لیے زیادہ وقت مل جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سخت نگرانی کے باعث جو تارکین وطن پہلے چند دنوں میں دوبارہ کشتی کے ذریعے سفر کی کوشش کرلیتے تھے، انہیں اب کئی ہفتوں بلکہ بعض اوقات کئی ماہ تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔ خراب موسم بھی ان کوششوں میں بڑی رکاوٹ بنتا ہے۔
🇬🇧🇫🇷 Another “mega dinghy” reportedly launched from a French beach towards the UK.
These boats are now carrying far bigger loads, with recent averages around 67 people per vessel.
Follow: @europa pic.twitter.com/mZEM6Nk20u
— Europa.com (@europa) September 2, 2026
دوسری جانب فرانس کے ساحلی علاقوں میں قائم عارضی کیمپوں میں رہنے والے تارکین وطن کی مشکلات بھی بڑھ گئی ہیں۔ بعض افراد نے برطانوی میڈیا کو بتایا کہ وہ کئی ماہ سے انتہائی خراب حالات میں رہ رہے ہیں اور متعدد مرتبہ برطانیہ پہنچنے کی کوشش ناکام ہوچکی ہے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق پولیس کارروائیوں اور کشتیوں کی تباہی سے اسمگلنگ گروہوں اور تارکین وطن دونوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے، جبکہ ساحلی علاقوں میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے۔ حکام کو خدشہ ہے کہ بڑی کشتیوں میں زیادہ افراد کو سوار کرنے کی نئی حکمت عملی حادثات اور جانی نقصان کے خطرے میں مزید اضافہ کرسکتی ہے۔














