احتساب کے دعوے اور حماد اظہر کا ذاتی ٹیکس ریکارڈ، کھلے تضاد نے سوالات کھڑے کردیے

منگل 8 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے ’نئے پاکستان‘ کا نعرہ احتساب، ٹیکس چوری کے خلاف کارروائی اور اشرافیہ کے خلاف مؤقف پر کھڑا تھا، جس نے سیاسی اخلاقیات کا ایک معیار قائم کیا۔ تاہم سوال عمران خان کے دور میں اسی معیار کے تحت وزارتیں سنبھالنے والوں کا ذاتی ٹیکس ریکارڈ کیا تصویر پیش کرتا ہے۔

اس حوالے سے حماد اظہر کا کیس بھی انتہائی اہم ہے، جس پر ان دنوں سوال اٹھایا جارہا ہے۔ مارچ 2021 میں جب حماد اظہر وزیر خزانہ بنے تو صحافی ندیم ملک نے اپنے پروگرام میں ان کے پرانے ذاتی ٹیکس ریکارڈ کا ذکر کیا تھا۔

پیش کیے گئے ریکارڈ کے مطابق حماد اظہر نے 2013 میں صفر ٹیکس ادا کیا، 2014 میں صرف 50 روپے، 2015 میں 6 ہزار 407 روپے، 2016 میں 8 ہزار 31 روپے جبکہ 2017 میں قریباً 20 ہزار روپے ٹیکس ادا کیا۔

پھر اس کے بعد کے برسوں میں ادا کیے گئے ٹیکس کی رقم اچانک کروڑوں روپے میں دکھائی گئی۔

اس تبدیلی کے تناظر میں سوال اٹھایا گیا کہ آمدن اور طرز زندگی میں اتنا بڑا فرق کیسے آیا اور کیا ابتدائی برسوں میں ظاہر کیا جانے والا معمولی ریٹرن ٹیکس چوری کی نشاندہی نہیں کرتا؟

حماد اظہر ذاتی طور پر کابینہ میں کم ترین ٹیکس ادا کرنے والوں میں شمار ہوتے رہے۔

وزیر خزانہ کے عہدے پر فائز ہونے والا فرد اگر برسوں تک ذاتی ریٹرن میں معمولی رقم ظاہر کرے اور دوسری جانب نعرہ ’ٹیکس چوروں کے خلاف جنگ‘ کا ہو تو اس تضاد کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

احتساب کا دعویٰ کرنے والے کا فرض تھا کہ وہ اپنے ذاتی ریکارڈ کو پہلے دن سے شفاف رکھتے۔ اس وضاحت کے بغیر ’ٹیکس چور‘ کا لیبل دوسروں پر عائد کرنے کی اخلاقی حیثیت پر بھی سوال اٹھتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ احتساب اور ٹیکس اصلاحات کا نعرہ اسی وقت مؤثر رہتا ہے جب نعرہ لگانے والا خود بھی اس معیار پر پورا اترے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp