پاکستان کے سینیئر اسپورٹس جرنلسٹ مرزا اقبال بیگ نے کہا ہے کہ انگلینڈ کے خلاف مسلسل شکستوں اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے غیر معمولی فیصلوں کے بعد قومی ٹیم میں خوف اور بے یقینی کی فضا پیدا ہو چکی ہے، جبکہ کپتان بابر اعظم کا مستقبل بھی خطرے میں نظر آ رہا ہے۔
وی نیوز ایکفسکلوسیو کو دیے گئے انٹرویو میں مرزا اقبال بیگ نے کہا کہ بابر اعظم کی جانب سے ٹیم میں ہونے والی تبدیلیوں سے لاتعلقی کا اظہار ایک اہم پیشرفت ہے۔ ان کے مطابق بابر اعظم نے پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ 7 کھلاڑیوں کو واپس بھیجنے اور نئے کھلاڑیوں کو بلانے کے فیصلوں میں ان کی مرضی شامل نہیں تھی۔
انہوں نے کہا کہ جب کسی ٹیم کا کپتان یہ کہے کہ اسکواڈ میں ہونے والی بڑی تبدیلیاں اس کی مشاورت کے بغیر ہوئیں تو اس سے ٹیم مینجمنٹ اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے اندر اختلافات کا تاثر مضبوط ہوتا ہے۔
بابر اعظم کے لیے تیسرا ٹیسٹ فیصلہ کن؟
مرزا اقبال بیگ کے مطابق اگر بابر اعظم تیسرے ٹیسٹ میں بڑا اسکور کرنے میں ناکام رہے تو کپتان کی حیثیت سے ان کا مستقبل مزید غیر یقینی ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بظاہر یہی لگ رہا ہے کہ اگر بابر اعظم نے کوئی سنچری یا بڑا اسکور نہیں کیا تو بطور کپتان یہ ان کا آخری ٹیسٹ میچ نظر آ رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بابر اعظم اور عاقب جاوید کے درمیان کافی عرصے سے اختلافات کی اطلاعات موجود رہی ہیں اور موجودہ صورتحال میں ٹیم کی خراب کارکردگی بابر اعظم کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔
مرزا اقبال بیگ نے عاقب جاوید کے کردار پر بھی سخت تنقید کی اور کہا کہ پاکستان کرکٹ کے اہم فیصلوں میں ان کا اثر و رسوخ بہت بڑھ چکا ہے۔
ان کے مطابق انگلینڈ کے خلاف 2024 کی ہوم سیریز کے دوران ملتان ٹیسٹ کے بعد ٹرننگ پچز تیار کرنے کی حکمت عملی کامیاب ہوئی، جس کے بعد عاقب جاوید کو بورڈ چیئرمین کا اعتماد حاصل ہوا۔
7 کھلاڑیوں اور کوچز کو ہٹانے پر سوال
مرزا اقبال بیگ نے دورے کے دوران 7 کھلاڑیوں، ہیڈ کوچ اور بولنگ کوچ کو تبدیل کرنے کے فیصلے کو شکست سے بھی زیادہ تشویشناک قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنے ٹیسٹ کرکٹ کے طویل سفر میں کئی بڑی شکستیں دیکھی ہیں، لیکن کسی جاری سیریز کے دوران اتنے بڑے پیمانے پر کھلاڑیوں اور کوچنگ اسٹاف میں تبدیلی کی مثال کم ہی ملتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹیمیں تو ہارتی ہیں، 3 صفر بھی ہاری ہیں، سیریز 5 صفر بھی ہاری ہیں، لیکن اس سے بڑی شرمناک بات کوئی اور نہیں ہو سکتی تھی۔
مرزا اقبال بیگ نے جون 2024 میں چیئرمین پی سی بی کی جانب سے کرکٹ میں ’سرجری‘ کے اعلان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے عملی نتائج طویل عرصے تک دکھائی نہیں دیے۔ ان کے بقول موجودہ تبدیلیوں کو اگر سرجری کہا بھی جائے تو ان کی ٹائمنگ انتہائی نامناسب ہے۔
انہوں نے پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ میں گرتی ہوئی پوزیشن پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ قومی ٹیم کی مسلسل خراب کارکردگی نے شائقین کو مایوس کیا ہے۔
کھلاڑیوں پر خوف کا سایہ
مرزا اقبال بیگ نے دعویٰ کیا کہ موجودہ اسکواڈ کے کھلاڑی ذہنی دباؤ اور خوف کا شکار ہیں کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ کسی بھی وقت ٹیم سے باہر کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے مبینہ تحقیقات کی اطلاعات نے بھی کھلاڑیوں میں بے چینی بڑھائی ہے۔
مرزا اقبال بیگ کے مطابق محمد رضوان اور امام الحق کے موبائل فونز سے متعلق بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ ان کا ڈیٹا چیک کیا گیا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ان اطلاعات کی نوعیت مبینہ ہے اور انہیں کسی ثابت شدہ کرپشن یا فکسنگ کیس سے جوڑنا درست نہیں ہوگا جب تک باضابطہ تفصیلات سامنے نہ آئیں۔
انہوں نے کہا کہ انگلش اور بھارتی میڈیا ان معاملات کو نمایاں طور پر رپورٹ کر رہا ہے، جس سے پاکستان کرکٹ کے گرد تنازعات مزید بڑھ رہے ہیں۔
نئے کھلاڑیوں کے حوالے سے مرزا اقبال بیگ نے رضا اللہ کو ایک تیز رفتار بولر قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ تقریباً 145 سے 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بولنگ کر رہے ہیں اور عاقب جاوید سمیت ٹیم مینجمنٹ ان سے متاثر دکھائی دیتی ہے۔
انہوں نے عرفات منہاس، غازی غوری، عمران رندھاوا اور محمد عمران جونیئر کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ٹیم مینجمنٹ نوجوان کھلاڑیوں کو آزمانے کی طرف بڑھ رہی ہے۔
صائم ایوب کو مستقبل میں کپتانی کے ممکنہ امیدوار کے طور پر دیکھے جانے سے متعلق سوال پر مرزا اقبال بیگ نے کہا کہ پی سی بی نوجوان آپشنز پر غور کر سکتا ہے، تاہم صائم ایوب کو پہلے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی کارکردگی مزید بہتر کرنا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو تیسرے ٹیسٹ میں بہتر کارکردگی دکھانے کی امید ضرور رکھنی چاہیے کیونکہ قومی ٹیم ہمیشہ سے غیر متوقع نتائج دینے کے لیے مشہور رہی ہے، لیکن موجودہ حالات میں بہت زیادہ توقعات وابستہ کرنا مناسب نہیں ہوگا۔













