جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما اور رکن خیبرپختونخوا اسمبلی عنایت اللہ خان نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی (جے آئی) اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے لانگ مارچ میں فرق ہے۔ جماعت اسلامی عوام کے لیے احتجاج کررہی ہے، جبکہ پی ٹی آئی عوامی مسائل کے بجائے عمران خان کے لیے احتجاج کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ حکومت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا طریقہ کار بتا دیا ہے، مطالبہ منظور نہ ہوا تو اسلام آباد مارچ ہوگا۔
پشاور میں وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے عنایت اللہ خان نے صوبے کی صورتِ حال، امن و امان، ملکی صورتِ حال، جے آئی دھرنے سمیت نئے صوبوں کے موضوع پر کھل کر بات کی۔
’حکومت پیٹرولیم لیوی کم کر سکتی ہے‘
جماعت اسلامی کے رہنما نے بتایا کہ جماعت اسلامی کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف دھرنا اور احتجاج جاری ہے اور مختلف شہروں میں احتجاج ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ مہنگائی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے لیے حکومت کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور حکومتی وفد کے ساتھ باقاعدہ ملاقات بھی ہوئی ہے، جس میں جماعت اسلامی نے اپنی تجویز اور مطالبہ تحریری صورت میں حکومتی وفد کے حوالے کر دیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ حکومتی وفد نے بھی اقرار کیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہونی چاہییں۔ ’وہ چاہتے ہیں کہ قیمتیں کم ہوں اور عوام کو ریلیف دیں، لیکن کس طرح دیں، وہ فیصلہ نہیں کر پا رہے۔‘
انہوں نے کہاکہ حکومت اس وقت عوام سے پیٹرولیم مصنوعات پر براہِ راست لیوی لے رہی ہے، جسے ختم کرنا چاہیے۔ ’ہم نے طریقہ کار بھی بتا دیا ہے کہ کس طرح ریونیو بڑھایا جائے اور براہِ راست ٹیکس کو ختم کیا جائے۔‘
عنایت اللہ نے بتایا کہ اب گیند حکومتی کورٹ میں ہے اور لیوی کا خاتمہ جماعت اسلامی کا عوامی مطالبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی ٹیم نے بھی معاملے کو سنجیدگی سے لے لیا ہے۔
’عوام کو ریلیف نہ ملا تو حکومت گراؤ تحریک شروع ہوگی‘
عنایت اللہ نے بتایا کہ جماعت اسلامی کسی سیاسی بنیاد پر نہیں بلکہ عوام کے لیے سڑکوں پر ہے اور عوام کو ریلیف دلانے کے لیے احتجاج کر رہی ہے۔
انہوں نے کہاکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئی ہیں، جس سے مہنگائی بھی بہت زیادہ ہو گئی ہے اور غریب طبقے کا جینا محال ہو گیا ہے۔
’ہمارا واحد مقصد عوام کو ریلیف پہنچانا ہے۔ حکومت عوام کو ریلیف دے، ہم آج ہی دھرنا اور احتجاج ختم کر دیں گے۔‘
عنایت اللہ نے کہاکہ ابھی تک دھرنا مکمل طور پر ختم کرنے کا اعلان نہیں کیا گیا اور احتجاج جاری ہے۔ مطالبہ منظور نہ ہونے کی صورت میں احتجاج کا دائرہ وسیع ہوگا اور اس کا رخ اسلام آباد کی جانب ہوگا۔ ’امیر جماعت نے ٹرین مارچ، اسلام آباد دھرنے اور مارچ کا بھی عندیہ دیا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ عوام کو ریلیف نہ ملنے کی صورت میں حکومت گراؤ تحریک بھی شروع ہوگی اور تمام صوبوں سے اسلام آباد کا رخ کریں گے۔ ’ہم خاموش بیٹھنے والے نہیں ہیں۔ عوام کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔‘
’پی ٹی آئی اور ہمارے احتجاج میں فرق ہے‘
عنایت اللہ خان نے کہاکہ پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کے احتجاج اور دھرنوں میں فرق ہے۔ ’ہمارے احتجاج صرف عوام اور عوامی ریلیف کے لیے ہوتے ہیں، جبکہ پی ٹی آئی صرف ایک شخص کے لیے احتجاج کر رہی ہے۔‘
انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کی توجہ صرف احتجاج پر ہے اور وہ بھی صرف عمران خان کی رہائی تک محدود ہے۔ عوامی ریلیف کے لیے احتجاج اور ایک شخص کے لیے احتجاج میں فرق ہے۔
انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومت عوامی مسائل پر توجہ نہیں دے رہی اور صوبے کے وزیراعلیٰ سندھ میں عمران خان کے لیے احتجاج میں مصروف ہیں۔
’20 لاکھ چھوڑیں، ایک لاکھ لوگ بھی آگئے تو پی ٹی آئی کو ریلیف ملے گا‘
عنایت اللہ خان نے پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے مارچ پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہاکہ احتجاج آئینی حق ہے، لیکن پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے معاملے پر سنجیدہ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی 27 ستمبر کو 20 لاکھ افراد اسلام آباد لانے کا دعویٰ کر رہی ہے، جو ممکن نظر نہیں آتا۔
’میں کہتا ہوں پی ٹی آئی صرف ایک لاکھ لوگ نکالے اور اسلام آباد پہنچے تو عمران خان خودبخود رہا ہو جائیں گے۔‘
انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی دعوے کر رہی ہے، لیکن لوگ نہیں نکل رہے اور ورکرز کا اعتماد نہیں رہا۔
’پی ٹی آئی میں کرپشن کے بارے میں اپنے لوگ ہی تنگ ہیں‘
عنایت اللہ خان نے کہاکہ اس وقت تیسری بار پی ٹی آئی کی حکومت ہے اور اگر دیکھا جائے تو پرویز خٹک کی حکومت کو چھوڑ کر باقی ادوار میں ایک دوسرے پر خود کرپشن کے الزامات لگا رہے ہیں۔
’پی ٹی آئی میں ہر بندہ دوسرے پر کرپشن کے الزامات لگا رہا ہے۔ کرپشن پر یہ خود ایک دوسرے کو ایکسپوز کر رہے ہیں، اپوزیشن کی ضرورت نہیں ہے۔‘
انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی نے کام نہیں کیا اور نہ ہی عوامی مسائل پر توجہ ہے۔ 2018 میں جماعت اسلامی کو ہرا کر پی ٹی آئی کو کامیاب کیا گیا۔ تیسری بار صوبے میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے، لیکن عوامی مسائل پر توجہ نہیں دی جا رہی۔
انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی والے کھلم کھلا کہہ رہے ہیں کہ انہیں ووٹ عوامی مسائل کے حل کے لیے نہیں بلکہ عمران خان کے لیے ملا ہے اور عوامی مسائل کے لیے کام کرنا ان کی ترجیح نہیں ہے۔
’صوبے بنانے کے لیے آئینی طریقہ کار موجود ہے‘
عنایت اللہ خان نے نئے صوبے بنانے کے حوالے سے گردش کرتی خبروں پر بھی بات کی اور کہاکہ صوبے کسی ایک فرد کی خواہش پر نہیں بنائے جا سکتے، بلکہ اس کے لیے آئینی طریقہ کار موجود ہے۔
انہوں نے کہاکہ موجودہ حالات اور طرزِ حکمرانی میں نئے صوبے بنانے سے انتظامی امور میں کیا بہتری آئے گی، یہ اہم سوال ہے۔
انہوں نے کہاکہ بہتر انتظامی امور کے لیے نئے صوبے اہم ہو سکتے ہیں، لیکن اس کے لیے آئینی طریقہ کار موجود ہے اور اسی طریقہ کار کے مطابق چلنا چاہیے۔
انہوں نے موجودہ سیٹ اپ کے بارے میں بتایا کہ جن لوگوں نے اس سیٹ اپ کو بنایا ہے، وہی اس کے ذمہ دار ہیں۔ جب تک وہ چاہیں گے، سیٹ اپ چلے گا اور جب وہ نہیں چاہیں گے تو یہ سیٹ اپ ایک دن بھی نہیں چل سکے گا۔













