کراچی کا ایک صدی سے زائد پرانا جذام اسپتال گزشتہ 4 دہائیوں سے ایسے افراد کا گھر بنا ہوا ہے جو بیماری سے صحت یاب ہونے کے باوجود معذوری، بیماری اور معاشرتی رویوں کے باعث اپنے گھروں کو واپس نہیں جا سکے۔ ان میں بنگلہ دیش سے 1984 میں علاج کے لیے کراچی آنے والے نور اسلام بھی شامل ہیں، جو 61 برس کی عمر میں آج بھی اسپتال میں دوسروں کی دیکھ بھال کر رہے ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق نور اسلام 19 برس کی عمر میں بنگلہ دیش سے کراچی پہنچے تھے۔ جذام کے باعث انہیں معاشرتی طعنوں اور تنہائی کا سامنا تھا۔ وہ تقریباً 2 سال کے علاج کے بعد صحتیاب ہوگئے، تاہم واپس جانے کے بجائے کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے منگھوپیر میں قائم جذام اسپتال میں رہنے کا فیصلہ کیا۔
نور اسلام نے کے ایم سی میں مالی کی حیثیت سے کام کیا، شادی کی اور پاکستان میں اپنے 7 بچوں کی پرورش کی۔6 ماہ قبل ملازمت سے ریٹائر ہونے کے باوجود وہ اسپتال کے پودوں کی دیکھ بھال، مریضوں کی خیریت معلوم کرنے اور خوراک و ادویات کے انتظام میں مدد کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:جذام کی روک تھام کا عالمی دن آج، عوام میں شعور بیدار کرنا ناگزیر
1896 میں قائم ہونے والا یہ ادارہ ابتدا میں ’ہیرانند لیپر اسپتال‘ کے نام سے قائم کیا گیا تھا اور 1960 میں اس کا انتظام شہری حکام کے سپرد کیا گیا۔
اسپتال میں رہنے والے کئی سابق مریض علاج مکمل ہونے کے باوجود معذوری یا معاشرتی مشکلات کے باعث یہاں مقیم ہیں۔ سابق میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر محمد علی عباسی کے مطابق علاج میں پیشرفت سے نئے مریضوں کی تعداد کم ہوئی ہے، تاہم جن افراد کے لیے معاشرے میں دوبارہ زندگی شروع کرنا ممکن نہیں، ان کے لیے یہ اسپتال اب بھی پناہ گاہ ہے۔
عرب نیوز نے اسپتال کی خستہ حالی، ٹوٹی چھتوں اور بجلی کی طویل بندش کا بھی مشاہدہ کیا۔ نور اسلام کے مطابق عمارت کی حالت خراب ہوچکی ہے، مگر وہ اور دیگر رہائشی اب بھی ایک دوسرے کا سہارا بنے ہوئے ہیں۔













