برطانیہ نے مقبوضہ مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسرائیلی آبادکاری کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کردیا۔
برطانوی وزیر خارجہ ایڈملی بینڈ نے دارالعوام میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاری غیر قانونی ہے اور وہاں اسرائیل کی جانب سے نسل کشی کی جا رہی ہے۔
ایڈملی بینڈ نے کہاکہ اسرائیل کو ہتھیار فراہم کرنے والے 30 لائسنس پہلے ہی معطل کیے جا چکے ہیں۔ غزہ میں 70 ہزار افراد قتل کیے گئے، جن میں 20 ہزار بچے بھی شامل ہیں۔
برطانوی وزیر خارجہ کے مطابق غزہ میں اسپتالوں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ 60 فیصد گھر تباہ کردیئے گئے۔ اسرائیل کی جانب سے غزہ میں عالمی قوانین کی خلاف ورزیاں کی گئیں اور عام شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا۔
ایڈملی بینڈ نے کہاکہ غزہ میں جنگی جرائم کیے جانے کے شواہد موجود ہیں اور برطانیہ غزہ سے متعلق عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) کے فیصلوں کی حمایت کرتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ سیز فائر کے باوجود اسرائیل کی جانب سے 1200 فلسطینیوں کو قتل کیا گیا، برطانیہ غزہ کے شہریوں کی بھرپور مدد کرے گا جبکہ فلسطینی طلبہ کو برطانیہ میں خوش آمدید کہا جائے گا۔
برطانوی وزیر خارجہ نے اعلان کیاکہ غزہ کی صورتحال پر اقوام متحدہ میں بھرپور آواز اٹھائی جائے گی۔ مغربی کنارے میں تعمیراتی کاموں کے ذریعے قابضین کی مدد کرنے والی کمپنیوں پر بھی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔
ایڈملی بینڈ نے کہا کہ غزہ میں مظالم کرنے والے عناصر کا احتساب یقینی بنایا جائے گا۔
برطانوی وزیر خارجہ نے کہا کہ برطانیہ دو ریاستی حل کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور اس کے لیے مکمل ساتھ دے گا، جبکہ دو ریاستی حل کی حمایت برطانوی حکومت کی پالیسی ہے۔
انہوں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ غیر قانونی بستیوں کی تعمیر فوری طور پر روکی جائے۔














