صوبے کی تقسیم کیخلاف سندھ اسمبلی میں قرارداد منظور، مقامی حکومتیں مضبوط بنانے پر آمادگی کا اظہار

جمعرات 3 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ کے مستقبل کا فیصلہ کسی دوسرے مقام پر بیٹھ کر نہیں کیا جاسکتا اور ہم قومی اسمبلی کو خبردار کرتے ہیں کہ سندھ کی تقسیم کی بات بھی نہ کی جائے۔

یہ بھی پڑھیں: نئے صوبے بنانے کا حکم آگیا، نظام پیپلز پارٹی کے خلاف، شہباز حکومت کے خاتمے کے لیے ڈیڈ لائن

سندھ میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث کے دوران سندھ اسمبلی نے صوبے کی تقسیم کے خلاف قرارداد منظور کرلی۔ پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی نثار کھوڑو کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد پر ایوان میں تفصیلی بحث ہوئی جبکہ اپوزیشن اراکین کی جانب سے انتظامی یونٹس کے قیام کو قرارداد میں شامل کرنے کی تجویز بھی سامنے آئی۔

سندھ اسمبلی میں تحریکِ التوا پر چوتھے روز بھی بحث جاری رہی۔ اس دوران وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں نئے صوبے نہیں بننے چاہییں اور صوبے کے مستقبل سے متعلق کوئی بھی فیصلہ سندھ کے عوام کے جذبات اور احساسات کو مدنظر رکھ کر ہی کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کے مستقبل کا فیصلہ کہیں اور بیٹھ کر نہیں کیا جاسکتا۔ قومی اسمبلی کو بھی خبردار کرتے ہیں کہ سندھ کی تقسیم کی بات تک نہ کی جائے۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ماضی میں ون یونٹ کے قیام کے وقت بھی سندھ کے عوام کے جذبات کو نظرانداز کیا گیا تھا اس لیے سندھ کے معاملات پر کسی غیر متعلقہ فورم پر ہونے والی گفتگو تشویش کا باعث بنتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر مسئلہ بہتر طرز حکمرانی کا ہے تو صوبے تقسیم کرنے کے بجائے انتظامی اصلاحات پر بات ہونی چاہیے۔ صرف آبادی کو بنیاد بنا کر نئے صوبوں کے قیام کا جواز پیش نہیں کیا جاسکتا۔

مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: سندھ کے علاوہ جہاں بھی ضرورت ہو نئے صوبے بننے چاہییں، قمر زمان کائرہ

وزیراعلیٰ نے کہا کہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے، مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانے اور انتظامی نظام میں بہتری کے لیے ضرور تفصیلی بحث ہونی چاہیے۔ سندھ میں ضرورت کے مطابق مزید اضلاع اور انتظامی یونٹس بھی بنائے جاسکتے ہیں لیکن انتظامی اصلاحات کو صوبے کی تقسیم کے بنیادی معاملے کے ساتھ نہیں ملایا جانا چاہیے۔

’انتظامی یونٹس پر الگ قرارداد لائی جاسکتی تھی‘

قرارداد کی منظوری سے قبل وزیراعلیٰ سندھ نے اپوزیشن ارکان سے کہا کہ وہ سندھ کی تقسیم کے خلاف ایک مشترکہ قرارداد پر اتفاق کریں۔

ان کے مطابق نثار کھوڑو نے قواعد و ضوابط کو مدنظر رکھتے ہوئے قرارداد کا مسودہ تیار کیا تھا تاہم اپوزیشن نے اس میں انتظامی یونٹس کے قیام کا معاملہ بھی شامل کرنے کی تجویز دی۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ انتظامی یونٹس کے قیام کو سندھ کی تقسیم کے بنیادی معاملے سے جوڑنا مناسب نہیں۔ اگر اپوزیشن انتظامی یونٹس یا مقامی حکومتوں کے حوالے سے بات کرنا چاہتی تھی تو اس کے لیے الگ قرارداد لائی جاسکتی تھی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانے کی تجویز کی حمایت کرتی ہے اور اس مقصد کے لیے مزید اقدامات کرنے کو بھی تیار ہے۔

وزیراعلیٰ کے مطابق حکومت نے اپوزیشن سے کہا تھا کہ انتظامی یونٹس یا مقامی حکومتوں سے متعلق الگ قرارداد لے آئیں تاہم اپوزیشن ارکان مشترکہ قرارداد پر اتفاق کرنے کے بجائے ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔

انہوں نے اپوزیشن کے اس طرزِ عمل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مشترکہ قرارداد کی حمایت نہ کرکے اپوزیشن نے اپنی بدنیتی ظاہر کردی۔

مراد علی شاہ کی ایم کیو ایم اور مصطفیٰ کمال پر تنقید

وزیراعلیٰ سندھ نے نئے صوبوں کے قیام کی بحث کے دوران ایم کیو ایم اور مصطفیٰ کمال کے مؤقف پر بھی تنقید کی۔

انہوں نے کہا کہ مصطفیٰ کمال انتظامی یونٹس کے قیام کی بات کرتے ہیں جبکہ ایم کیو ایم کے ارکان سندھ اسمبلی میں سندھ کی تقسیم نہ کرنے کی بات کرتے ہیں۔ ان کے بقول یہ تضاد ہے اور سوال یہ ہے کہ عوام کو کس بات پر یقین دلایا جارہا ہے۔

مزید پڑھیں: نئے صوبے عوام کی مرضی سے بننے چاہییں، تحفظات دور ہونے تک ن لیگ کے ساتھ تعاون نہیں کریں گے، بلاول بھٹو

مراد علی شاہ نے کہا کہ بعض ارکان انتخابات کے بجائے مخصوص طریقہ کار کے تحت ایوان میں پہنچے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ ارکان کے انتخاب کے حوالے سے تفصیلات مناسب وقت پر سامنے لائی جاسکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کے معاملات پر غیر متعلقہ فورمز میں ہونے والی گفتگو قابل تشویش ہے۔ ان کا سوال تھا کہ کیا اب پاکستان کو چلانے یا نئے صوبوں کے فیصلے کرنے کا اختیار بڑے کاروباری افراد کے پاس ہوگا؟

وزیراعلیٰ نے لاہور میں ہونے والے ایک پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے بھی کہا کہ وہاں ’سسٹم ختم ہوچکا ہے‘ جیسی بات کہی گئی اور اس پر تالیاں بجائی گئیں جو سندھ کے حوالے سے مزید سوالات پیدا کرتی ہے۔

’احتجاج اور واک آؤٹ کا بہانہ بنا کر اسمبلی سے بھاگ رہے ہیں‘

صوبائی وزیر شرجیل میمن نے بھی اپوزیشن کے واک آؤٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن احتجاج اور واک آؤٹ کا بہانہ بنا کر اسمبلی سے بھاگ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے بھی اجلاس کا بائیکاٹ کیا جبکہ پیپلز پارٹی ایوان میں موجود رہی اور دیگر جماعتوں کے ارکان نے بائیکاٹ کیا۔

یہ بھی پڑھیے: آبادی کے لحاظ سے نئے صوبے بننے چاہییں، سندھ میں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، ایم کیو ایم

بعد ازاں سندھ اسمبلی کا اجلاس ملتوی کردیا گیا اور آئندہ اجلاس جمعہ دن ڈھائی بجے تک کے لیے ملتوی کردیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp