سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ ہیرے کی ایک مخصوص شکل مکینیکل دباؤ یا موڑنے کی صورت میں بجلی پیدا کرسکتی ہے، جسے مٹیریل سائنس میں ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ہانگ کانگ یونیورسٹی کے محققین کی جانب سے کی گئی تحقیق کے مطابق انتہائی باریک پولی کرسٹلائن ڈائمنڈ یعنی متعدد کرسٹل پر مشتمل ہیرے کی جھلی کو موڑنے سے برقی وولٹیج پیدا ہوتا ہے۔ تحقیق میں تقریباً 5 مائیکرومیٹر موٹی ہیرے کی جھلی کو صرف 1.4 فیصد تک موڑنے پر تقریباً 70 ملی وولٹ بجلی پیدا ہوئی۔
یہ دریافت اس لیے اہم ہے کہ ہیرے کو ایک صدی سے زیادہ عرصے تک ایسے مادے کے طور پر سمجھا جاتا رہا ہے جو دباؤ یا میکانی تناؤ سے برقی چارج پیدا نہیں کرسکتا۔
یہ بھی پڑھیں:زمین کی سطح پر پڑا قیمتی ہیرا امریکی خاتون کی زندگی بدل گیا
پروفیسر ژیقِن چو اور پروفیسر یوان لِن کی قیادت میں محققین نے انتہائی باریک ہیرے کی جھلی تیار کرکے اسے موڑنے اور دباؤ ڈالنے کے تجربات کیے۔ سائنسدانوں کے مطابق پیدا ہونے والی بجلی محض رگڑ یا ماحول کے اثرات کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ ہیرے کے اندر موجود غیر متناسب ’گرین باؤنڈریز‘ کے باعث پیدا ہونے والی برقی قطبیت سے منسلک تھی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ خالص سنگل کرسٹل ہیرے میں یہ اثر مکمل طور پر ختم ہوجاتا ہے، یعنی بجلی پیدا کرنے کی یہ خاصیت ہیرے کے اندر موجود انہی باریک ساختی حدود اور معمولی خامیوں سے پیدا ہوتی ہے۔
تحقیق کے مطابق تقریباً 5 مائیکرومیٹر موٹی ہیرے کی فلم میں سب سے زیادہ پیزو الیکٹرک ردعمل دیکھا گیا۔ یہ نتائج مستقبل میں انتہائی چھوٹے الیکٹرانک آلات، سینسرز اور توانائی پیدا کرنے والی ٹیکنالوجی کے لیے نئے امکانات پیدا کرسکتے ہیں۔














