سپریم کورٹ نے گردہ پیوند کاری کیس میں ڈاکٹر نادر بارے اہم فیصلہ سنا دیا

جمعہ 11 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ نے گردوں کی مبینہ غیر قانونی پیوند کاری میں ملوث ڈاکٹر نادر کی ضمانت منظور کرلی۔ جسٹس جمال مندوخیل کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران جسٹس ملک شہزاد نے ریمارکس دیے کہ اگر ٹرانسپلانٹ کے لیے ڈونر نہیں مل رہا تو مریض کیا کرے؟ مریض مر رہے ہوتے ہیں تو ایسے میں ٹرانسپلانٹ کروانا پڑتا ہے۔

مزید پڑھیں:سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کو بلیک لسٹ کرنے کی درخواست خارج کردی

ان کا کہنا تھا کہ بعض اوقات مجبوری میں ہی ٹرانسپلانٹ کروانا پڑتا ہے اور رشتہ دار بھی گردہ دینے کو تیار نہیں ہوتے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اگر رشتہ دار گردہ نہ دے تو خصوصی اجازت لینا ہوتی ہے۔ تفتیشی افسر نے بتایا کہ جنوبی پنجاب میں بھٹہ مزدوروں کو لا کر ان کے گردے نکالے جاتے ہیں، جبکہ ڈاکٹر کے موبائل کے فرانزک سے معلوم ہوا کہ وہ 65 ٹرانسپلانٹ کیسز میں شامل رہا ہے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا ڈاکٹر مریض کو چیک کرنے سے پہلے اس کا شناختی کارڈ چیک کرے؟ ڈاکٹر تو بہت مصروف ہوتے ہیں۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ متعلقہ ڈاکٹر صرف گردوں کے ٹرانسپلانٹ میں مصروف تھا۔ تفتیشی افسر کے مطابق ڈاکٹر کا لکھا ہوا نسخہ بھی قبضے میں لیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:سپریم کورٹ نے سرکاری ملازمین کے بچوں کو نوکریاں دینے کی پالیسی پر فیصلہ محفوظ کرلیا

تفتیشی افسر نے بتایا کہ موجودہ کیس میں ٹرانسپلانٹ ہونے سے پہلے ہی ڈاکٹر کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔ جسٹس ملک شہزاد نے ریمارکس دیے کہ ہوسکتا ہے ٹرانسپلانٹ ہوا ہی نہ ہوتا۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت سے کیس کا جلد فیصلہ کرنے کی ہدایت کی استدعا کی۔ جسٹس ملک شہزاد نے کہا کہ ماتحت عدالتوں میں پہلے ہی بہت مقدمات ہیں، جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ اس کا مطلب ہے لوگوں کا عدالتوں پر اعتماد ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp