جامعہ کراچی کے پروفیسر عارف ساقی پر تشدد کیس: مرکزی ملزم کونین شاہ گرفتار، ہوٹل سیل

جمعہ 11 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کراچی میں جامعہ کراچی کے معروف استاد پروفیسر ڈاکٹر عارف خان ساقی پر بااثر افراد کی جانب سے تشدد اور غیر قانونی طور پر محبوس رکھنے کے کیس میں پولیس نے اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے مرکزی ملزم کونین شاہ کو گرفتار کر لیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق نامزد ملزم کونین شاہ کے بیرونِ شہر فرار ہونے کا شدید خدشہ تھا جس پر فوری کارروائی کرتے ہوئے اسے حراست میں لے لیا گیا۔ اس سے قبل چیئرپرسن قائمہ کمیٹی برائے داخلہ سندھ فریال تالپور نے بھی مرکزی ملزم کی اب تک عدم گرفتاری اور کارروائی میں تاخیر پر شدید برہمی کا اظہار کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے طلبا کے لیے ڈریس کوڈ کا اعلان کیوں کیا؟ جامعہ کراچی نے وضاحت کردی

انویسٹی گیشن پولیس سچل کے انچارج انسپکٹر پرویز میرانی کے مطابق، ایس ایس پی ایسٹ عثمان سدوزئی کے احکامات پر پولیس کی بھاری نفری نے صفورہ چورنگی کے قریب واقع ‘سندھ گرین ہوٹل’ کو گھیرے میں لے کر مکمل طور پر سیل کر دیا ہے اور وہاں اہلکار بھی تعینا ت کر دیے گئے ہیں۔ کیس کی تفتیش کے دوران اب تک مجموعی طور پر 5 ملزمان کو گرفتار کر کے جسمانی ریمانڈ حاصل کیا جا چکا ہے جبکہ دیگر روپوش ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

واقعے کا پس منظر

یاد رہے کہ 8 ستمبر کی صبح صفورہ چورنگی کے قریب پروفیسر عارف ساقی اور ان کے بھتیجے محمد وحید (جو آن لائن رائڈ ہائلنگ سروس کا ڈرائیور ہے) کے ساتھ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ہوٹل سے نکلنے والی ایک ڈبل کیبن گاڑی نے ان کی کار کو ٹکر مار کر نقصان پہنچایا۔

یہ بھی پڑھیے کچرا جلانے سے کیوں منع کیا؟ جامعہ کراچی کے پروفیسر تشدد کا نشانہ بن گئے

پروفیسر عارف ساقی کے مطابق جب ان کے بھتیجے نے گاڑی کے نقصان کے ازالے کا مطالبہ کیا تو ڈبل کیبن میں موجود بااثر افراد اور ان کے سیکیورٹی گارڈز نے بدتمیزی شروع کر دی۔ ملزمان نے ہوائی فائرنگ کی، پروفیسر اور ان کے بھتیجے کو دھکے دیے اور پستول کے بٹوں سے سر پر وار کر کے شدید زخمی کر دیا۔ بعد ازاں ملزمان دونوں افراد کو زبردستی گھسیٹ کر اپنے ریسٹورنٹ کے اندر لے گئے جہاں انہیں غیر قانونی طور پر محبوس رکھا گیا اور دوبارہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

ادارتی و حکومتی نوٹس

واقعے کے فوری بعد پولیس نے پروفیسر عارف ساقی کی مدعیت میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 147، 148، 149، 324 (اقدامِ قتل) اور 342 (حبسِ بے جا) کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔

اس افسوسناک واقعے پر جامعہ کراچی کی ٹیچرز ایسوسی ایشن نے بھی شدید احتجاج کرتے ہوئے ملزمان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا تھا، جبکہ وزیر داخلہ سندھ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی ایسٹ سے تفصیلی رپورٹ طلب کی تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کی تفتیش بلا امتیاز جاری ہے اور قانون کے مطابق تمام تقاضے پورے کیے جائیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp