پینٹاگون کی نئی میڈیکل پالیسی: مرد فوجیوں کے لیے ہارمون ٹیسٹ لازمی، خواتین کو مختلف ہدایت

جمعرات 3 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی وزارت دفاع (پینٹاگون) نے 30 سال اور اس سے زائد عمر کے فعال ڈیوٹی اور ریزرو سروس ممبران کے لیے ٹیسٹوسٹیرون کی کمی کی لازمی اسکریننگ پالیسی کی تفصیلی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پینٹاگون میں اختلافات شدت اختیار کرگئے، آرمی سیکریٹری ڈینیئل ڈرسکول مستعفی

یہ اقدام امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے جولائی کے اعلان کا تسلسل ہے۔ بدھ کے روز جاری کی جانے والی یہ ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہیں۔

اس کا مقصد مردوں اور عورتوں کے لیے اسکریننگ اور علاج کے یکساں طریقے وضع کرنا ہے تاکہ پینٹاگون کے مطابق ہارمونز اور توانائی کی فراہمی سے متعلق مسائل کی نشان دہی اور ان کا حل نکال کر فوجی تیاری کو بہتر بنایا جا سکے۔

ٹیسٹوسٹیرون کے استعمال کی حمایت کرنے والے ہیگسیتھ نے گزشتہ ماہ اس لازمی ٹیسٹ کا اعلان کیا تھا جس پر ماہرین نے سوالات اٹھائے تھے کہ آیا ایسی پالیسی کی کوئی سائنسی بنیاد موجود بھی ہے یا نہیں۔

امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن ستمبر کے وسط میں ماہرین کا ایک اجلاس بلانے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ ٹیسٹوسٹیرون کے طبی استعمال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔

مزید پڑھیے: پینٹاگون پر شہری ہلاکتوں کے اعداد و شمار چھپانے کا الزام

ان ہدایات کے مطابق 30 سال اور اس سے زائد عمر کے تمام مردوں کا ٹیسٹوسٹیرون بلڈ ٹیسٹ لازمی ہوگا جبکہ کم عمر مردوں کا ٹیسٹ صرف ان کی درخواست پر یا معالجین کے ذریعے علامات کی نشاندہی پر ہی کیا جائے گا۔

خواتین کے لیے ان ہدایات میں روٹین کے ٹیسٹوسٹیرون بلڈ ٹیسٹ کو لازمی قرار نہیں دیا گیا ہے بلکہ تھکاوٹ اور حیض کی بے قاعدگی کی اسکریننگ کی ہدایت کی گئی ہے جن کا تعلق ہارمونز کی خرابی اور توانائی کی کمی جیسے مسائل سے ہو سکتا ہے۔

دستاویز میں خواتین کو ‘آف لیبل’ (غیر روایتی) ٹیسٹوسٹیرون تجویز کرنے کے لیے بھی ہدایات دی گئی ہیں خاص طور پر ایسی پوسٹ مینوپازل خواتین کے لیے جن میں جنسی خواہش غیر معمولی طور پر کم ہو۔

ڈاکٹروں نے اس اندیشے کا اظہار کیا ہے کہ بڑے پیمانے پر ٹیسٹوسٹیرون ٹیسٹنگ سے غیر ضروری یا بالواسطہ نقصان دہ علاج شروع ہو سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: خوشی، محبت و دیگر جذبات کے ہارمونز کونسے، یہ ہمارے دماغ پر کیسے حکومت کرتے ہیں؟

ان کا کہنا ہے کہ اس بات کے بہت کم شواہد موجود ہیں کہ تمام فوجی اہلکاروں کے لیے ’لو ٹیسٹوسٹیرون‘ کی اسکریننگ سے امریکا کی جنگی تیاریوں میں کوئی بہتری آئے گی۔

ٹیسٹوسٹیرون کیا ہے؟

ٹیسٹوسٹیرون انسانی جسم میں پایا جانے والا ایک انتہائی اہم ہارمون ہے جسے بنیادی طور پر مردانہ ہارمون سمجھا جاتا ہے تاہم یہ قلیل مقدار میں خواتین کے جسم میں بھی بنتا ہے۔ یہ ہارمون جسمانی طاقت، پٹھوں کے حجم اور بناوٹ، ہڈیوں کی مضبوطی، جسمانی توانائی، مزاج کے توازن اور جنسی صحت کو برقرار رکھنے میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ یا جسمانی و ذہنی تناؤ کی وجہ سے جسم میں اس ہارمون کی سطح قدرتی طور پر کم ہونے لگتی ہے جس سے تھکاوٹ، پٹھوں کی کمزوری اور سستی جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

ٹیسٹوسٹیرون ٹیسٹ کا کیا فائدہ ہوگا؟

میڈیکل اسکریننگ کے ذریعے ٹیسٹوسٹیرون کی سطح کا معائنہ کرنے سے جسم میں اس ہارمون کی کمی یا بے قاعدگی کا وقت پر پتا لگایا جا سکتا ہے۔ اگر کسی فرد میں اس کی سطح غیر معمولی حد تک کم ہو تو طبی مشورے اور درست علاج سے اس کی جسمانی توانائی، پٹھوں کی طاقت، برداشت اور ذہنی ارتکاز کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ فوجیوں کے تناظر میں اس اسکریننگ کا بنیادی مقصد یہ طے کرنا ہے کہ آیا اہلکار جسمانی اور ذہنی طور پر سخت اور چیلنجنگ ڈیوٹی کے لیے مکمل طور پر فعال اور تیار ہیں یا نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp