اسلام آباد ہائیکورٹ میں بانی پی ٹی آئی کے ایکس اکاؤنٹ پر پابندی اور وکیل کو ان سے ملاقات کی اجازت نہ دینے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جس دوران اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے دوران سیاسی گفتگو کی جاتی ہے، اس لیے ملاقات نہیں کرائی جا سکتی۔
سماعت کے دوران وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ وہ بانی پی ٹی آئی سے مشاورت کے بغیر مقدمے کے میرٹس پر دلائل نہیں دے سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت کے حکم کے باوجود انہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں کرائی گئی، حالانکہ اگر جیل حکام کو عدالتی حکم پر اعتراض تھا تو انہیں اپیل دائر کرنی چاہیے تھی۔
یہ بھی پڑھیں:عمران خان جیسی سہولیات نہ ملنے پر اڈیالہ جیل کے 3 قیدیوں کا فیڈرل آئینی عدالت سے رجوع
جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیے کہ اگر سلمان اکرم راجہ یہ یقین دہانی کرائیں کہ ملاقات میں سیاسی گفتگو نہیں ہوگی تو کیا انہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت دی جائے گی؟ عدالت نے ریاستی حکام سے آئندہ سماعت پر اس معاملے پر واضح جواب طلب کرلیا۔
سلمان اکرم راجہ نے مؤقف اختیار کیا کہ بانی پی ٹی آئی اس مقدمے کے مرکزی فریق ہیں اور انہیں اپنے وکیل کو ہدایات دینے کی اجازت ہونی چاہیے۔ جسٹس ارباب محمد طاہر نے سوال کیا کہ اگر وکیل بانی پی ٹی آئی کی نمائندگی کر رہے ہیں تو انہیں ہدایات لینے سے کیوں روکا جا رہا ہے؟
سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے مؤقف سے متعلق بھی سوال کیا گیا۔ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کی جانب سے معاون وکیل عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ بیرسٹر گوہر شہر میں موجود نہیں، وہ آئندہ سماعت پر پیش ہوں گے۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں۔
عدالت نے مقدمے کے میرٹس پر آئندہ سماعت پر دلائل طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔














