عماد وسیم کی سابق اہلیہ ثانیہ اشفاق کے دعوے پر ڈاکٹر بھی بول پڑیں، اسقاطِ حمل سے متعلق بڑا انکشاف

جمعہ 4 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کرکٹر عماد وسیم کی سابق اہلیہ ثانیہ اشفاق کی جانب سے اسقاطِ حمل کے حوالے سے کیے گئے دعووں پر ان کی ڈاکٹر نے بھی وضاحت پیش کردی۔

ثانیہ اشفاق نے دعویٰ کیا تھا کہ 2023 میں ان کے شوہر اور ساس نے انہیں تیسرے بچے کا اسقاطِ حمل کروانے پر مجبور کیا۔ ان کے مطابق لاہور میں ایک ڈاکٹر کو ایک لاکھ روپے ادا کیے گئے جنہوں نے اسقاطِ حمل کا عمل انجام دیا حالانکہ بچے کے دل کی دھڑکن موجود تھی۔ ثانیہ کا کہنا تھا کہ انہیں بے ہوش کیا گیا اور جب وہ ہوش میں آئیں تو حمل ختم ہوچکا تھا۔

اب مذکورہ ڈاکٹر نے اپنے یوٹیوب چینل پر جاری بیان میں ثانیہ اشفاق کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ثانیہ خود بھی اسقاطِ حمل کے لیے رضامند تھیں۔ ڈاکٹر کے مطابق یہ حمل غیر منصوبہ بند تھا اور ثانیہ ورلڈ کپ میں شرکت کرنا چاہتی تھیں جس کے باعث دونوں میاں بیوی نے اسقاطِ حمل پر رضامندی ظاہر کی۔

ڈاکٹر نے مزید کہا کہ انہوں نے کبھی اس بات سے انکار نہیں کیا کہ انہوں نے مذکورہ طبی عمل انجام دیا تھا۔ ان کے بقول اس وقت ثانیہ اور عماد وسیم کی ازدواجی زندگی میں مسائل دکھائی دیتے تھے تاہم اس مخصوص معاملے پر دونوں کی رضامندی موجود تھی۔

ڈاکٹر کے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے مختلف ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔ بعض صارفین نے اسقاطِ حمل پر ڈاکٹر کو تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ کچھ نے پاکستان میں اسقاطِ حمل سے متعلق قانونی اور اخلاقی پہلوؤں پر سوالات اٹھائے ہیں۔

ایک صارف نے لکھا کہ آپ نے پھر بھی ایک بچے کی جان لی، اس سے فرق نہیں پڑتا کہ ثانیہ رضامند تھیں یا نہیں۔ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا کہ “پاکستان میں اسقاطِ حمل غیر قانونی ہے، چاہے میاں بیوی اس پر رضامند ہی کیوں نہ ہوں۔” ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ “پاکستان میں صرف برے ڈاکٹر ہی اسقاطِ حمل کرتے ہیں۔”

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp