میچ ہارنے اور ہمت ہارنے والوں کا فرق

بدھ 9 ستمبر 2026
author image

محمود الحسن

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

1952ء میں ٹیسٹ اسٹیٹس ملنے کے بعد سے اب تک پاکستان کے 18 کرکٹروں کو وزڈن کرکٹر آف دی ایئر قرار دیا گیا ہے۔

اس فہرست میں پہلا نام اوول کے ہیرو فضل محمود کا ہے جنہیں 1955ء میں یہ توقیر ملی تھی۔ اس اعزاز سے سرفراز ہونے والے آخری پاکستانی کھلاڑی محمد رضوان تھے جن کو 2021ء میں یہ منزلت حاصل ہوئی۔

نیرنگی زمانہ ہے کہ اب خراب کارکردگی کے باعث انہی محمد رضوان کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ نے انگلینڈ کی زمین تنگ کر کے سیریز کے دوران ان سے گلوخلاصی حاصل کر لی ہے۔

محمد رضوان اور دیگر کھلاڑیوں اور کوچز کے خلاف سیریز کے بعد ایکشن لیا جاتا تو پاکستان دنیا بھر میں ہونے والی سبکی اور جگ ہنسائی سے بچ سکتا تھا لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی اور ان کے معتمدِ خاص اور ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس عاقب جاوید کی پالیسیوں کی وجہ سے ہم میدان میں اور میدان سے باہر خجالت کا نشان بن چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایوارڈز کی تہمت سے پاک ادیب: الطاف فاطمہ اور محمد سلیم الرحمان

بیچ سیریز اس تماشے سے ہم دنیا بھر میں تماشا بن گئے ہیں۔ کرکٹ بورڈ کے بھونڈے پن کو دیکھ کر پاکستانی کھلاڑیوں پر برسنے والے سابق کرکٹروں کو اب الٹا ان سے ہم دردی ہو رہی ہے۔ خرابی کی جڑ کہاں ہے، یہ بات سب پر عیاں ہو چکی ہے۔

خیر یہ جملہ معترضہ تھا، بات وزڈن کی ہو رہی تھی جس کی قدیمی روایت کے مطابق ہر سال انگلینڈ میں ٹیسٹ اور ڈومیسٹک کرکٹ میں بہترین کھیل پیش کرنے والے 5 کھلاڑی چنے جاتے ہیں۔ اس میں مکرر کی گنجائش نہیں ہوتی، کھلاڑی کا انتخاب ایک بار ہوتا ہے۔

وزڈن کی تاریخ میں 3 دفعہ یہ واقعہ گزرا ہے کہ ایک سال میں 2 پاکستانی کھلاڑی وزڈن کرکٹر آف دی ایئر ٹھہرائے گئے۔

اس سلسلے کی آخری مثال 2017ء میں یونس خان اور مصباح الحق کی صورت میں سامنے آئی تھی۔ اس سے پہلے 1997ء میں سعید انور اور مشتاق احمد اس کے مستحق گردانے گئے تھے۔ اس سلسلے کی پہلی کڑی حنیف محمد اور آصف اقبال تھے جنہیں 1968ء میں وزڈن کرکٹر آف دی ایئر قرار دیا گیا تھا۔ تینوں مواقع پر ٹیسٹ سیریز میں پاکستان ٹیم کے لیے مختلف نتیجہ برآمد ہوا۔

مصباح اور یونس کا انتخاب 2016ء کی ٹیسٹ سیریز میں عمدہ کھیل کی بنیاد پر ہوا تھا۔ اوول ٹیسٹ میں یونس خان نے ڈبل سنچری بنا کر پاکستان کی 10 وکٹوں سے فتح میں اہم کردار ادا کیا تھا جس کی وجہ سے پاکستان 4 ٹیسٹ میچوں کی سیریز 2،2 سے برابر کرنے میں کام یاب رہا۔ کپتان مصباح الحق مین آف دی سیریز تھے۔

سعید انور اور مشتاق احمد اس پاکستانی ٹیم کا حصہ تھے جس نے 1996ء میں وسیم اکرم کی کپتانی میں انگلینڈ کو ٹیسٹ سیریز 2 صفر سے ہرائی تھی۔ 3 میچوں کی اس سیریز کے لارڈز میں ہونے والے پہلے ٹیسٹ میں سعید انور نے ایک اننگز میں 74 اور دوسری میں 88 رنز بنائے تھے جس پر وزڈن نے انہیں پاکستان کی جدید بلے بازی میں بے باکی کی علامت قرار دیا تھا۔

اوول میں آخری ٹیسٹ میں سعید انور نے 176 رنز کیے۔ اسے وزڈن نے سیزن کی خوب صورت ترین اننگز قرار دیا۔ مشتاق احمد پلیئر آف دی میچ اور پلیئر آف دی سیریز قرار پائے تھے۔ اسے کہتے ہیں کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت!

حنیف محمد اور آصف اقبال 1967ء میں 2 صفر سے سیریز ہارنے والی ٹیم کا حصہ تھے لیکن دونوں کی ایک ایک اننگز ایسی شان دار تھی جو وزڈن کے انتخابِ زریں میں شمولیت کی بنیاد بنی۔

حنیف محمد نے لارڈز میں قابلِ ستائش اننگز کھیلی جبکہ اوول میں آصف اقبال نے تاریخ رقم کی تھی۔

مزید پڑھیے: ‘میں واپس آؤں گا’ سے تازہ ہونے والے دکھ

ان دو اننگز کا تذکرہ کرنا اس لیے ضروری محسوس ہوا کہ ہم یہ جان سکیں کہ ٹیسٹ میں حریف ٹیم آپ پر حاوی ہو سکتی ہے، کسی مرحلے پر اس کی جیت کا غالب امکان بھی پیدا ہو جاتا ہے لیکن آپ اس کی کامیابی کے راہ میں مزاحم ہوتے ہیں، اسے جیت کے لیے ترساتے ہیں، انتظار کرواتے ہیں، مدمقابل کا غرور آپ کو کچھ کر دکھانے پر اکساتا ہے، تضحیک جوشِ عمل پر ابھارتی ہے اور ایسا کھیل پیش کرتے ہیں کہ بہت دیر یاد رہتا ہے۔ کتابوں میں اس کا تذکرہ ہوتا ہے، یادداشت میں وہ محفوظ رہتا ہے۔

حنیف محمد اور آصف اقبال نے اسی طرح کی اننگز کھیلی تھی لیکن ان کے مقابلے میں انگلینڈ کے خلاف ان دنوں جاری ٹیسٹ سیریز کے پہلے 2 ٹیسٹ میچوں میں پاکستانی بلے باز اپنے بڑوں کی اس روایت پر عمل کرنے میں بری طرح ناکام ہوئے ہیں۔ ان پر اپنوں اور غیروں نے تنقید کی، ان کا ٹھٹھا اڑایا، تحقیر کی، جملے کسے لیکن ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ انہوں نے اہانت کو دل پر لے کر اچھی کارکردگی دکھانے کو انا کا مسئلہ نہیں بنایا اور بے ڈھنگی چال چل کر ٹھوکر کھائی، استقامت اور مزاحمت کے لفظوں سے ان کی ڈکشنری خالی تھی۔ لے دے کر صرف سعود شکیل نے لارڈز میں 97 رنز بنا کر اپنے ہونے کا پتا دیا لیکن حنیف محمد اور آصف اقبال کی اننگز  کے یہ پاسنگ  نہیں تھی جس کا کچھ اندازہ آپ کو اس زیرِ نظر تحریر سے ہو سکے گا۔

1968ء کے وزڈن کی میچ رپورٹ اور ان دونوں کھلاڑیوں کے بارے میں مضامین میں ان کے شاندار کھیل کا تذکرہ ہے۔ حنیف محمد کے بارے میں تحریر کا آغاز اسی اننگز کے حوالے سے ہوتا ہے اور اس پر قدرے تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔

حنیف محمد 9 گھنٹے اور 2 منٹ وکٹ پر کھڑے رہے، کوئی باؤلر انہیں زیر نہ کر سکا۔ 354 کے مجموعی اسکور میں ان کا حصہ 187 رنز تھا۔ یہ بلے بازی ہی نہیں، کپتان کے طور پر بھی ایک مثالی اننگز تھی۔ مشکل حالات اور کرکٹ کے مرکز لارڈز کی وجہ سے یہ اور بھی اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔

انگلینڈ کے 369 رنز کے جواب میں پاکستان کے 99 پر 6 کھلاڑی آؤٹ ہو گئے تھے۔  میچ کے دوسرے دن 4 بج کر 40 منٹ پر ان کا کٹھن سفر شروع ہوا جو چوتھے دن چائے کے وقفے سے کچھ ہی دیر پہلے آخری ساتھی کے ساتھ چھوڑ جانے پر اختتام پذیر ہوا تھا۔

اس اننگز میں آصف اقبال نے ان کا جم کر ساتھ دیا اور  76 رنز بنائے۔ انگلینڈ کو صرف 15 رنز کی برتری حاصل ہوئی جبکہ ایک وقت میں تو یہ لگ رہا تھا کہ وہ بہت زیادہ رنز کی سبقت حاصل کر لے گا۔

ماجد خان اس میچ میں پاکستان ٹیم کا حصہ تھے، انہوں نے مجھے ایک ملاقات میں بتایا کہ حنیف محمد کے اعتماد کا یہ عالم تھا کہ وہ دوسرے دن کھیل کے اختتام پر 28 رنز پر ناٹ آؤٹ پویلین لوٹے تو پیڈ اتارتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انگلینڈ کے باؤلر انہیں اس وکٹ پر آؤٹ نہیں کر سکتے اور پھر دنیا نے دیکھا کہ وہ 187 رنز بنا کر ناقابلِ شکست رہے۔  آج پاکستان کے بلے بازوں میں ایسا اعتماد اور عزم کی پختگی نہیں ہے۔ میدان میں اترتے ہیں تو ان کے مایوس چہرے دیکھتے ہی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ وکٹ پر کوئی دم کے مہمان ہیں۔

حنیف محمد اور آصف اقبال نے 8ویں وکٹ کی شراکت میں 130 رنز جوڑے تھے۔ اس کے بعد حنیف محمد نے پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے وسیم باری اور سلیم الطاف کے ساتھ مل کر 85 رنز بٹورے۔ وسیم باری نے 13 اور سلیم الطاف نے 2 رنز بنائے تھے۔ اس سے آخری نمبر کے بلے بازوں کے ساتھ کھیلنے میں ان کی مہارتِ تامہ کا اندازہ کر سکتے ہیں۔

حنیف محمد نے اپنی سوانح ‘پلیئنگ فار پاکستان’ میں بتایا ہے کہ ایک اخبار میں اس عنوان کی سرخی جمائی گئی کہ ‘پولیس ہی حنیف محمد کو ہٹا سکتی ہے’ اور اس کے ساتھ کارٹون میں 2 پولیس والے انہیں میدان سے باہر لے جاتے دکھائے گئے تھے۔

کرکٹ کے معروف لکھاری پیٹر اوبورن نے Wounded Tiger: A History Of Cricket In Pakistan میں حنیف محمد اور آصف اقبال کے کھیل کی بڑی تعریف کی ہے۔ ان کے خیال میں یہ شراکت پاکستان کے ماضی اور مستقبل کا ملاپ اور ماہرانہ دفاع اور شاندار اسٹروکس کا امتزاج تھی۔

حنیف محمد کی کتاب میں ایک تصویر شامل ہے جس میں چائے کے وقفے پر وہ اور آصف اقبال میدان سے باہر آ رہے ہیں اور ان کے پیچھے انگلینڈ کے کھلاڑی تالیاں بجاتے دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہ ہوتی ہے بڑائی جس کا حریف بھی سرِعام اور برملا اعتراف کریں۔

ماجد خان حنیف محمد کی اننگز کو سراہتے ہیں لیکن وہ ان کی دفاعی کپتانی پر تنقید کرتے ہیں کیوں کہ ان کے خیال میں اگر پاکستان جارحانہ طرزِ عمل اختیار کرتا تو میچ کا فیصلہ اس کے حق میں آ سکتا تھا۔

میچ کے نتیجہ خیز نہ ہونے میں بارش کا بھی کردار تھا لیکن پاکستانی کپتان کی دفاعی سوچ اپنی جگہ موجود تھی۔ پاکستان کو 210 منٹ میں جیت کے لیے 257 رنز کا تعاقب کرنا تھا لیکن اس نے 3 وکٹوں کے نقصان پر 62 اوورز میں 1.41 کے رن ریٹ سے محض 88 رنز بنائے۔ خالد عباداللہ نے 155 گیندوں پر 32 جبکہ جاوید برکی نے 13 رنز کے لیے 59 اور مشتاق محمد نے 30 رنز کے لیے 100 گیندیں صرف کیں۔ پاکستان ٹیم کی منفی سوچ کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ انگلینڈ کے اسپنر رے النگورتھ کے 15 میں سے 11 اوور میڈن تھے، باقی 4 میں انہوں نے 10 رنز دیے۔

وزڈن نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ وکٹ آخری اننگز کے وقت اچھی حالت میں تھی لیکن پاکستان نے میچ ڈرا کرنے کو ترجیح دی اور اس قسم کی کرکٹ کی وجہ سے انگلینڈ میں فرسٹ کلاس میچ میں تماشائیوں کی تعداد میں خطرناک حد تک کمی آئی ہے ۔

اب لارڈز سے اوول چلتے ہیں جہاں آصف اقبال نے تاریخی اننگز کھیلی تھی۔

224 رنز کے خسارے کے ساتھ پاکستان نے دوسری اننگز شروع کی تو 53 پر پاکستان کے 7 کھلاڑی پویلین لوٹ چکے تھے۔ اس اثنا میں آصف اقبال نے لاؤڈ اسپیکر پر یہ اعلان سنا کہ میچ کے وقت سے بہت پہلے ختم ہونے کی وجہ سے تماشائیوں کی تفریحِ طبع کے لیے چالیس اوورز کا نمائشی میچ کھیلا جائے گا، یہ بات آصف اقبال کو بری لگی اور انہیں محسوس ہوا کہ ان کی ٹیم کی توہین کی گئی ہے، انہوں نے ارادہ کر لیا کہ ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔ اس منصوبے میں انتخاب عالم کو بھی شریک کر لیا جن کی بائیں آنکھ پپوٹے پر دانے کی وجہ سے کھل نہیں رہی تھی لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور 51 رنز بنا کر  آصف اقبال کا بھرپور ساتھ دیا جن کے شاندار کھیل نے سب کا دل موہ لیا تھا۔ 146 رنز کی اننگز کھیل کر نویں نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے سب سے زیادہ رنز کا عالمی  ریکارڈ قائم کیا اور 9ویں وکٹ کی شراکت میں انتخاب عالم کے ساتھ 190 رنز جوڑ کر عالمی ریکارڈ کے حصے دار بنے۔ یہ ٹیسٹ کرکٹ میں آصف اقبال کی پہلی سینچری تھی۔

حنیف محمد نے لکھا ہے کہ 224 رنز کے خسارے کے ساتھ دوسری اننگز شروع کرنے کے بعد جب 65 پر 8 کھلاڑی آؤٹ ہوئے تو ہماری حیثیت ایک کلب کی سطح کی ٹیم کی رہ گئی تھی لیکن پھر آصف اور انتخاب عالم نے ورلڈ ریکارڈ بنایا جسے 1998 میں جنوبی افریقہ کے  پیٹ سمکوکس اور مارک باؤچر نے پاکستان کے خلاف توڑا تھا۔

انگلینڈ کے کپتان برائن کلوز نے آصف اقبال کے کھیل کی تعریف کی۔ کولن کاؤڈرے نے اسے ان بہترین اننگز میں سے ایک قرار دیا جو انہوں نے دیکھی تھیں، اس کے بعد آصف اقبال کے لیے کینٹ کاؤنٹی کا دروازہ کھل گیا۔

آصف اقبال کی اس ان تھک کوشش سے انگریزی کے ایک مقولے کا خیال آتا ہے:

Lost Causes Are The Only Ones Worth Fighting For

 اس اننگز کا ایک پہلو جسے اجاگر کرنا آج کے تھکے ہارے اور فٹنس کے مسائل سے دوچار کرکٹروں کے لیے بتانا ضروری ہے۔ وہ یہ ہے کہ 146 رنز بنانے سے پہلے آصف اقبال نے  42 اوورز میں 3 اہم کھلاڑی آؤٹ کیے تھے، اس  اننگز کے بعد  انگلینڈ کے 32 رنز بنا کر میدان مارنے سے پہلے انہوں نے دونوں اوپنروں کو آؤٹ کر دیا تھا۔

مزید پڑھیں: انکار کا اعزاز

پیٹر اوبورن نے لکھا ہے کہ پاکستان یہ ٹیسٹ میچ ہار گیا لیکن اپنے پیچھے فرحت اور دلیرانہ مدافعت کی مہک چھوڑ گیا ۔

حال کی بات کریں تو انگلینڈ میں پاکستان ٹیسٹ سیریز ہار چکا ہے، ہر طرف اس کی شکست  کے چرچے ہیں۔ سوال تو یہ ہے کہ ناکامیوں کے اس موسم میں کیا ہمارے بلے باز حنیف محمد اور آصف اقبال کے نقشِ قدم پر چل کر مایوسی کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں امید کا دیا جلا سکتے ہیں جس کے مثبت اثرات آنے والے دنوں میں پاکستان کرکٹ پر مرتب ہوں؟ اس سوال کا جواب آج سے ایجبسٹن میں شروع ہونے والے آخری ٹیسٹ میں سامنے آ جائے گا۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گزشتہ دو دہائیوں سے مختلف قومی اور بین الاقوامی میڈیا اداروں سے وابستہ ہیں۔ کتابوں میں 'شرفِ ہم کلامی 2017'، 'لاہور شہر پُرکمال 2020'، 'گزری ہوئی دنیا سے 2022' اور 'شمس الرحمٰن فاروقی ,جس کی تھی بات بات میں اک بات' شائع ہو چکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp