بھارت کی مودی حکومت ایک طرف برکس سربراہ اجلاس کی میزبانی کو اپنی سفارتی کامیابی کے طور پر پیش کرنے میں مصروف ہے، تو دوسری جانب سابق وزیر خزانہ اور کانگریس رہنما پی چدمبرم نے حکومت کی سفارتکاری کی کارکردگی پر ہی سوال اٹھا دیے۔ برکس سے عملی فوائد نہ ملنے کے سوال پر بی جے پی نے جواب دینے کے بجائے کانگریس کے دور حکومت کو نشانے پر رکھ دیا۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق پی چدمبرم نے کہا کہ بھارت برکس، شنگھائی تعاون تنظیم، جی 20 اور کواڈ سمیت کئی اہم عالمی اتحادوں کا حصہ ہے، لیکن گزشتہ 3-2 برکس اجلاسوں سے بھارت کو کوئی نمایاں اور ٹھوس فائدہ نظر نہیں آیا۔
No Benefits For India From BRICS, Says P Chidambaram, BJP Asks What Did Congress Dohttps://t.co/hpxWszQK3z pic.twitter.com/xtgsPXJ912
— NDTV (@ndtv) September 10, 2026
چدمبرم کا کہنا تھا کہ ماضی میں برکس اجلاسوں سے کچھ عملی نتائج سامنے آتے تھے، تاہم حالیہ برسوں میں ایسا دکھائی نہیں دیتا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اتنے بڑے عالمی اتحادوں میں شامل ہونے کے باوجود بھارت کو آخر کیا فائدہ حاصل ہورہا ہے۔
کانگریس رہنما کے اس سوال کا براہ راست جواب دینے کے بجائے بی جے پی رہنما نلن کوہلی نے کانگریس کی سفارتکاری پر ہی سوال داغ دیا۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا کانگریس سفارتکاری کو صرف ’دینا اور لینا‘ سمجھتی ہے اور ساتھ ہی الزام عائد کیا کہ کانگریس بڑے عالمی ایونٹ پر سیاست کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:برکس میں پاکستان کی شمولیت اور برکس کی اپنی کرنسی آنے کی خبریں
یوں برکس سے حاصل ہونے والے ٹھوس فوائد کا سادہ سا سوال بی جے پی کے لیے الٹا مشکل سوال بن گیا، کیونکہ حکومت کی جانب سے گزشتہ اجلاسوں کے ایسے نمایاں عملی نتائج گنوانے کے بجائے حزب اختلاف کے ماضی کو موضوع بنا دیا گیا۔
بھارت 12 اور 13 ستمبر کو نئی دہلی میں برکس سربراہ اجلاس کی میزبانی کرے گا۔ بھارت نے رواں سال یکم جنوری کو برکس کی صدارت سنبھالی تھی، جبکہ تنظیم میں 11 بڑی ابھرتی ہوئی معیشتیں شامل ہیں۔














