2 کروڑ سے زیادہ پاکستانی بچے اسکول سے باہر، ماہرین نے قابل عمل حل پیش کردیے

بدھ 9 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان میں اسکول سے باہر بچوں کی تعداد تقریباً 2 کروڑ 11 لاکھ ہے جو اس امر کی فوری متقاضی ہے کہ تعلیم کو قومی ترجیح بنایا جائے اور تمام بچوں کو تعلیم تک رسائی یقینی بنانے کی ریاستی آئینی ذمہ داری پوری کی جائے۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے مسلسل پالیسی توجہ درکار ہے تاکہ بچوں کو تعلیمی نظام کا حصہ بنایا جا سکے اور آئینی عزم کو مؤثر عملی اقدامات میں تبدیل کیا جا سکے۔

مزید پڑھیں: بلوچستان میں کتنے بچے اسکولوں سے باہر ہیں اور انہیں تعلیمی اداروں میں واپس کیسے لایا جاسکتا ہے؟

یہ بات انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (آئی پی ایس)، اسلام آباد میں عالمی یوم خواندگی کے موقعے پر منعقدہ ایک نشست میں کہی گئی جو آئی پی ایس کی تعلیم اور انسانی ترقی سے متعلق کاوشوں کا حصہ تھی اور جس میں اسکول سے باہر بچوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور انہیں تعلیم تک رسائی فراہم کرنے کی ریاستی ذمہ داری پر خصوصی تشویش کا اظہار کیا گیا۔

قابل اعتماد شماریاتی ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 2 کروڑ 11 لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں جو ایک انتہائی تشویش ناک صورت حال ہے۔ یہ تخمینہ ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے کے اعداد و شمار اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار پاپولیشن اسٹڈیز کے آبادی سے متعلق تخمینی اعداد و شمار کی بنیاد پر اخذ کیا گیا ہے۔ اس چیلنج کی وسعت ملک کے آئینی وعدوں اور لاکھوں بچوں کو درپیش تعلیمی حقائق کے درمیان موجود نمایاں خلا کو واضح کرتی ہے۔

نشست میں آئین پاکستان کے آرٹیکل25 اے کو بنیادی حوالہ بنایا گیا جس کے تحت پانچ سے 16 سال کی عمر کے بچوں کے لیے مفت اور لازمی تعلیم ریاست کی ذمہ داری ہے۔ آئین کی یہ شق تعلیم کو محض ترقیاتی ہدف نہیں بلکہ ایسی ذمہ داری قرار دیتی ہے جس کی تکمیل کے لیے ریاست کو مؤثر ادارہ جاتی اور پالیسی اقدامات کرنا ہوتے ہیں۔ نشست میں علم حاصل کرنے اور غور و مشاہدے اور معروضی استدلال کے ذریعے اس میں اضافے کی مذہبی  ہدایت کا بھی حوالہ دیا گیا۔

شرکا نے اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف بالخصوص ایس ڈی جی 4 کے تحت پاکستان کے بین الاقوامی تعلیمی عزم کو بھی اجاگر کیا جس کا مقصد معیاری تعلیم اور زندگی بھر سیکھنے کے مواقع کی فراہمی ہے۔ آئینی اور بین الاقوامی وعدوں کا یہ امتزاج ریاست پر واضح ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ وہ داخلہ بڑھانے، تعلیمی محرومی کم کرنے اور بچوں کے حقِ تعلیم سے استفادے کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر طریقہ کار وضع کرے۔

مزید پڑھیے: اسلام آباد میں 89 ہزار بچے اسکول سے باہر، وزارت تعلیم کی سینیٹ میں رپورٹ

شرکا نے زور دیا کہ اسکول سے باہر بچوں کے مسئلے کا حل محض داخلوں کے اہداف مقرر کرنے سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے ان بنیادی اور ساختی عوامل پر مسلسل توجہ دینا ہوگی جو بچوں کو باقاعدہ تعلیمی نظام سے باہر رکھنے کا سبب بنتے ہیں، جبکہ پالیسیوں پر مؤثر عمل درآمد اور متعلقہ اداروں کے درمیان بہتر رابطہ و تعاون بھی ضروری ہے۔

اس موقعے پر یہ بھی بتایا گیا کہ یہ نشست آئی پی ایس کی پاکستان کی سماجی ترقی اور عوامی پالیسی سے متعلق اہم مسائل پر وسیع تر علمی و تحقیقی سرگرمیوں کا حصہ ہے۔ بچوں کی تعلیم کے حوالے سے اپنے کام کے ذریعے ادارہ باخبر پالیسی مباحث کو فروغ دینے اور ریاست کی آئینی ذمہ داری پوری کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی تعلیمی فریم ورک کے تحت ملک کے وعدوں کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اس موقعے پر آئی پی ایس کے چیئرمین خالد رحمان نے گفتگو کرتے ہوئے تعلیم کو قومی ترجیحات میں نمایاں مقام دینے پر زور دیا۔

مزید پڑھیں: امریکا اور پاکستان کے درمیان تعلیمی شراکت داری مزید مضبوط، 5 سالہ معاہدہ طے

انہوں نے کہا کہ ہر بچے کو معیاری اور ہمہ گیر تعلیم کی فراہمی کے لیے حکومت کے تمام سطحوں پر متعلقہ اداروں اور معاشرے کو مشترکہ اور مربوط کوششیں کرنا ہوں گی تاکہ کوئی بچہ تعلیم سے محروم نہ رہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp