میٹا نے فیس بک اور انسٹاگرام پر بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد (سی ایس اے ایم) پر مبنی یا اسے فروغ دینے والے سینکڑوں ادائیگی شدہ اشتہارات چلائے جن میں سے درجنوں بھارت میں اس وقت بھی چلتے رہے جب حکام نے کمپنی کو ایسا مواد ہٹانے کا حکم دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: میٹا کیخلاف بچوں کو سوشل میڈیا کا عادی بنانے کا مقدمہ، اربوں ڈالر کے تصفیے پر اختتام
امریکا میں قائم تنظیم ٹیک ٹرانسپیرنسی پروجیکٹ (ٹی ٹی پی) نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران ایسے 332 اشتہارات کی نشاندہی کی جن میں سے 274 صرف اگست میں سامنے آئے۔ ان میں سے 84 اشتہارات بھارت میں چلے جن میں 78 ایسے تھے جو بھارتی حکومت کی جانب سے میٹا کو ایسا مواد ہٹانے کا حکم دیے جانے کے بعد بھی نشر ہوتے رہے۔
ٹی ٹی پی کے مطابق کئی اشتہارات میں مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے حقیقی بچوں کی تصاویر کو غیر مناسب انداز میں تبدیل کیا گیا تھا۔ کچھ اشتہارات صارفین کو اے آئی کے ذریعے تصاویر اور ویڈیوز تیار کرنے والی ایپلیکیشنز کی جانب راغب کر رہے تھے۔
بھارتی حکم کے بعد بھی میٹا کے اشتہارات جاری رہے
یہ انکشافات بی بی سی کی ایک سابقہ تحقیقاتی رپورٹ کے بعد سامنے آئے ہیں، جس میں بھارت میں انسٹاگرام پر ایسے ادائیگی شدہ اشتہارات کی نشاندہی کی گئی تھی۔ اس کے بعد بھارتی اداروں، بشمول نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس اور نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن نے اس معاملے کی جانچ شروع کی تھی۔
ٹی ٹی پی کے مطابق اس نے بھارت میں نشاندہی کیے گئے 84 اشتہارات میں سے 55 کو میٹا کے رپورٹنگ نظام کے ذریعے رپورٹ کرنے کی کوشش کی۔
تنظیم کے مطابق میٹا نے ابتدائی طور پر جواب دیا کہ 43 اشتہارات اس کے اشتہاری معیارات کی خلاف ورزی نہیں کرتے جبکہ 11 پہلے ہی ہٹائے جا چکے تھے۔
بعد ازاں میٹا نے ٹی ٹی پی کی جانب سے براہِ راست رپورٹ کیے گئے تمام اشتہارات ہٹا دیے۔
کمپنی کا کہنا تھا کہ وہ بچوں کے استحصال یا ایسی ایپلیکیشنز جو غیر اخلاقی تصاویر تیار کرنے کے لیے بنائی گئی ہوں کو کسی صورت برداشت نہیں کرتی۔
میٹا نے مزید بتایا کہ نشاندہی کیے گئے کئی اشتہارات پہلے ہی ہٹائے جا چکے تھے ان میں سے زیادہ تر کو 200 سے کم بار دیکھا گیا تھا اور مجموعی اشتہاری اخراجات 5000 ڈالر سے کم تھے۔
بھارت میں سخت اقدامات کا مطالبہ
بچوں کے تحفظ کے نیٹ ورک ’جسٹ رائٹس فار چلڈرن‘ کے بانی بھونن ربھو نے کہا کہ سوشل میڈیا کمپنیوں کو ایسے افراد کی نشاندہی کر کے انہیں بھارتی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو رپورٹ کرنا چاہیے جو اس طرح کے مواد کو فروغ دیتے ہیں۔
ان کی تنظیم نے بھارت کی سپریم کورٹ میں ایک درخواست بھی دائر کر رکھی ہے جس میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لیے لازمی رپورٹنگ کی شرائط کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ٹی ٹی پی کے مطابق میٹا کو اپنے نتائج سے آگاہ کیے جانے کے بعد بھی نئے اشتہارات سامنے آتے رہے جن میں 11 اشتہارات ایسے بھی شامل ہیں جو یکم اور 2 ستمبر کو بھارت میں چلائے گئے۔
میٹا کا کہنا ہے کہ اس کا اشتہاری جائزہ نظام بنیادی طور پر خودکار نظاموں پر انحصار کرتا ہے جو تصاویر، ویڈیوز، متن، آڈیو، ٹارگٹنگ اور منزلی لنکس کا جائزہ لیتے ہیں۔














