بلوچستان اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے سینڈمن پراونشل اسپتال کوئٹہ کے اربوں روپے کے اخراجات کا حساب نہ ملنے اور کروڑوں روپے کی ادویات غائب ہونے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے محکمہ صحت کو 15 روز کا الٹی میٹم دے دیا ہے۔
چیئرمین کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ اگر مقررہ وقت میں مکمل ریکارڈ فراہم نہ کیا گیا تو کرپشن کا یہ معاملہ قومی احتساب بیورو (نیب) کو بھجوا کر ایف آئی آر درج کرائی جائے گی۔
اربوں روپے کے بجٹ کا مصرف اور جوابدہی کا فقدان
بلوچستان صوبائی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کا اہم اجلاس چیئرمین اصغر علی ترین کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں سینڈمن پراونشل اسپتال کوئٹہ کے مالی سال 32-2022کے اسپیشل آڈٹ پیراز کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے پی آئی اے کے 650 ارب روپے کے قرض کو ’بلیک ہول‘ قرار دیدیا
اجلاس میں انکشاف ہوا کہ سال 18-2017 سے 22-2021 کے دوران اسپتال کو ملنے والے 10,443 ملین روپے کے بجٹ میں سے 9,576 ملین روپے خرچ کیے گئے، تاہم محکمہ صحت اور اسپتال انتظامیہ ان خطیر رقوم کا حساب دینے سے مسلسل گریزاں ہے۔
اجلاس میں ارکان اسمبلی فضل قادر مندوخیل، محمد خان لہڑی، صفیہ فضل، رحمت صالح بلوچ اور ولی محمد نورزئی سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے محکمہ صحت پی اے سی کو کوئی اہمیت نہیں دے رہا اور صرف زبانی جمع خرچ سے کام چلایا جا رہا ہے۔ انہوں نے محکمے کے اس رویے کو آئینی اور قانونی اختیارات کی توہین قرار دیا۔
ادویات کی غیر قانونی خریداری کا 30.016 ملین کا فراڈ
اجلاس میں 30.016 ملین روپے مالیت کی ادویات کی غیر قانونی خریداری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا۔ آڈٹ حکام کے مطابق ادویات کی سپلائی کا آرڈر پشاور کی ایک فرم کے نام جاری کیا گیا جبکہ ادائیگی کوئٹہ کی ایک اور کمپنی کو کی گئی۔
حیران کن طور پر اسپتال کے ریکارڈ میں نہ تو ان ادویات کا اسٹاک رجسٹر موجود ہے، نہ ہی ڈلیوری چالان اور انسپیکشن رپورٹس کی کاپیاں دستیاب ہیں۔
مزید پڑھیں:’ہر بار دوائیاں باہر سے لانا پڑتی ہیں‘، سول اسپتال کوئٹہ میں عوام ادویات سے محروم کیوں؟
محکمے نے ڈی اے سی اجلاس میں جواز پیش کیا تھا کہ کوئٹہ کی کمپنی اصل مینوفیکچرر کی مجاز ڈسٹری بیوٹر تھی، تاہم آڈٹ کو اس دعوے کی تصدیق کے لیے کوئی دستاویزی ثبوت، بیج نمبرز یا ادویات کی کھیپ کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
مرکزی اسٹور سے 22.825 ملین روپے کی سرکاری ادویات غائب
خصوصی آڈٹ رپورٹ میں ایک اور سنگین بے ضابطگی سامنے آئی کہ مالی سال 20-2019 کے دوران سینڈمن اسپتال کے مرکزی اسٹور سے 22.825 ملین روپے کی ادویات غائب ہو گئیں۔
فارماسسٹ انچارج کی نشاندہی کے باوجود انتظامیہ نے اس پر خاموشی اختیار کیے رکھی۔ دورانِ اجلاس یہ بھی انکشاف ہوا کہ اسٹاک رجسٹر میں ردوبدل کیا گیا اور ابتدائی و اختتامی بیلنس میں واضح تضادات پائے گئے۔
حد تو یہ ہے کہ کرپشن کے الزام میں معطل کیے گئے بعض اہلکار اب بھی دفتر میں حاضری لگا رہے ہیں، جو اسپتال انتظامیہ کی مکمل ناکامی کا ثبوت ہے۔
محکمہ صحت کی کارکردگی صرف ٹک ٹاک تک محدود ہے
کمیٹی اراکین نے بتایا کہ اس ایک آڈٹ پیرا پر یہ چوتھا اجلاس ہے۔ ستمبر 2025 میں بھی محکمے کو مہلت دی گئی تھی لیکن تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں:بلوچستان اسمبلی نے سرکاری آسامیوں میں خواتین کا کوٹہ 5 فیصد سے بڑھا کر 33 فیصد کرنے کی قرارداد منظور کرلی
چیئرمین اصغر علی ترین نے محکمہ صحت کی کارکردگی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اربوں روپے کے بجٹ کے باوجود عوام کو ریلیف نہیں مل رہا، اور محکمہ صرف ‘سوشل میڈیا اور ٹک ٹاک’ پر متحرک نظر آتا ہے۔
انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں وارننگ دی کہ اگر 15 روز کے اندر دونوں آڈٹ پیراز کا مکمل ریکارڈ، ڈلیوری چالان، انسپیکشن رپورٹس اور تسلی بخش وضاحت پیش نہ کی گئی تو اجلاس کی کارروائی چیف سیکریٹری بلوچستان اور صوبائی اسمبلی کو ارسال کی جائے گی اور ملوث افراد کے خلاف نیب میں ریفرنس اور مقدمات درج کرانے کی سفارش کی جائے گی۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا وقت مزید ضائع نہیں ہونے دیا جائے گا۔














