قطر سے پاکستان کے لیے آنے والی 81 ہزار 936 میٹرک ٹن ایل این جی کی اہم کھیپ پورٹ قاسم پہنچ گئی۔
ترجمان پورٹ قاسم اتھارٹی کے مطابق ایل این جی بردار جہاز المرونہ پورٹ قاسم کے ٹرمینل نمبر 2 پر لنگر انداز ہوگیا ہے۔ جہاز قطر کے راس لفان ٹرمینل سے ایل این جی لے کر پاکستان پہنچا ہے۔
مزید پڑھیں:قطر کی ایل این جی کھیپ آبنائے ہرمز سے گزر گئی، 2 روز میں پورٹ قاسم پہنچے گی
اس سے قبل پاکستان کے لیے قطر سے آنے والی ایل این جی کی کھیپ آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزر گئی تھی۔ جہاز 7 ستمبر کو آبنائے ہرمز سے گزرا تھا اور اب پورٹ قاسم پہنچ چکا ہے۔
یہ کھیپ پاکستان اور قطر کے درمیان حکومت سے حکومت کے معاہدے کے تحت بھیجی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایل این جی کی آمد سے ملک کے بجلی کے شعبے کو عارضی ریلیف ملنے کی توقع ہے، جہاں بعض علاقوں میں 6 سے 12 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کی اطلاعات ہیں۔
یہ کھیپ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ جولائی میں آبنائے ہرمز کے گرد کشیدگی بڑھنے کے بعد خلیج فارس سے روانہ ہونے والی قطر کی پہلی ایل این جی کھیپ ہے جو آبنائے سے گزر کر پاکستان پہنچی ہے۔
مزید پڑھیں:گیس صارفین کے لیے بُری خبر، ایل این جی کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا
دوسری جانب پاکستان ایل این جی لمیٹڈ نے 5 ستمبر کو جاری کیا گیا اسپاٹ ایل این جی ٹینڈر بھی منسوخ کردیا ہے، جسے 8 ستمبر کو کھولا جانا تھا۔
قطر سے ایل این جی کی اس کھیپ کی محفوظ ترسیل سے ایشیائی اور یورپی منڈیوں میں سپلائی میں طویل تعطل کے خدشات کچھ کم ہوئے ہیں، تاہم آبنائے ہرمز میں مستقبل میں کسی نئی رکاوٹ کی صورت میں پاکستان کی توانائی سلامتی، ایل این جی کی خریداری کی لاگت اور بجلی کی پیداوار پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔














