دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں بھارت نے پاکستان کو 7 وکٹوں سے شکست دے کر ایشین کرکٹ کونسل کے زیر اہتمام ویمنز ٹی20 ایشیا کپ 2026 میں اہم کامیابی حاصل کرلی۔
پاکستان کی پوری ٹیم 18.1 اوورز میں صرف 55 رنز پر آؤٹ ہوئی، جواب میں بھارت نے 9ویں اوور میں 3 وکٹوں کے نقصان پر ہدف حاصل کرلیا۔
بھارت کی جانب سے پریما راوت اور شری چرانی نے 3،3 وکٹیں حاصل کرکے پاکستان کی بیٹنگ لائن کی کمر توڑ دی، جبکہ کپتان ہرمَن پریت کور نے ناقابلِ شکست 18 اور دیپتی شرما نے ناٹ آؤٹ 12 رنز بنا کر ٹیم کو فتح سے ہمکنار کیا۔
پاکستان کی اننگز، 27 رنز کی اوپننگ شراکت کے بعد تباہی
پاکستان کی کپتان فاطمہ ثنا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا جو انتہائی مہنگا اور ناکامی کا باعث بنا۔ منیبا علی اور شوال ذوالفقار نے اننگز کا محتاط آغاز کرتے ہوئے پہلی وکٹ کے لیے 27 رنز بنائے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان ویمنز ٹیم کا سری لنکا ٹور: ٹی20 سیریز نئے مقام پر منتقل، کس کا پلڑا بھاری؟
بھارت کو پہلی کامیابی 5ویں اوور میں ملی، جب شفیالی ورما نے چوکا کھانے کے بعد منیبا علی کو 13 رنز پر پویلین واپس بھیج دیا۔
اگلے ہی اوور میں شری چرانی نے پاکستان کو 2 بڑے دھچکے دیے۔ انہوں نے گل فیروزہ کو بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ کیا، جبکہ شوال ذوالفقار بھی 14 رنز پر چلتی بنیں۔ شوال پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ رنز بنانے والی بیٹر رہیں اور ان کی اننگز میں 3 چوکے شامل تھے۔
26 رنز کے اندر7 وکٹیں، پاکستان کا بدترین ریکارڈ
چرانی کے یکے بعد دیگرے وار نے پاکستان کی بیٹنگ میں ایسا بھونچال پیدا کیا کہ باقی 7 وکٹیں محض 26 رنز کے اضافے پر گر گئیں۔ کپتان فاطمہ ثنا بھی صفر پر آؤٹ ہوئیں۔
نچلے نمبروں پر طوبیٰ حسن نے مزاحمت کی کوشش کی، تاہم پاکستانی بیٹنگ بھارتی بولنگ کے سامنے زیادہ دیر نہ ٹھہر سکی اور پوری ٹیم 18.1 اوورز میں 55 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔ یہ خواتین کے ٹی20 انٹرنیشنل میں پاکستان کا اب تک کا کم ترین مجموعہ بھی قرار پایا۔
بھارت کی جانب سے پریما راوت اور شری چرانی نے 3،3 وکٹیں حاصل کیں، دیپتی شرما نے 2 جبکہ شفیالی ورما نے 1 کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔
بھارت کا ہدف کے تعاقب میں بھی لڑکھڑاتا آغاز
56 رنز کے معمولی ہدف کے تعاقب میں بھارت کا آغاز بھی توقع کے مطابق پُراعتماد نہیں تھا۔ پاکستان کی کپتان فاطمہ ثنا نے دوسرے اوور میں شفیالی ورما کو 12 اور پرتیکا راول کو 4 رنز پر آؤٹ کرکے بھارت کو 18 رنز پر 2 وکٹوں سے محروم کردیا۔
اس کے بعد ہرمَن پریت کور نے سمرتی مندھانا کے ساتھ اننگز سنبھالنے کی کوشش کی۔ دونوں نے تیسری وکٹ کے لیے 11 رنز جوڑے، تاہم فاطمہ ثنا نے ایک مرتبہ پھر کامیابی حاصل کرتے ہوئے مندھانا کو 9 رنز پر پویلین بھیج دیا۔ بھارت 4 اوورز کے اختتام پر 29 رنز پر 3 وکٹیں گنوا چکا تھا۔
ہرمَن پریت اور دیپتی نے کام مکمل کردیا
29 رنز پر 3 وکٹیں گرنے کے بعد ہرمَن پریت کور نے دیپتی شرما کے ساتھ ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستان کو مزید کسی موقع کا انتظار نہیں دیا۔
مزید پڑھیں:ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ کا سب سے بڑا ٹاکرا آج: پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں آمنے سامنے
دونوں نے چوتھی وکٹ کے لیے ناقابلِ شکست 28 رنز کی شراکت قائم کی اور بھارت نے 9ویں اوور میں ہدف حاصل کرلیا، اس طرح 68 گیندیں باقی رہتے ہوئے 7 وکٹوں سے کامیابی اپنے نام کی۔
ہرمَن پریت کور نے 18 گیندوں پر ناقابلِ شکست 18 رنز بنائے، جس میں 1 چوکا اور 1 چھکا شامل تھا، جبکہ دیپتی شرما 14 گیندوں پر 12 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہیں۔
پاکستان کی جانب سے فاطمہ ثنا واحد کامیاب بولر رہیں، جنہوں نے 3 اوورز میں 17 رنز دے کر بھارت کی 3 وکٹیں حاصل کیں۔
پاک بھارت مقابلے کی اہمیت
پاک بھارت میچ ویمنز ٹی20 ایشیا کپ کے سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والے مقابلوں میں شمار ہوتا ہے۔ دبئی میں ہونے والے اس میچ میں پاکستان کو پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے ایک بڑا مجموعہ ترتیب دینے کی ضرورت تھی، مگر بھارتی اسپن اور درمیانی اوورز کی مؤثر بولنگ نے پاکستانی بیٹنگ کو مسلسل دباؤ میں رکھا۔
بھارت کی جانب سے مختصر ہدف کے تعاقب میں ابتدائی مشکلات کے باوجود ہرمَن پریت کور اور دیپتی شرما نے تحمل کا مظاہرہ کیا اور میچ کو کسی سنسنی خیزی کے بغیر بھارت کے حق میں ختم کردیا۔
آج کے میچ کی پلیئنگ الیون
اس اہم ٹاکرے کے لیے دونوں ٹیموں نے بہترین کھلاڑیوں کا انتخاب کیا ہے
پاکستانی اسکواڈ
فاطمہ ثنا (کپتان)، منیبہ علی (وکٹ کیپر)، شوال ذوالفقار، گل فیروزہ، عائشہ ظفر، صدف شمس، ایمن فاطمہ، طوبہٰ حسن، نشرہ سندھو، سعدیہ اقبال اور ام ہانی شامل ہیں۔
بھارتی اسکواڈ
ہرمن پریت کور (کپتان)، اسمرتی مندھانا، شیفالی ورما، پراتیکا راول، بھارتی فلمالی، ریچا گھوش (وکٹ کیپر)، دیپتی شرما، پریما راوت، شری چرنی، کرانتی گوڈ اور نندنی شرما شامل ہیں۔










