امیرِ جماعتِ اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے پیٹرولیم لیوی اور ایندھن پر عائد بھاری ٹیکسوں کے خلاف 20 ستمبر کو ملک بھر سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔
گجرانوالہ میں دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے امیرِ جماعتِ اسلامی نے واضح کیا کہ اگر حکومت نے پیٹرولیم لیوی کا فوری خاتمہ نہ کیا تو 20 ستمبر کو ملک بھر سے لاکھوں عوام اسلام آباد کا رخ کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں:’حق دو عوام کو‘ تحریک 26 جولائی کو اسلام آباد سے شروع ہوگی، امیر جماعت اسلامی کا اعلان
انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ حکومت چاہے جتنے بھی کنٹینرز لگا کر راستے بند کر لے، عوام تمام تر رکاوٹیں ہٹا کر ہر صورت وفاقی دارالحکومت پہنچیں گے۔
پیٹرولیم قیمتوں اور غیر منصفانہ ٹیکسوں پر تشویش
حافظ نعیم الرحمان نے حکومت سے سوال کیا کہ اگر عالمی مارکیٹ کی تبدیلیوں کو مان بھی لیا جائے، تو مقامی طور پر پیدا ہونے والے ایندھن پر درآمدی آئل جتنی قیمتیں اور بھاری ٹیکسز کیوں عائد کیے جا رہے ہیں؟ ۔
انہوں نے کہا کہ عوام پر لیوی اور ٹیکسز کا بوجھ لاد کر ان کا معاشی استحصال کیا جا رہا ہے جسے کسی طور قبول نہیں کیا جائے گا۔
مزدوروں کے حقوق اور حکمران طبقے پر تنقید
امیرِ جماعتِ اسلامی نے شریف خاندان کی صنعتی پالیسیوں اور مزدور دشمن رویوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کی ملز اور شوگر ملز میں کام کرنے والے مزدوروں کو نہ تو حقوق ملتے ہیں اور نہ ہی انہیں رجسٹرڈ کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ غریب مائیں بہنیں محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہیں جبکہ مریم نواز خود ایک خاتون ہونے کے باوجود خواتین کے استحصال میں برابر کی شریک ہیں۔
پنجاب میں امن و امان اور لندن کے اخراجات کا چیلنج
صوبائی صورتِ حال پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں خواتین کے ساتھ زیادتی کے 6500 مقدمات رپورٹ ہو چکے ہیں، جبکہ دوسری جانب وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز عوامی رقوم پر لندن میں شاہانہ وقت گزار رہی ہیں۔
مزید پڑھیں:مہنگائی اور پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کا دھرنا، 3 ستمبر کو ملک گیر شٹر ڈاؤن کا اعلان
حافظ نعیم نے مریم نواز کو چیلنج دیا کہ وہ اپنے دورہٴ برطانیہ کے تمام اخراجات عوام کے سامنے ظاہر کریں۔
تضاد پر مبنی مالیاتی گوشوارے
خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ مریم نواز، ان کے والد اور چچا غریب عوام کا استحصال کر رہے ہیں۔ یہی حکمران جب اپنے ٹیکس ریٹرن اور مالی گوشوارے جمع کراتے ہیں تو ان کی ظاہر کردہ آمدن ایک عام کاروباری شخص سے بھی کم ہوتی ہے، جو ان کے قول و فعل کے تضاد کو نمایاں کرتی ہے۔














