یہ ساون کی ایک حبس زدہ دوپہر تھی۔ ظہر کی اذانوں میں ابھی سوا گھنٹہ رہتا تھا۔ رشید نواز کی چھوٹی صاحبزادی آدھی چھٹی لے کر گھر میں وارد ہوئی۔ اس کی ماں، جمیلہ رشید نے تندور میں روٹیاں لگانے کے بعد چائے کی دیگچی رکھ دی تھی کہ الگ سے چولھا جلانے کی ضرورت نہ پڑے اور چائے میں تیز ابال ذائقے کو بھی راحت پہنچائے۔
اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔ رشید صاحب ابھی اٹھنے کی ہمت کر ہی رہے تھے کہ ان کے بہنوئی منیر اکرم اپنی بیوی اور بیٹی کے ہمراہ صحن میں پہنچ چکے تھے۔ گاؤں میں اول تو دستک دینے کا رواج ہی نہیں ہوتا کہ موقع پا کر گھر کے اندر کی کارروائی میڈیا کے نمائندے کی طرح کور کی جا سکے، اور اگر دستک دیں بھی تو اتنا وقت بھی انتظار نہیں کرتے جتنا کمر بند کو اچھی طرح باندھنے کے لیے چاہیے ہوتا ہے۔
’’ہائے، میں صدقے جاؤں اپنے بھائی کے، ہمیں تو بتایا ہی نہیں کسی نے! یہ تو نائلہ نے صبح سکول جانے سے انکار کیا کہ میری سہیلی فرزانہ آج سکول نہیں آئے گی، اس کے ابو بیمار ہیں، اس لیے مجھے بھی نہیں جانا۔‘‘
ابھی رحمت بیگم کی بات ختم ہی نہیں ہوئی تھی کہ منیر صاحب نے طنز کا تیر کمان پر رکھتے ہوئے کہا، ’’ارے رحمت بیگم، رہنے دو ناں! انہوں نے کب ہمیں اپنا سمجھا ہے؟ یہ تو چاہتے ہی نہیں کہ کوئی ان کی خبر لینے کو آئے اور نہ ہی خود کبھی کہیں گئے۔ قصور ان کا بھی نہیں، خون ہی سفید ہو گیا ہے ہر کہیں۔‘‘
جمیلہ رشید سفید ڈش پر چار کپ چائے اور ایک چھوٹی پلیٹ رکھ کر لائی، جس میں بسکٹ اور نمکو مساوی جگہ لیے ہوئے تھے۔
’’یہ کیا؟ ہم پانچ لوگ ہیں اور چائے کے چار کپ؟‘‘ رحمت بیگم نے پوچھا تو رشید نواز نے خود ہی دفاعی پوزیشن سنبھالتے ہوئے کہا، ’’مجھے ڈاکٹر نے منع کی ہے۔‘‘
لیکن منیر صاحب تو جملہ زبان پر لا ہی چکے تھے، واپس کیسے کرتے کہنے سے؟
’’سمجھ گئے، دودھ کی بچت ہو رہی ہے۔‘‘
’’ارے نہیں، نہیں، دودھ تو اپنا ہوتا ہے۔ اللہ کا شکر ہے، کسی کے دروازے پر نہیں جانا پڑتا۔‘‘
جمیلہ اس طنز کو بھی خاطر میں نہ لائیں۔
’’ارے بھئی، جب دودھ گھر کا ہے تو میرے بھائی کو گرم کر کے دیا کرو ناں، اس میں سبز الائچی اور بادام بھی ڈال دیا کرو۔ دیکھو تو، کتنے کمزور ہو گئے ہیں۔‘‘
رشید صاحب نے ترچھی نظروں اور دبی مسکراہٹ سے جمیلہ کی طرف دیکھا، جو کندھے اچکاتے ہوئے ساتھ والی چارپائی پر بیٹھ گئیں۔
منیر صاحب اپنی فیملی کے ہمراہ اس عہد پر واپس گئے کہ لمحہ بہ لمحہ ہمیں اپنی صحت کے بارے میں خبردار کرتے رہنا؛ گویا بخار نہ ہوا، فاریکس ٹریڈنگ کی لاٹ ہو گئی۔
ایک آدھ گھنٹے بعد دروازے پر پھر سے دستک ہوئی۔ اب کی بار جمیلہ رشید کی بہن سارہ اپنے بیٹے تجمل کے ساتھ آ پہنچیں۔
’’ارے بھلا ہو رحمت بیگم کا! اس نے تو فوری فون کر دیا اور تو نے سگی بہن ہوتے ہوئے بھی بتانا گوارا نہ کیا۔ بھائی کیسے ہیں اب؟ ہائے، ان کی آنکھوں کو کیا ہوا؟ بہت زرد لگ رہی ہیں۔‘‘
سارہ نے آدھی باتیں تو چادر اتارنے سے پہلے ہی کر لی تھیں۔
’’خالہ جان! انکل نے ٹیسٹ کروائے ہیں؟ کون سی دوائی لے رہے ہیں؟ اور ہاں، کسے دکھایا تھا؟‘‘
تجمل میاں نے ایک ہی سانس میں تینوں سوال ایسے داغے، گویا کسی ہسپتال میں پریکٹس کر رہے ہوں۔
’’ارے، برخوردار، پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ ہمارے محلے کے بشیر صاحب نے دیکھا ہے۔ کچھ اینٹی بایوٹکس لکھ کر دی ہیں اور کہہ رہے تھے کہ ہلکا بخار ہے، دو دن میں ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘
’’ارے خالو، وہ تو عطائی ڈاکٹر ہیں، انہیں دکھانے کی کیا ضرورت تھی؟ آپ کل ڈاکٹر ضرغام صاحب کو دکھائیں۔ شہر میں بیٹھتے ہیں، پچیس سو روپے فیس ہے ان کی، لیکن آرام آ جاتا ہے۔‘‘
تجمل کی پُراعتماد گفتگو نے رشید صاحب کو بجٹ بیلنس کرنے کی تدبیر پر لگا دیا۔
اب دھوپ ڈھل چکی تھی۔ شام کے سائے دراز ہو رہے تھے۔ رشید صاحب صحن میں رکھی بڑی چارپائی پر آرام کرنے کی غرض سے لیٹے ہی تھے کہ پھر سے دستک ہوئی۔ اب کی بار رشید صاحب کے دونوں بھائی، نوید اور سعید، تھے۔ فرزانہ نے جلدی سے دروازہ کھولا اور انہیں اندر آنے کو کہنے کی ضرورت ہی نہیں پڑی۔
’’اچھا، اب یہ دن دیکھنے تھے؟ ہمیں آپ کی صحت کا غیروں سے پتا چلے گا؟‘‘
نوید صاحب کھری کھری سنانے کے موڈ میں تھے کہ سعید نے انہیں ٹوکتے ہوئے کہا، ’’بھیا، میں تو آپ کو پہلے بھی کئی بار کہہ چکا ہوں کہ یہ بہت لاپرواہ ہے۔ اسے اپنی فکر ہے نہ کسی اور کی۔‘‘
رشید صاحب کی طبیعت میں تھوڑا چڑچڑا پن ضرور آیا کہ یہ کیا طریقہ ہے؟ آتے ہی گلے شکوے شروع ہو گئے۔ پہلے حال احوال تو دریافت کر لیتے۔ مگر انہوں نے ضبط کرنے کو ترجیح دی۔
جمیلہ سلام کرتے ہی کچن میں چلی گئیں اور کولڈ ڈرنک سے بھرے دو شیشے کے گلاس ٹرے پر سجا کر حاضر ہوئیں۔ مشروب کے بعد رشید صاحب نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ کوئی ایسی بات نہیں، اگر کچھ ہوتا تو پہلے آپ کو ہی بتاتے، لیکن معمولی سے بخار پر کیا زحمت دینا تھی۔
تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ دروازے پر نسوانی آوازیں بلند ہونا شروع ہوئیں۔ رشید صاحب کے بھائیوں نے جانے میں ہی عافیت جانی، اس تسلی کے ساتھ کہ کسی قسم کے تعاون کی ضرورت محسوس ہوئی تو آپ کے بھتیجے حاضر ہوں گے۔
اب کی بار ہاجرہ اور شاہدہ شکووں کے پلندے لیے دہلیز عبور کر رہی تھیں۔
’’جمیلہ بہن، اب ہم محلے دار ہیں، اتنے گئے گزرے بھی نہیں کہ آپ دکھ سکھ ہی نہ بانٹیں، یا پھر سچ بتا ہی دیں کہ آپ ہمیں اس قابل نہیں سمجھتیں۔‘‘
’’نہیں بہن، ایسی کوئی بات نہیں۔ رشید اچھے بھلے تو ہیں، بس بخار کی شکایت ہو رہی تھی۔ اب تو پہلے سے بہتر ہیں۔ اچھا، سنیں، کھانا کھا کر جائیے گا۔ شام ہو رہی ہے، اب کہاں جا کر بنائیں گی؟‘‘
جمیلہ نے تو وضع داری نبھانے کی کوشش کی، مگر انہوں نے اپنے اپنے گھر والوں کو فون پر بتا دیا کہ ہم شام کا کھانا کھا کر آئیں گے، بہن بہت ضد کر رہی ہے۔
رات اپنی کالی چادر پھیلا چکی تھی۔ رشید نواز کو سردی اور جسم میں ہلکا سا درد محسوس ہو رہا تھا۔ جمیلہ نے گرم دودھ کا کپ انہیں دیتے ہوئے کہا، ’’میں سوچ رہی ہوں، کل شہر چلے جائیں۔ کسی اچھے سے ڈاکٹر کو دکھائیں۔ مصیبت کا کب پتا چلتا ہے کہ ختم ہو یا پھر بڑھتی چلی جائے۔‘‘
رشید نواز نے گہرا سانس لیتے ہوئے کہا، ’’جمیلہ بیگم، ایک مصیبت تو وہ ہوتی ہے جو خدا کی طرف سے آزمائش ہوتی ہے، وہ تو ختم ہو جاتی ہے، لیکن ان مصیبتوں کا کیا کریں جو محلے داروں اور ان کی فضول باتوں کی صورت میں نازل ہو جاتی ہیں؟ گویا وہ رشید نواز کے بخار کی تاک میں بیٹھے ہوں کہ ادھر ہلکا سا بخار ہو، ادھر یہ سب ٹوٹ پڑیں۔‘‘
جمیلہ نے مسکراتے ہوئے کہا، ’’رشید صاحب، تیمارداری بھی تو سنت ہے۔ لوگ آپ کی خبر لینے آتے ہیں تو اس میں ان کا کیا قصور؟‘‘
رشید نواز نے کھانستے ہوئے کہا، ’’اوہو، جمیلہ بیگم، اس میں تو کوئی شک نہیں کہ تیمارداری اچھی چیز ہے، سنت پر بھلا کس کو اعتراض ہو سکتا ہے؟ لیکن سنت ادا کرنے کے بھی تو طور طریقے ہوتے ہیں، اب مریض کا سکون اور آرام بھی تو کوئی معنی رکھتا ہے کہ نہیں؟‘‘
’’میں کل شہر ضرور جاؤں گا، لیکن ڈاکٹر کے پاس نہیں، بلکہ اپنے پرانے دوست احمد خان کی چوپال پر، کہ ایک تو طبیعت ہلکی ہو جائے گی، دوسرا تیمارداروں کا جو تانتا بندھا رہتا ہے اس میں بھی کمی آئے گی.”
جمیلہ نے خالی کپ اٹھاتے ہوئے کہا، ’’ٹھیک ہے، پھر مجھے بھی اپنی سہیلی کے پاس چھوڑ دینا۔ میں اکیلی کب تک مہمان بھگتوں گی؟ رہی بات فرزانہ کی تو اسے بھی ساتھ لے چلیں گے۔‘‘
’’ہاں، ٹھیک ہے۔ پھر صبح سویرے تیار رہنا اور اپنی سہیلی کو ابھی سے اطلاع کر دو۔‘‘
رشید صاحب نے یہ کہتے ہوئے کمبل منہ پر لیا اور سو گئے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔














