ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے افغان میڈیکل طلبہ کو پاکستان سے افغانستان واپس جانے کے فیصلے پر تنقید کے بعد نئی بحث چھڑ گئی ہے، ناقدین کا کہنا ہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل ساؤتھ ایشیا آفس کو بین الاقوامی قانون کی بنیادی سمجھ بوجھ کی ضرورت ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا افغان میڈیکل طلبہ کو پاکستان چھوڑ کر افغانستان واپس جانے کا فیصلہ واضح طور پر امتیازی اور من مانی نوعیت کا ہے۔
دوسری جانب قانون کے مطابق غیر ملکی طلبہ کے لیے یونیورسٹیوں میں داخلے صرف جائز اسٹوڈنٹ ویزا کی بنیاد پر قابل اجازت ہیں، غیر قانونی تارکین وطن اس سہولت کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔
ایسے میں جن افراد نے جعلی شناختی دستاویزات پر میڈیکل کالجز میں داخلے حاصل کیے ہیں، وہ قیمتی طبی تعلیم کے بجائے قانونی کارروائی کے مستحق ہیں۔
پاکستان کے اقدامات فارنرز ایکٹ 1946 کے تحت کیے جا رہے ہیں، جو پاکستان کو غیر ملکی شہریوں کی موجودگی کو منظم کرنے کا مکمل اختیار دیتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل ساؤتھ ایشیا کی ریجنل ڈائریکٹر سمریتی سنگھ ہیں جنہوں نے ریجنل آفس کو ’یورپی ڈس انفارمیشن لیبز‘ کی طرح پاکستان مخالف پروپیگنڈا پلیٹ فارم بنا دیا ہے۔
سمریتی سنگھ اس سے قبل ٹائمز آف انڈیا کے لیے کام کر چکی ہیں، جن کے بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے ساتھ تعلقات کی باتیں بھی سامنے آ چکی ہیں۔
’بین الاقوامی قانون ریاست کو غیر ملکیوں کو ریگولیٹ کرنے سے نہیں روکتا‘
بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کا حوالہ دینے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ پاکستان کو غیر ملکی شہریوں کو ریگولیٹ کرنے سے روکا گیا ہے۔
رپورٹ میں انٹرنیشنل کووننٹ آن سول اینڈ پولیٹیکل رائٹس (آئی سی سی پی آر) کے آرٹیکل 13 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ شق ریاست کے اس اختیار کو تسلیم کرتی ہے کہ وہ غیر ملکی شہریوں کو ملک سے نکال سکتی ہے، بشرطیکہ اخراج قانون کے مطابق کیا جائے۔














