امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے پر پچھتاوے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر انہیں دوبارہ فیصلہ کرنے کا موقع ملے تو وہ وہی اقدام کریں گے۔
ٹرمپ نے یہ بات فاکس نیوز کی میزبان لورا انگراہم کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔ ٹرمپ سے سوال کیا گیا تھا کہ کیا وہ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات پر جنگ کے ممکنہ منفی اثرات کے باعث اپنے فیصلے پر افسوس کرتے ہیں؟ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ’پچھتاوے‘ کے لفظ پر یقین نہیں رکھتے اور اگر دوبارہ موقع ملا تو وہ بالکل وہی کریں گے جو انہوں نے کیا۔
مزید پڑھیں:ڈونلڈ ٹرمپ کی تصویر والا ایک ڈالر کا سکہ جاری، امریکی تاریخ میں نیا باب
امریکی صدر نے کہا کہ ان کے حامی ایران کے خلاف جنگ سے مایوس نہیں بلکہ اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روک رہے ہیں۔ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ جنگ امریکی وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ختم ہوجائے گی۔
رائٹرز کے مطابق ایران جنگ کے نتیجے میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کا معاملہ امریکی ریپبلکن پارٹی کے لیے انتخابات سے قبل اہم سیاسی مسئلہ بن گیا ہے۔
🚨 “Why not just give the money NOW?”
I asked President Trump about his newly announced $5,000 dividend proposal.
Trump: “With us it’s so positive… All because of that beautiful word that you and I love more than most others: Tariffs.”
Watch my interview with President Trump… pic.twitter.com/L16u9Gs0ep
— Laura Ingraham (@IngrahamAngle) September 10, 2026
ٹرمپ نے الزام عائد کیا ہے کہ ایران امریکی انتخابات پر اثرانداز ہونے کی کوشش کررہا ہے، کیونکہ تہران کو خدشہ ہے کہ ڈیموکریٹس برسرِ اقتدار آکر ایران کے ساتھ زیادہ نرمی برتیں گے۔
امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملے شروع کیے تھے، جس کے بعد ایران نے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ رائٹرز کے مطابق جنگ میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوچکے ہیں، جبکہ خطے میں جاری کشیدگی نے توانائی کی قیمتوں کو بھی متاثر کیا ہے۔
ٹرمپ جنگ کا ایک اہم مقصد ایران کی جوہری صلاحیت کمزور کرنا قرار دیتے ہیں، جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا یورینیم افزودگی پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور اس کے پاس جوہری ہتھیار موجود نہیں۔ ادھر نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو کانگریس میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے کے لیے سخت سیاسی مقابلے کا سامنا ہے۔














