ملکی مسائل کے حل کے لیے نئے صوبے بنانا ناگزیر ہے، چین میں موجود پاکستانیوں کی رائے

پیر 7 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کے حوالے سے بحث کے دوران چین میں موجود پاکستانیوں نے رائے دی ہے کہ ملک کی ترقی، بہتر انتظامی نظام اور عوام کو اختیارات کی منتقلی کے لیے نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام پر اتفاق رائے ہونا چاہیے۔

چین کے مختلف شہروں میں موجود پاکستانیوں سے نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کے حوالے سے ان کی رائے لی گئی۔

بڑے صوبوں کو چھوٹی انتظامی اکائیوں میں تقسیم کرنے کی تجویز

چین میں موجود پاکستانیوں کا کہنا تھا کہ دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں پایا جاتا جس نے صوبے بنائے بغیر ترقی کے مراحل طے کیے ہوں۔ ملک کو آگے بڑھانے، مسائل کے حل، ملکی ترقی اور خوشحالی کے لیے عام آدمی کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ وہ اقتدار کا حصہ ہے اور اس کے مسائل حل ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ایک بڑے صوبے کو چھوٹے صوبوں یا انتظامی یونٹس میں تقسیم کیا جائے تو انتظامی امور پر زیادہ بہتر طریقے سے کنٹرول ممکن ہوسکتا ہے۔ بنیادی چیز کرپشن پر کنٹرول اور ترقی ہے، ایک بڑا صوبہ ہونے کی صورت میں پورے صوبے کی ترقی کو ایک انتظامیہ کے لیے منظم کرنا مشکل ہوتا ہے، تاہم اسے مختلف انتظامی یونٹس میں تقسیم کرنے سے انتظامیہ کے لیے نہ صرف ترقیاتی عمل آسان ہوگا بلکہ اس کی نگرانی اور مانیٹرنگ بھی بہتر انداز میں ہوسکے گی۔

پاکستان میں صوبوں اور انتظامی یونٹس کی تعداد بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے پاکستانیوں کا کہنا تھا کہ اس سے پاکستان چین کی طرح ترقی کرسکتا ہے۔

اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے پر زور

پاکستانیوں نے کہاکہ صوبے بڑے ہونے کی وجہ سے ان میں مانیٹرنگ اور نگرانی مشکل ہورہی ہے، اس لیے ایسے نظام کو اپنانا چاہیے جس میں اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ جتنے زیادہ اختیارات نچلی سطح پر منتقل ہوں گے، اتنی ہی ہماری سوسائٹی اور ملک ترقی کرے گا۔ اختیارات کی مرکزیت ترقی اور لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے ہمیشہ نقصان دہ ثابت ہوتی رہی ہے۔

چین کی ترقی کی مثال دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ چینی شہریوں سے پوچھا جائے کہ انہوں نے ترقی کیسے کی تو وہ بتاتے ہیں کہ صوبائی سطح سے مقامی سطح تک اختیارات منتقل کیے گئے ہیں اور کمیونٹی بیس تنظیمیں قائم کی گئی ہیں جو ترقی میں اہم کردار ادا کررہی ہیں۔

انہوں نے کہاکہ صوبے لازمی طور پر ہونے چاہئیں اور اسے امپاورمنٹ کہا جاسکتا ہے۔ جب تک اختیارات کی منتقلی نہیں ہوگی، چاہے وہ صوبوں کی صورت میں ہو یا بااختیار بنانے کی صورت میں، نظام کو گراؤنڈ لیول تک لانا ضروری ہے۔

پنجاب کی 12 کروڑ سے زیادہ آبادی کا حوالہ

پاکستانیوں نے پنجاب کی آبادی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب کی آبادی 100 ملین سے زیادہ ہے، یعنی تقریباً 12 سے 13 کروڑ افراد ہیں۔ ان کے مطابق یورپ کے تقریباً 10 ممالک ایسے ہیں جو پنجاب سے رقبے اور آبادی کے اعتبار سے چھوٹے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اتنا بڑا صوبہ ہونے کے بجائے اگر اسے انتظامی طور پر تقسیم کردیا جائے تو یہ زیادہ بہتر ہوگا۔

چین اور پاکستان کی آبادی کے تناظر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ دونوں ممالک کی آبادی کا حجم کافی حد تک مماثل ہے، تاہم چین میں کوئی ایک صوبہ ایسا نہیں جس میں ملک کی نصف سے زیادہ آبادی موجود ہو۔ پاکستان میں ایک صوبے کی آبادی ملک کی 50 فیصد سے زیادہ آبادی پر مشتمل ہے، جو دنیا میں بھی ایک غیر معمولی صورت حال ہے۔

ان کے مطابق صوبے انتظامی طور پر ایسے ہونے چاہییں جنہیں آسانی سے منظم کیا جاسکے۔

وسائل کی منصفانہ تقسیم اور عوامی رابطے پر زور

پاکستانیوں کا کہنا تھا کہ اگر آبادی، وسائل، ڈیموگرافکس اور جغرافیائی پوزیشن کو مدنظر رکھا جائے تو زیادہ انتظامی یونٹس قائم ہونے سے عوام اور حکومت کے درمیان رابطہ بہتر ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر پنجاب میں ایک شخص راجن پور سے لاہور آتا ہے تو اسے طویل فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے، اس لیے انتظامی یونٹس کو چھوٹا اور قابل انتظام بنانا ضروری ہے تاکہ عوام کے مسائل ان کے قریب حل ہوسکیں۔

چین کے ترقیاتی ماڈل کو سمجھنے کی ضرورت

چین میں موجود پاکستانیوں نے کہا کہ سب سے پہلے پاکستان کو یہ سیکھنا ہوگا کہ چین نے کس طرح ترقی کی، کس طرح دیہی ترقی کی، کس طرح اربنائزیشن کو آگے بڑھایا، کس طرح ماڈل ولیجز اور ماڈل سٹیز بنائے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلے چین کے اس نظام کو سمجھنا ہوگا اور پھر ایک واضح مقصد کے ساتھ پاکستان کے صوبوں اور انتظامی تقسیم کے حوالے سے آگے بڑھنا ہوگا۔

ہمسایہ ممالک میں صوبوں اور ریاستوں کا نظام

چین میں موجود پاکستانیوں کا کہنا تھا کہ پاکستان میں نئے صوبوں اور وفاقی یونٹس کے حوالے سے اتفاق رائے ہونا چاہیے اور اس بحث کو آگے بڑھانا مفید ہے۔

انہوں نے بتایا کہ چین میں اس وقت 23 صوبے ہیں، جبکہ 34 ڈویژنز موجود ہیں۔ بھارت میں 28 ریاستیں ہیں، جبکہ یونین ٹیریٹریز کو شامل کیا جائے تو یہ تعداد تقریباً 35 کے قریب بنتی ہے۔

ان کے مطابق افغانستان میں 34 صوبے، ایران میں 31 صوبے جبکہ ترکیہ میں 81 صوبے موجود ہیں۔

پاکستانیوں کا کہنا تھا کہ یہ تمام ہمسایہ ممالک انتظامی تقسیم کے اس پیٹرن پر عمل کررہے ہیں، جہاں صوبوں کے بعد مزید انتظامی سطحوں پر اختیارات تقسیم کیے جاتے ہیں اور عوام اپنے نمائندوں کے ساتھ ملک کی ترقی میں کردار ادا کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چین میں بھی یہی نظام دیکھنے کو ملتا ہے اور امید ہے کہ پاکستان میں بھی اس حوالے سے جلد کوئی بڑا فیصلہ ہوگا جو عوام کے لیے مفید ثابت ہو اور پاکستان بھی اپنے ہمسایہ ممالک، بالخصوص چین، کی طرح ترقی کرسکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp